حکیم اللہ محسود کو شہید قراردینادینی تعلیمات کیخلاف ہے: الطاف حسین

حکیم اللہ محسود کو شہید قراردینادینی تعلیمات کیخلاف ہے: الطاف حسین
حکیم اللہ محسود کو شہید قراردینادینی تعلیمات کیخلاف ہے: الطاف حسین

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک )متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن کی جانب سے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کوشہیدقراردیئے جانے کی شدیدمذمت کی ہے۔اپنے بیان میں الطاف حسین نے کہاکہ آج ملک کے بیشترذرائع ابلاغ میں جماعت اسلامی کے امیر منورحسن کاایک بیان شائع ہواہے جس میں انہوں نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کوشہادت قراردیاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کابچہ بچہ جانتاہے کہ پاکستانی مسلح افواج اورپولیس کے سات ہزار کلمہ گو افسران و اہلکار اورچالیس ہزارسے زائد معصوم وبے گناہ پاکستانی شہری طالبان کے ہاتھو ں شہیدہوچکے ہیں جن میں جید علمائے کرام اورمذہبی سکالرزبھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ سینکڑوں مساجد،امام بارگاہیں، گرجاگھر ، بزرگان دین کے مزارات، لڑکیوں کے اسکول اورمسلح افواج کی تنصیبات طالبان کی دہشت گردی کانشانہ بن چکی ہیں۔ الطاف حسین نے کہاکہ میں مفتیانِ کرام، جید علمائے دین اوراہل قلم ودانش سے سوال کرتاہوںکہ کیا پاکستان کے مسلح افواج اور پولیس کے افسران واہلکاروں،علمائے کرام اور ہزاروں معصوم وبے گناہ شہریوں کے سفاک قاتل کوشہیدقراردیاجاسکتاہے؟کیامساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات اور دیگرمذاہب کی عبادتگاہوں پر خودکش حملے کرنے والوں کوشہیدقراردیاجاسکتاہے؟ انہوں نے سوال کیاکہ اگرہزاروںمعصوم وبے گناہ افرادکے قاتلوں کوشہیدقراردیا جاسکتاہے توان کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے پچاس ہزار سے زائدمسلح افواج اورپولیس کے افسران واہلکاروں ، علمائے کرام اورعام شہریوں کوکیاقراردیاجائے گا؟کیاسفاک قاتل اوربے گناہ مقتول دونوں کوشہیدقراردینا اسلامی تعلیمات اوراسلامی تقاضوں کے مطابق ہے؟ الطاف حسین نے کہاکہ میں سمجھتاہوںکہ جماعت اسلامی کے امیرکی جانب سے طالبان کے سربراہ کی ہلاکت کوشہادت قراردینااسلامی تعلیمات اوررسول اکرم کی تعلیمات اورسنت کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہزاروں معصوم وبے گناہ افرادکے قاتلوں کوشہیدقراردینا حسینیت کے علمبرداروں اوریزیدیت کے ماننے والوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے ۔ الطاف حسین نے تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام اورمفتیان دین سے اپیل کی کہ وہ خاموشی کاقفل توڑیں اور اسلامی شعائر اورتعلیمات کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف سخت احتجاج کریں۔

مزید : کراچی