مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
 مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

  

جمعہ کا واقعہ بھی عجیب ہے ۔ پہلے تو مَیں یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس کو چکر دے کر45منٹ کی کلاس ڈیڑھ گھنٹے تک کھینچ لینے میں کامیاب ہوا ۔

پھر کینٹین میں پہنچتے ہی جو دو شاگرد ملے ، اُن کی خاطر چائے کا آرڈر تو دیا، مگر اپنے لئے خاموشی سے کافی منگو ا لی ، اُنہی مولوی صاحب کی طرح جن کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے جرمنی میں ایک میم کو یوں چپکے سے مسلمان کیا کہ اُسے پتا ہی نہ چلا ‘‘ ۔

خیر ، کالم کی شانِ نزول میری کافی پینے کی چالاکی نہیں بلکہ طلبہ کے یہ الفاظ ہیں کہ سر ، آپ کے ساتھ ایک تصویر ہو جائے ۔ ’’بالکل ٹھیک ہے‘‘ ۔ مَیں نے عادتاً کہہ دیا ۔

اِس کارروائی میں دس سیکنڈ لگے ہوں گے ۔ پر تصویر فیس بُک پہ لگنے کی دیر تھی کہ لائیک پہ لائیک آنا شروع ہو گئی ۔ جی خوش تو ہوا کہ چلو کچھ نہ کچھ مارکیٹ ویلیو ابھی تک ہے ، مگر یہ خیال بھی آیا کہ اگر مَیں استاد کی بجائے استانی ہوتا تو میری تصویر کی مقبولیت کسی بڑے سکینڈل کو جنم دے سکتی تھی ۔

شائد میرے خوف کے پیچھے اُس تازہ واقعہ کو دخل ہو، جس میں ایک معزز شعبہ سے وابستہ شخصیت کی ایک ذاتی حرکت پر پاکستان کی آسکر انعام یافتہ فلم میکر نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور یہ رد عمل بجائے خود سوشل میڈیا پر ایک ناخوشگوار بحث کا پیش خیمہ بن گیا ۔

دراصل خاتون فلم میکر نے کراچی کے ایک معروف اسپتال میں اپنی بہن کے ایمر جنسی علاج کے بعد ڈیوٹی ڈاکٹر کی طرف سے مریضہ کے لئے فرینڈ ریکویسٹ کا بُرا مانا ۔ اُنہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ شخص ہمارے لئے بالکل اجنبی تھا، جس سے علاج معالجہ کے سوا کوئی بات نہیں ہوئی۔

بیان کے الفاظ میں ’’جو کچھ ہوا وہ پیشہ ورانہ ضابطۂ اخلاق اور معالج و مریض کے باہمی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی تھی، چنانچہ ایک عورت کی محسوسات کے مطابق ، اسے ناجائز دخل اندازی اور ہراساں کرنے کی کارروائی سمجھا گیا ، جس پہ خاموش نہیں رہا جا سکتا ‘‘ ۔

قانونی ذہن کے لوگ اِس واقعہ کی جزئیات میں اتر کر اپنے سوالوں کے جواب حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ جیسے یہی سوال کہ وطنِ عزیز میں خواتین کو صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور خوف و ہراس سے بچانے کے لئے حالیہ برسوں میں جو قوانین متعارف کرائے گئے ، کیا متعلقہ ڈاکٹر صاحب کا طرز عمل اُن کے منافی تھا ؟ اِس کے علاوہ یہ جائزہ لینے کی کوشش کہ الیکٹرانک یا سائبر کرائم قوانین کے تحت جن فنی اور اخلاقی تقاضوں کی نشاندہی کی ہے ، آیا انہیں ملحوظِ خاطر رکھا گیا کہ نہیں؟ ایک تیسرا زاویہ کسی سماجی یا کاروباری تنظیم ، نیم سرکاری انجمن یا کلب کے اپنے اصول و ضوابط کا ہوا کرتا ہے ، جو اُس ادارے کے اراکین کے لئے قانون کا درجہ رکھتے ہیں ۔ تو زیر نظر معاملہ میں اِن قوانین سے مراد ہیں فیس بُک ، ٹوئیٹر یا دیگر سوشل میڈیا سے منسلک سرگرمیوں کے قواعد۔

