کہکشاؤں کے پاسباں

کہکشاؤں کے پاسباں
کہکشاؤں کے پاسباں

  

میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ لندن میں شدید علیل اور زیر علاج ہیں، اس موقع پر غمگسار و وفا شعار خاوند کی موجودگی و تیمارداری علاج کی طرح بہت اہم ہے۔

نیب عدالت کے نوٹس کی تعمیل میں میاں محمد نواز شریف بیمار اہلیہ کو دیار غیر میں چھوڑ کر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، سابق وزیر اعظم نے حسب معمول اپنے عمل سے قانون کی پاسداری کو اپنی ذات اور خاندان سے زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن بلاوے کا نوٹس بھیجنے والے سرکاری ذمہ داران اور اس پر بغلیں بجانے والے سیاست دان گوشت پوست کے انسان ہیں۔

دوسرے عام انسانوں کی طرح ان کے سینوں میں بھی دل دھڑکتا ہے۔ یقین ہے کہ دن رات اور اندھیرے اجالے کا فرق کرسکتے ہیں۔

بیمار بیوی کو دیار غیر میں چھوڑ کر کورٹ میں حاضری کے سلسلے میں اسلام آباد چلے آنا کرب کی ایسی کیفیت ہے، جس پر گزرتی ہے، وہی اس کی شدت کا اندازہ کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ انصاف کے اس انداز نے ملکی معیشت کو جس قدر نقصانات سے دوچارکیا ہے، اس کا اندازہ سٹاک ایکسچینج کی بے تحاشا گراوٹ سے لگایا جاسکتا ہے، جس پر سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔

محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کی صحت یابی تک اگر کورٹ میں حاضری موخر کردی جاتی تو نہ زمین نے پھٹنا تھا اور نہ آسمان نے ٹوٹ جانا تھا۔ سرکاری اہلکار جس طرح میاں محمد نواز شریف کے طیارے تک رسائی کے لئے بے چین رہے، اگر نوٹس کی تعمیل کے لئے ایسا کھردرا طریقہ اختیار نہ کیا جاتا تو کیا اچھا نہ ہوتا پوری حکومتی مشینری کو معلوم ہے کہ میاں محمد نواز شریف پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔

مختلف جہتوں سے اترنے والی مصیبتوں اور مخالفتوں کے باوجود عوام نے انہیں 2013ء کے الیکشن میں تیسری بار پاکستان کا وزیر اعظم منتخب کیا تھا۔ چند ماہ امن و سکون سے گزرے، جس کے بعد اندھیروں نے عوام کی درخشاں امیدوں پر پانی پھیرنے کی ٹھان لی۔

افراتفری کے ماحول میں وزیر اعظم پاکستان کو کٹہرے میں لانے کا فیصلہ ہوا تو ایک محترم جج صاحب نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے لئے کرپشن کا گاڈ فادر کے الفاظ استعمال کرکے سیاسی مخالفین کے گھروں میں گھی کے چراغ جلانے کا موقع فراہم کر دیا۔

پاکستان کے کاروباری طبقے اور عوام کی غالب اکثریت انہیں اپنا محسن قرار دیتی ہے۔ سینے کو خدا خوفی کے جوہر سے مزین اور منور رکھنے والے میاں محمد نواز شریف کے خلاف سرکاری خزانہ سے بد دیانتی اور لوٹ مار کرنے کا اب تک کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، جب بھی اقتدار میں آئے ملک میں خوشحالی کے بڑے منصوبے مکمل کرائے۔

پہلی بار برسر اقتدار آئے تو لاہور سے اسلام آباد تک موٹروے کا عظیم الشان منصوبہ شروع کیا۔ بیشتر سیاست دانوں نے اسے وقت اور سرمائے کا ضیاع قرار دیا۔ ڈکٹیٹر شپ کی ٹھنڈی اور پُر لطف چھاؤں میں بیٹھنے کے خواہشمند چند سیاست دانوں نے نہ صرف میاں محمد نواز شریف کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا، بلکہ اسی ڈکٹیٹر کی آشیر باد سے مسلم لیگ (ق) بنالی۔ ڈکٹیٹر کی گرفت سے ملک آزاد ہوا تو وزیر اعظم سمیت سارے پنچھی اڑان بھر گئے۔

میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کو دنیا کی نظروں میں مقبول و محبوب بنانے اور اہل پاکستان کو معاشی بہتری دینے کے لئے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی داغ بیل ڈالی۔

نریندر مودی سرکار اور بعض پاکستانی سیاست دانوں کی مخالفتوں اور سازشوں کو عبور کرتے ہوئے، سی پیک تعمیر کے مراحل طے کر رہا ہے۔

نادیدہ قوتوں اور عناد پرست سیاست دانوں نے مزید کام نہ دکھایا تو بہت جلد پاکستان بجلی ایکسپورٹ کرنے کے قابل بن جائے گا۔

میاں محمد نواز شریف کی حکومت آنے سے قبل وطن عزیز کے در و دیوار پر خوف کے سائے منڈلاتے رہتے تھے۔ کئی علاقے دہشت گردوں کی گرفت میں تھے، مسجدیں، امام بارگاہیں، مدارس، سکول، کالج، پولیس اسٹیشن اور پبلک مقامات حتیٰ کہ سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان بھی دہشت گردوں سے محفوظ نہ رہی۔

میاں محمد نواز شریف نے قومی اتفاق رائے اور پاک فوج کے آہنی عزم کے ساتھ دہشت گردوں کا پاک سرزمین پر جینا اور کارروائیاں کرنا محال و مشکل بنادیا۔ ان کے ٹھکانے، اسلحہ فیکٹریاں اور پناہ گاہیں تہس نہس کر دی گئیں۔

کراچی سے بھتہ خور اور ٹارگٹ کلر اپنے سرپرستوں سمیت ملک چھوڑنے یا غائب ہونے پر مجبور ہوئے۔ ایسے کارہائے نمایاں کے ذریعے میاں محمد نوازشریف نے امن و خوشحالی کی کہکشاں روشن کی۔ کاروباری طبقہ اور عوام چاہتے ہیں کہ کہکشاں روشنی فراہم کرتی رہے اور عزم و ہمت کے قافلے رواں دواں رہیں۔ ان میں میاں محمد نواز شریف کا شاندار کنٹری بیوشن فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

مزید :

کالم -