ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ۔۔۔۔۔۔ فروغ تعلیم کی جانب اہم قدم

ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ۔۔۔۔۔۔ فروغ تعلیم کی جانب اہم قدم
ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ۔۔۔۔۔۔ فروغ تعلیم کی جانب اہم قدم

  

کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے علم کی اہمیت مسلمہ ہے جس سے کسی بھی صورت میں انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اقوام عالم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جن قوموں نے اپنے تمام تر وسائل‘ توجہ اور توانائیاں حصول علم‘ تحقیق اور جستجو کی طرف موڑ دیں وہ دنیا میں نہ صرف سرخرو ہوئیں بلکہ عزت و تکریم ان کا مقدر بنی اور انہوں نے دنیا پر حکومت کی۔ علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی زیادہ خوشبو دیتا ہے۔ جن قوموں کے پاس زیادہ علم ہوتا ہے ان پر قسمت کی دیوی بھی اتنی ہی مہربان ہوتی ہے۔ وقت کا دھارا بھی ان کی گرفت میں ہوتا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اسے آگے پیچھے ‘ تیز اور سست کرنے کی قدرت بھی رکھی ہیں۔ طلوع اسلام سے قبل ہر طرف جہالت‘ گمراہی اور بے راہ روی کا دور دورہ تھا۔ اسلام نے علم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ علم حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ پستی میں گری عرب قوم کو اقوام عالم میں سب سے ممتاز اور سرفراز کر دیا۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بھی کئی مقامات پر علم حاصل کرنے کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور حضرت محمدﷺ نے بھی حصول علم کی تاکید فرمائی ہے۔ یہ علم ہی ہے جو انسان کو دوسری مخلوق سے برتر بناتا ہے۔ علم کے بغیر شعور‘ ایمان کی پختگی اور نیکی کا تصور ممکن نہیں۔ علم اچھائی اور نیکی کی اولین شرط ہے۔

پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ارباب اختیار نے تعلیم کے شعبے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی اور اسے ثانوی حیثیت دی جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک اپنی کوئی واضح سمت متعین نہیں کر سکے۔ اس وقت ملک میں کئی طریقہ ہائے تعلیم رائج ہیں۔ ایک طرف اشرافیہ کے لئے انگلش میڈیم سکول ہیں جہاں پر تمام سہولتیں موجود ہیں‘ دوسری طرف متوسط طبقے کے لئے اردو میڈیم سکول ہیں جہاں پر نہ ٹیچر ہیں‘ نہ چاردیواری ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات میسر ہیں۔ آج دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے مگر بدقسمتی سے ہم انگریز دور کے طبقاتی ذریعہ تعلیم سے ہی نہیں نکل سکے۔

خادم پنجاب محمد شہباز شریف اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کئے بغیر ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تعلیم کو اولین ترجیح دی اور تعلیم کے شعبہ میں مثالی اور انقلابی اقدامات کئے جس کے دوررس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ پنجاب حکومت نے سکولوں میں سوفیصد حاضری یقینی بنانے کے لئے ایک موثر روڈ میپ دیا۔ اس کے علاوہ دانش سکولوں کا قیام‘ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو کروڑوں روپے کے انعامات‘ یورپی ممالک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مطالعاتی دور‘ نوجوان نسل کو جدید علم تک رسائی کے لئے لیپ ٹاپ کی تقسیم‘ سکولوں میں 5 ارب روپے کی لاگت سے آئی ٹی لیبز کے قیام اور سب سے بڑھ کر پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی تشکیل جیسے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔

ًّپنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دنیا بھر میں سب سے بڑا تعلیمی سکالرشپ ہے جس سے محروم طبقہ کے بچے اور بچیاں مستفید ہو رہی ہیں۔ انڈومنٹ فنڈ کے قیام کا بنیادی مقصد پنجاب اور دیگر صوبوں کے ہونہار اور مستحق طلبا‘ طالبات جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ ان کے والدین نے جو خواب دیکھے ہیں وہ پورے ہو سکیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا منصوبہ ہے جو نوجوان نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر کے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بہترین انداز میں معاونت کر رہا ہے۔ دو ارب روپے کی ’سیڈ منی‘ سے شروع ہونے والے اس فنڈ کی مالیت 14ارب ہو چکی ہے۔ممتاز سماجی رہنما ڈاکٹر امجد ثاقب جو فلاحی تنظیم اخوت کے چیئرمین بھی ہیں وہ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیرقیادت اس پودے کی بہ احسن آبیاری کر رہے ہیں۔ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ سیکنڈری لیول سے ماسٹر لیول تک تعلیمی وظائف فراہم کر رہا ہے۔ 80فیصد سکالرشپ میرٹ اور 20فیصد سکالرشپ برائے خصوصی کوٹہ مختص کئے گئے ہیں۔ خصوصی کوٹہ سکالرشپ کے تحت یتیموں‘ سکیل ایک سے چار کے سرکاری ملازمین‘ اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افرادکے بچوں اور معذور طلبا کو تعلیمی وظائف دیئے جاتے ہیں۔

