ایسی عجیب و غریب بیماری جس کے مریض سمجھتے ہیں کہ وہ مردہ ہیں، آگے کیا ہوتا ہے؟ جانئے

ایسی عجیب و غریب بیماری جس کے مریض سمجھتے ہیں کہ وہ مردہ ہیں، آگے کیا ہوتا ہے؟ ...
ایسی عجیب و غریب بیماری جس کے مریض سمجھتے ہیں کہ وہ مردہ ہیں، آگے کیا ہوتا ہے؟ جانئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

برمنگھم (نیوز ڈیسک) انسانی دماغ کا شمار قدرت کی پیچیدہ ترین تخلیقات میں ہوتا ہے اور اگرچہ اکیسویں صدی کا انسان سمجھتا ہے کہ اس نے بڑے بڑے رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے مگر آج بھی انسانی دماغ کے ایسے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ سائیکالوجی اور سائیکاٹری کی دنیا میں ایک ایسا ہی معمہ Cotard's Delusion ہے جس کا شکار شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک چلتی پھرتی لاش ہے اور اس لئے اسے کھانے پینے کی کوئی ضرورت نہیں اور اسے جلد از جلد دفن کر دینا چاہئے یہ 1880ءکی بات ہے کہ فرانسیسی نیورولوجسٹ جولیس کوتارڈ کے پاس ایک معمر خاتون لائی گئی۔ خاتون نے کوٹارڑ کو بتایا کہ اس کے سر میں دماغ نہیں ہے اور نہ ہی جسم میں اعصاب، دل، جگر، معدہ اور دیگر اعضاءہیں۔ یہ خاتون بضد تھی کہ چونکہ وہ مردہ ہے اس لئے اسے کھانے پینے کی ضرورت نہیں اور بالآخر بھوک پیاس کی وجہ سے ہی موت کا شکار ہو گئی۔تب سے ہی اس مرض کو کوٹارڈر ڈیلوزن "Cotard's delusion" یا ”واکنگ کورپس سنڈروم“ کہا جاتا ہے۔ اس عجیب و غریب دماغی بیماری کا تازہ ترین اور مشہور ترین کیس گراہم ہیریسن نامی شخص کی صورت میں سامنے آیا۔ مشہور جریدے ”نیو سائنٹسٹ“ نے اس شخص کا انٹرویو بھی کیا۔

مزید جانئے: آپ سال میں کتنے کیڑے غلطی سے کھا جاتے ہیں،پریشان کن جواب سامنے آگیا 

گراہم نے جریدے کو بتایا کہ وہ مردہ ہے اور چاہتا ہے کہ اسے دفن کر دیا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا علاج بلاوجہ کیا جا رہا ہے کیونکہ ایک مردہ شخص کو گولیوں اور ٹیکوں سے بھلا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ گراہم کا کیس دو مشہور ترین نیورو سرجنوں ڈاکٹر ایڈم زیمین اور ڈاکٹر سٹیون لاریس کے پاس بھیجا گیا۔ ڈاکٹر لاریس نے ”نیو سائنٹسٹ“ کو بتایا کہ انہوں نے جب گراہم کے دماغ کا سکین کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کا دماغ اس حالت میں تھا کہ جیسے کسی بے ہوش شخص کا یا سوئے ہوئے شخص کا دماغ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 15 سال سے دماغ کا تجزیہ کر رہے ہیں لیکن وہ حیران ہیں کہ ایسی دماغی کیفیت کے ساتھ کوئی انسان چلنے پھرنے یا بات کرنے جیسے کام کیسے کر سکتا ہے۔ یہ حیرت انگیز بیماری تاحال لاعلاج ہے۔

مزید جانئے: فالج کے اٹیک کے دوران جان بچانے کا آسان ترین طریقہ، چینی پروفیسر نے بتا دیا، یہ خبر ضرور پڑھیں

مزید :

ڈیلی بائیٹس -