سموگ اور بجلی کا ترسیلی نظام

سموگ اور بجلی کا ترسیلی نظام

  

پنجاب کی فضاؤں میں پھیلی ہوئی سموگ کی وجہ سے17 بجلی گھر بند ہو گئے، جس کی وجہ سے جمعہ کے روز ہر ایک گھنٹے بعد لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کیا گیا) تاہم اب یہ واپس لے لیا گیا ہے۔ (ایٹمی اور پن بجلی گھر بھی بند ہو گئے، مجموعی پیداوار6705 میگاواٹ کم ہو گئی، تھرمل پاور سٹیشنوں کی بندش سے5500 اور گیس کی بندش سے1205 میگاواٹ پیداوار کم ہوئی،ٹرپنگ کے باعث چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹس بھی بند کر دیئے گئے، حکومت کا موقف یہ ہے کہ بجلی گھر بند کر کے مُلک کو بریک ڈاؤن سے بچا لیا، بحالی کا کام72 گھنٹوں میں مکمل ہو گا، ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق پنجاب میں سموگ کے باعث کئی میگاواٹ کے پیداواری یونٹ بند ہو گئے ہیں،400میگاواٹ کا جام شورو، 700میگاواٹ کا کیپکو پلانٹ، 885 میگاواٹ کا حبکو،چونیاں لبرٹی حبکو نارروال اور اٹلس پاور پلانٹ اور ایک ہزار میگاواٹ کا مظفر گڑھ بجلی گھر بند کرنے پڑے۔پلانٹ وفاقی حکومت کی طرف سے بند کئے گئے، جبکہ سوئی ناردرن گیس کمپنی نے بھی پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند کر دی، جس کی وجہ سے سات پاور پلانٹس کو نومبر تک200 ملین کیوبک فٹ گیس کی فراہمی بند رہے گی،فرنس آئل اور ڈیزل پر چلنے والے پاور پلانٹس کو بھی بند کر دیا گیا۔

سموگ سے پاکستان کے عوام چند برس قبل ہی متعارف ہوئے ہیں،جب پہلی مرتبہ سموگ کے بادل کئی روز تک چھائے رہے تو اسے معمول کی دھند ہی سمجھا گیا جو سرما کی بارش شروع ہونے سے پہلے عموماً میدانی علاقوں میں چھا جاتی تھی،لیکن بعد میں یہ کھلا کہ یہ کوئی عام دُھند نہیں ہے، بلکہ یہ ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جو صرف فضا کو ہی مکدّر نہیں کرتی، انسانوں کی صحت پر بھی مختلف انداز میں حملہ آور ہوتی ہے،گلے اور سانس کی بیماریاں پھیلتی ہیں اور جو لوگ پہلے سے ان میں مبتلا ہیں اُن کی بیماری زیادہ گھمبیر شکل اختیار کر لیتی ہے،آنکھوں میں چبھن بھی محسوس ہوتی ہے اور دِل کے امراض میں مبتلا لوگوں کا دِل زیادہ بے قابو ہو جاتا ہے،جس کے لئے ڈاکٹروں نے آنکھوں کو چشمہ لگانے اور ناک اور مُنہ کو ڈھانپنے کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی ہے،اسی سموگ کی وجہ سے بہت سے مریضوں کو پنجاب کے ہسپتالوں سے بھی رجوع کرنا پڑا،بجلی کے ترسیلی نظام پر بھی اس کا حملہ ہوا، اگرچہ سموگ تو صرف پنجاب میں ہے،لیکن بجلی کی بندش سے پورا مُلک ہی متاثر ہو گیا، تاہم یہ اطمینان کی بات ہے کہ ایک ہی دن کے اندر اندر صورتِ حال بہتر ہو گئی اور ’’بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ‘‘ کا خوف یا خدشہ فوراً ٹل گیا،بروقت بجلی گھر بند کر کے بریک ڈاؤن سے بھی بچت ہو گئی۔

چند دِنوں بلکہ ہفتوں سے حکومت کی جانب سے یہ خوشخبری سنائی جا رہی تھی کہ سالہا سال کے بعد پہلی مرتبہ اس مہینے یا دسمبر سے لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی اور یہ قص�ۂ پارینہ بن کر رہ جائے گی، کیونکہ اب پیداوار ضرورت کے مطابق ہو رہی ہے،تاہم جب سموگ کی وجہ سے بجلی گھر اور پلانٹ اچانک بند کرنے پڑے تو عوام میں خوف کی ایک لہر بھی دوڑ گئی اور وہ حلقے جو حکومت کے اِس اعلان پر کہ لوڈشیڈنگ ختم کی جا رہی ہے، پہلے ہی شک کر رہے تھے انہوں نے یہ تبصرے شروع کر دیئے کہ دیکھیں ہم نہ کہتے تھے یہ دھوکہ ہے، وغیرہ وغیرہ، بہرحال اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ سموگ نے بجلی کے نظام پر جو حملہ کیا تھا اُس پر فی الحال قابو پا لیا گیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہفتے کے روز سموگ نسبتاً کم تھی، البتہ اب اِس سلسلے میں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،کیونکہ جب تک بارش نہ ہو گی یہ فضائی آلودگی بظاہر پوری طرح ختم ہونے کا امکان کم ہے۔گزشتہ چند برس کا تجربہ تو اِسی بات پر دلالت کرتا ہے۔