طلبا اور طالبات کو سکالرشپ دینے کے عمل کو نہایت شفاف بنایا گیا ہے تاکہ حقدار کو بلارکاوٹ اس کا حق مل سکے۔ انڈومنٹ فنڈ سے سکالرشپ کے حصول کا طریقہ بہت آسان ہے اور طلبا کی طرف سے آج تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ انڈومنٹ فنڈ سے مستفید ہونے والے بچے اس وقت ملک کی سرکاری تعلیمی اداروں کے علاوہ لمز‘نسٹ‘ فاسٹ اور یورپ کی معروف یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈومنٹ نے وسائل کی کمی کا شکار ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کا حصول تعلیم کا خواب پورا کیا ہے اور انہیں مایوسی سے نکال کر امید اور اعتماد بخشا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان مستقبل کے قائد اور ملک کے معمار ہیں جو پاکستان کو درپیش چیلنجوں سے نجات دلائیں گے۔ یہ ایسے خوشحال پاکستان کی تعمیر کریں گے جو کرپشن‘ استحصال اور دولت کی غیرمساوی تقسیم سے پاک ہو گا اور قائد و اقبال کے خوابوں کی زندہ تعبیر ہو گا۔ غربت کے شکار یہ نوجوان تعلیم کی بھٹی سے کندن بن کر نکلیں گے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔پاکستان کی تاریخ میں وسائل اور اختیارات پراشرافیہ کا قبضہ رہا جبکہ غریب طبقہ محرومیوں کا شکار رہا مگر ہماری حکومت نے وسائل کا رخ غریب عوام کی جانب موڑ دیا ہے۔ حکومت پنجاب نے انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے نوجوان نسل کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا ہے اور بھکاری پن کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ایک لاکھ بچوں کوسکالرشپ دینے کا تاریخی سنگ میل عبورکرنے سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے تحت 1لاکھ غریب خاندانوں کے ذہین بچوں اوربچیوں کوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے میرٹ کی بنیاد پر وظائف دےئے گئے ہیں اوراگلے ایک برس میں ایک لاکھ مزید مستحق اورذہین طلباء و طالبات کو تعلیمی وظائف دےئے جائیں گے۔جس کے لئے تعلیمی فنڈکا سالانہ حجم 2ارب روپے سے بڑھا کر4ارب روپے کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ وظائف کی فراہمی کے اس عظیم الشان پروگرام میں نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ ، بلوچستان،خیبر پختونخوا،آزاد کشمیر،فاٹااورگلگت بلتستان کے کم وسیلہ مگر محنتی و قابل طلباء و طالبات کو شامل کیاگیا ہے ،جس سے قومی یکجہتی کو فروغ مل رہا ہے ۔ پاکستان کی تمام اکائیاں ترقی کریں گی تو تب ہی پاکستان ترقی کرے گااوراسی مقصد کے پیش نظرپنجاب کے تعلیمی پروگراموں میں پاکستان کی تمام اکائیوں کو شامل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے تحت قوم کے 1لاکھ بیٹے اوربیٹیاں تعلیمی وظائف حاصل کرچکے ہیں اور اربوں روپے کے اس فنڈ کی آمدن سے5ارب61کروڑ روپے انتہائی ذہین اورقابل بچے اوربچیوں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈنے مشکل ترین حالات میں ہتھیار نہ ڈالنے والے قوم کے قابل بیٹے اور بیٹیوں کیلئے اعلی تعلیم کے دروازے کھولے ہیں اور پر وقار تقریب اشرافیہ کے بچوں کی توقیر کیلئے نہیں بلکہ محنت کی عظمت کو سلام کرنے کیلئے منعقد کی گئی ہے ۔تقریب میں ایسے پیف سکالرز موجود ہیں جنہوں نے غریب گھرانوں میں آنکھ کھولی اور پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے اعلی تعلیم حاصل کی۔تقریب میں موجود پیف سکالرز ،تمنداروں، زمینداروں ، سرمایہ داروں ،سیاستدانوں، ججوں، جرنیلوں اوراعلی حکام کی بجائے ان کروڑوں پاکستانی بچوں کی نمائندگی کررہے ہیں جن کے والدین نے مشکل حالات میں بھی اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیااور و ہ ایسے عظیم پاکستانی ہیں،جن کا شعارمحنت ،امانت اور دیانت ہے۔یہ عظیم لوگ قیام پاکستان سے اپنے حق سے محروم رہے اوران کا یہ حق اشرافیہ نے چھین رکھا تھا لیکن پنجاب حکومت نے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈکے ذریعے یہ حق انہیں دیا ہے اور بلاشبہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈقائدؒ اوراقبالؒ کے خواب کی حقیقی تعبیر ہے ۔پنجاب حکومت نے ہیروں کو تراشنے کیلئے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈقائم کیا ہے جس میں غریب خاندانوں کے ذہین و قابل بچے اوربچیوں کیلئے ملکی و غیر ملکی اعلی تعلیمی اداروں میں حصول تعلیم کے مواقع پیدا کیے ہیں ۔

