سارک چیمبر، باہمی تعاون اور میڈیا کا کردار

سارک چیمبر، باہمی تعاون اور میڈیا کا کردار
 سارک چیمبر، باہمی تعاون اور میڈیا کا کردار

  

پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان پر مشتمل سارک ممالک کی تنظیم دنیا میں اپنی نوعیت کی تنظیموں میں بہت اہم مقام رکھتی ہے، لیکن بدقسمتی سے مختلف سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے اس اہم تنظیم کو جس بلند سطح پر ہونا چاہیے تھا، یہ نہیں ہے، جبکہ اس کے مقابلے پر پورپی یونین جیسی تنظیم نے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں، اگرچہ برطانیہ اس سے نکل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یورپی یونین کی تنظیم دنیا بھر میں اپنی اہمیت کے لحاظ سے نمبر ایک ہے۔ باقی تمام تنظیموں میں تعاون کا فقدان نظر آرہا ہے۔

اس کا سبب کیا ہے، اسے جاننے کے لئے لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سارک ممالک کے صحافیوں نے بھرپور شرکت کی۔ صرف انڈیا سیاسی وجوہات کی وجہ سے شامل نہیں ہوا۔ دوسری طرف پاکستانی صحافیوں نے بھی ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے جرنلسٹوں کی کانفرنس میں بہت دلچسپی لی اور آخری دن پریس بریفننگ کے موقع پر بہت دلچسپ مکالمہ سامنے آیا۔

ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے صحافیوں کو اکٹھا کرنے میں ڈاکٹر رونالڈ جو فریڈرچ نعمان فاؤنڈیشن فارفریڈم نئی دلی کے ریجنل ہیڈ ہیں، ان کا اہم کردار ہے۔ پاکستان میں ان کے ساتھ فیڈریشن آف پاکستان چیبمرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریجنل چیف اور سارک چیمبر آف کامرس کے پاکستان میں نائب صدر افتخار علی ملک نے بھرپور تعاون کیا۔

سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سیکرٹری ذوالفقار علی بٹ نے موڈریٹر کے بہترین فرائض سرانجام دیئے اور حنا سعید نے بھی ورکشاپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ حنا سعید نے ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے صحافیوں کے درمیان ہونے والی دو روزہ ورکشاپ میں بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ سارک کی تنظیم بہت اہم ہے۔

دنیا کے 2.6 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے حامل ممالک اس کے ممبر ہیں۔ پونے دو ارب کی آبادی اس تنظیم میں شامل ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کام کرنے والے نوجوانوں،جن کی عمر پندرہ سے تیس سال کے درمیان ہے، ان کا تعلق سارک ممالک سے ہے۔ اس لحاظ سے یہ یوتھ فل ریجن کہلاتا ہے۔

سارک ممالک کی قیادت کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ سارک ممالک معاشی میدان میں اگر ایک دوسرے سے تعاون کریں تو پھر یہ ممالک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ان ممالک کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ آپس کے معاملات کو بہتربنا کر اس تنظیم کے چارٹر کے مطابق بھرپور فائدے اٹھائے جائیں اور اپنے خطے کو خوشحال بنایا جائے۔

ساؤتھ ایسٹ ایشیا سے آئے ہوئے صحافیوں نے اس ورکشاپ کو بہت مفید قرار دیا اور ہر کسی نے اس بات کا شکوہ کیا کہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے میڈیا میں سارک تنظیم کے بارے میں کوریج آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سارک ممالک کے اخبارات اور چینلز سارک تنظیم کی اہمیت کو اجاگر کریں اور اس کی سرگرمیوں کی بھرپور کوریج کریں۔ رحمت اللہ جاوید نے بھی اس طرف اشارہ کیا کہ سارک ممالک کا میڈیا اگر حرکت میں آجائے تو اتنا دباؤ بنایا جاسکتا ہے کہ اس تنظیم کے تمام ممالک سیاسی نشیب و فراز سے بالاتر ہوکر خطے کی معاشی ترقی کے لئے کام کرنے لگیں۔

سارک تنظیم کے پاکستان سے منتخب نائب صدر افتخار علی ملک نے آخر میں ووٹ آف تھینکس پر تقریر کرتے ہوئے کہا: ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ممالک کی دنیا میں بہت اہمیت ہے، اس وقت معاشی بالادستی کی جنگ ہے۔

یہ وقت ہے کہ سارک تنظیم کے ممالک سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک دوسرے کے وسائل سے فائدے اٹھا کر اپنے آپ کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کریں۔

جب میں نے سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ہیڈ آفس پاکستان میں لانے کی جدوجہد شروع کی تو مجھے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اللہ کی مہربانی سے میں سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ہیڈ آفس پاکستان لانے میں کامیاب رہا، اب ہم نے اسلام آباد سارک کے ہیڈ آفس کی بہت شاندار بلڈنگ تعمیر کی ہے، اس کا باقاعدہ افتتاح گزشتہ سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوجانا تھا، لیکن سیاسی معاملات الجھنے کی وجہ سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہی کانفرنس ملتوی کرنی پڑی، جس کی وجہ سے باقاعدہ افتتاح ہونا ابھی باقی ہے، لیکن سارک کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں پوری طرح سے ان ایکشن ہے۔

اب میں نے انہیں ہدایت کردی ہے کہ ہیڈ آفس میں ایک میڈیا آفس بھی بنایا جائے، جہاں ورکنگ جرنلسٹوں کی تمام ضروریات کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں۔ امید ہے کہ سیاسی معاملات طے پاجانے کے بعد سارک اپنا سفر تیزی سے طے کرے گا۔

افغانستان سے آریانہ ٹی وی کی نمائندہ پروین ہاشمی نے بتایا کہ ان کا چینل پاکستان کے بارے میں بہت اچھی خبریں اور تجزیے پیش کرتا ہے، سارک کی تنظیم کو اٹھانے کے لئے تمام ممبر ممالک کے میڈیا کو چاہیے کہ وہ سارک کی خبروں کو نمایاں جگہ دے۔

خصوصاً مناسب کوریج اگر الیکٹرونک میڈیا پر دی جائے تو عوام میں سارک تنظیم کی اہمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے باہمی تجارت کے فروغ میں حکومتوں کے علاوہ بزنس کمیونٹی کا بھی بہت فائدہ ہے، امید ہے کہ اس قسم کی ورکشاپس کا انعقاد سارک کے دوسرے ممالک میں بھی کیا جائے گا۔

مزید :

کالم -