پاکستان کے عوام چند برس قبل، جب پہلے پہل سموگ سے متعارف ہوئے تو بتایا گیا کہ یہ سب ہندوؤں کے تہوار دیوالی کا کِیا دھرا ہے اور بھارتی پنجاب کی ہوائیں یہ زہریلا دھواں اُٹھا کر پاکستان لے آئی ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دھان کی فصل کاٹ کر جب اس کے مُڈھ جلائے جاتے ہیں تو اس سے بہت زیادہ دھواں اُٹھتا ہے یہ دھواں فضا میں پھیل کر آلودگی پیدا کر دیتا ہے، جو پھیلتی رہتی ہے تاوقتیکہ بارشوں کی وجہ سے یہ دھواں قدرتی طور پر بیٹھ جاتا ہے،ماحولیات کی وزیر بیگم ذکیہ شاہنواز کا بھی یہی کہنا ہے کہ بھارت میں دھان کی فصل کٹنے کے بعد کھیتوں میں کھڑے مُڈھ جلائے گئے تو اس آگ اور دھوئیں سے آلودگی پیدا ہو گئی، جو ہوَا چلنے سے پاکستان پہنچ گئی، سیکرٹری ماحولیات کا کہنا ہے کہ بھارت میں دھان کی32ملین باقیات جلائی گئی ہیں، پاکستان میں بھی بعض مقامات پر دھان کے مُڈھ جلائے جاتے ہیں اور کئی صنعتوں سے بھی ایسی آلودگی خارج ہوتی ہے جو سموگ کا باعث بنتی ہے،لیکن جب یہ سموگ فضا کو گھیر لے اُس وقت کارخانوں پر چھاپے مار کر اُنہیں بند کرانا مسئلے کا کوئی حل نہیں، ضرورت تو اِس بات کی تھی کہ دھواں خارج کرنے والے کارخانوں کو پہلے ہی قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جاتا اور کارخانے لگانے کی اجازت دینے سے پہلے دیکھا جاتا کہ یہ ماحولیات کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں،درخت بھی آلودگی سے بچانے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں،لیکن جتنے درخت کاٹے جاتے ہیں اتنے لگائے نہیں جاتے، یا پھر جو درخت لگائے جاتے ہیں اُن کی مناسب نگہداشت اور پرداخت نہیں ہوتی،جس کی وجہ سے ماحول متاثر ہوتا ہے۔

اب اگر یہ معلوم ہو چکا ہے کہ یہ سموگ کہاں سے اُٹھتی ہے اور کیونکر پیدا ہوتی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ آئندہ اس سے بچاؤ کی تیاری کا قبل از وقت انتظام کیا جائے،شجرکاری ہنگامی بنیادوں پر کی جائے اور آرائشی یا پست قامت کے پودے لگانے کی بجائے گھنے سائے والے درخت لگائے جائیں، جن کا دہرا فائدہ ہے ایک تو گرمیوں میں وہ سایہ فراہم کرتے ہیں،دوسرے ماحولیات کو ساز گار بناتے ہیں، کارخانوں کے مالکان کو ہنگامی پکڑ دھکڑ اور کارخانے بند کرانے کا اقدام تو پسند نہیں آیا ہو گا۔البتہ اُن کے ساتھ مشاورت کر کے آئند ایسا انتظام ضرور کیا جا سکتا ہے کہ کارخانوں میں ایسے انتظامات کرا دیئے جائیں کہ دھوئیں کا اخراج کنٹرول کیا جا سکے،اگر یہ سموگ بھارت کے راستے آتی ہے تو بھارت کے ساتھ مل کر بھی کوئی نہ کوئی انتظام ہو سکتا ہے۔اگر پاکستان میں بجلی کے ترسیلی نظام پر سموگ منفی اثر ڈال رہا ہے تو بھارت میں بھی تو کچھ اثرات مرتب ہوئے ہوں گے، دھان کے جو مُڈ مشرقی پنجاب میں جلائے گئے اُن کا سارا دھواں اُڑ کر تو اِدھر نہیں آ گیا؟یہ معلوم کرنا پڑے گا کہ بھارتی پنجاب میں سموگ کا مقابلہ کیسے کیا گیا؟اگر ہر سال یونہی ہوتا رہا تو ہر موسم سرما اور بارشوں کے شروع ہونے سے پہلے ایسی ہی کیفیت پیدا ہو گی اِس لئے مستقل بنیادوں پر انتظامات کی ضرورت ہے۔

مزید :

اداریہ -