قبل ازیں وائس چےئرمین پیف ڈاکٹر امجد ثاقب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج تاریخی دن ہے جب پیف کے تحت 1لاکھ سکالرز شپ کا ہدف حاصل کرلیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ 7سال قبل لگایا گیا پودا تناآور درخت بن چکا ہے جس کے سائے اورپھل سے غریب گھرانوں کے لاکھوں ذہین بچے مستفید ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تاریک راتوں میں دیا جلانے کا جو عہد اورعزم وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کیا تھا وہ پورا ہوچکا ہے اور پیف پاکستان کا سب سے بڑا فنڈ بن چکا ہے اور اس فنڈ کے تحت غریب گھرانوں کے ذہین بچے لمز،نسٹ،فاسٹ،جی سی اوردیگر ملکی و غیر ملکی باوقار تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شہبازشریف نے تعلیمی فنڈ قائم کر کے جو تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کے تحت اب اپنے بچے کو تعلیم دلانے کیلئے کسی ماں کا آنچل آنسوؤں سے نم نہیں ہوگااورنہ ہی کسی کی امید دم توڑے گی۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ درد مندشخصیت ہیں اوروہ علم دوست وزیراعلیٰ ہیں،انہوں نے تعلیمی فنڈ کے ذریعے ہیرے تراش کرنئی تاریخ رقم کی ہے ۔

لاکھوں پیف سکالرزانڈوومنٹ فنڈ سے سکالرشپ لے کرلمز، فاسٹ،جی سی اور دیگر ملکی و غیر ملکی تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیمی پیاس بجھارہے ہیں ۔ ہزاروں پیف سکالرز اپنی تعلیم مکمل کرکے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اعلی عہدوں پرفائزہو کر ملکی خدمت میں اپناکردار ادا کر رہے ہیں۔ایک لاکھ غریب و مستحق طلبا کو سکالرشپ دینے کا ہدف مکمل کرنے کی تقریب سے جب پیف سکالرنے اپنی جدوجہد کی داستانیں سنائیں تو ہر آنکھ اشک بارہو گئی۔ اب تک ایک لاکھ طلباو طالبات کو5 ارب 65 کروڑروپے کے وظائف جاری کئے گئے ہیں ۔ ڈاکٹرمحمدمرتضی ایک رنگ ساز کابیٹاتھا ۔ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کی سرپرستی سے آج وہ ڈاکٹربن گیا ہے اور سرجری میں سپیشلائزیشن کیلئے بیرون ملک جا رہا ہے ۔ اسی طرح ایک مزدور کا بیٹامحمداکرم انجینئربن چکا ہے ۔ ایک پیف سکالرنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح سویرے اپنے والد کے ساتھ سبزی منڈی میں مزدوری کرتا تھا اوراب پیف کی طرف سے وظائف ملنے پر اس نے اپنی تعلیم مکمل کی اورآج ایک امریکی ادارے میں بطور ڈائریکٹرکام کررہا ہے ۔ ایک محنت کش شمعون کا بیٹاعرفان شمعون پیف کی بدولت بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر بن چکا ہے اوراین ٹی ڈی سی واپڈا ہاؤس میں اسسٹنٹ مینجر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہا ہے ۔

مزید :

کالم -