یہ ماننا پڑے گا کہ چند ایک نے ساری کہانی کو اِنہی زاویوں سے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ کوئی بھی شخص سوشل میڈیا پر کھلے عام تعارف و تصویر کے ساتھ موجود کسی اور کو دوستی کی درخواست بھیج کر قانون شکنی کا مرتکب نہیں ہوتا ۔

بعض ناقدین نے فوجداری مقدمات میں برتی جانے والی احتیاطوں کے پیشِ نظر ’ملزم‘ کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا ، مگر ساتھ ہی اخلاقی حدود و قیود کی بات بھی کی ۔ پھر بھی ہمارے یہاں تنازعہ صرف قانون پسندی یا قانون شکنی پہ نہیں اٹھا کرتا ۔

موقف اُجاگر کرنے کے لئے ، خواہ اُس کی صداقت کے ہم خود بھی قائل نہ ہوں ، ہماری مہم کا آغاز اونچا اونچا بولنے سے ہوتا ہے ، پھر قومی و صوبائی انتخابات جیسی گروہ بندی کا آغاز ہو جاتا اور اُس میں صدقِ دل سے یہ کوشش کہ ہم خود منزل پہ پہنچیں یا نہ پہنچیں، مگر ہمارے روایتی حریفوں کا منہ ہر قیمت پہ کالا ہونا چاہئے۔

سوشل میڈیا پہ چھڑنے والی بحث میں یہی کچھ ہوا اور ایسے تیکھے اشارے بھی ملے کہ خاتون فلم میکر ’ایلیٹ فیمنزم‘ یا اُس اعلی طبقہ کی نمائندگی کرتی ہیں جو آزادیء نسواں کی بات فیشن کے طور پہ کرتا رہا ہے ۔ یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ انہیں کسی سے جو شکایت تھی ، اُس کا اظہار سوشل میڈیا کی بجائے نجی طور پہ کیا جا سکتا تھا ۔

کچھ اور نمونہء کلام ملاحظہ کیجئے : ’’بھلا یہ سارا ڈرامہ رچا کر کسی کو نوکری سے نکلوانے کی کیا ضرورت تھی ؟‘‘ ’’کیا یہ جتانا ضروری تھا کہ ہم آسکر انعام یافتہ ہیں؟‘‘ ’’جب آپ کی پوسٹیں پبلک ہیں تو مطلب یہ نکلا کہ اِن پہ ہر کوئی تبصرہ کر سکتا ہے ، سو ڈاکٹر کو الزام نہ دیجئے بلکہ بہن سے کہئیے کہ وہ دانشمندی سے کام لیں‘‘ ۔ آخری جملے کا شائستہ ترجمہ کرتے ہوئے مَیں نے ذرا سی ہیرا پھیری کی ہے ، ورنہ یہ ڈر تھا کہ کہیں دوسروں کی لڑائی چھڑاتے چھڑاتے خود بھی ہتکِ عزت کے مقدمہ میں دھر نہ لیا جاؤں۔

یہ تو طے ہے کہ کوئی بھی معاشرہ ہو ، اُس کی اقدار کا نظام صرف ملکی قوانین کی پیداوار نہیں ہوتا ۔

علاقائی رسم و رواج ، معاشی جکڑبندیاں ، دین و مذہب کے تقاضے (یا وہ سب جسے دین و مذہب کا تقاضا سمجھ لیا جائے ) ہمارے اجتماعی چال چلن پہ عموماً اثر انداز ہوتے ہیں ۔

کبھی کبھی یہ عوامل فطرت کے عناصر پانی ، مٹی آگ ، ہوا کی طرح کبڈی کھیلنے لگتے ہیں ۔ جیسے بھارتی سپریم کورٹ کیرالہ ہائی کورٹ کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والی ہے، جس نے ہادیہ نام کی نو مسلم خاتون کا نکاح خاتون کے والد کی درخواست پر منسوخ کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔

اکھِیلا اشوکن نے دسمبر 2016ء میں اسلام قبول کیا اور ہادیہ نام اختیار کر کے ایک مسلمان سے شادی کر لی ۔ ہائی کورٹ نے والد کی استدعا منظور کرکے ہادیہ کو اُن کی تحویل میں دے دیا ۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ شادی کے معاملے میں ایک عاقل بالغ خاتون کی مرضی ایک بنیادی سوال ہے،اس لئے عدالت نے ہادیہ کا منشا جاننے کے لئے اب انہیں طلب کیا ہے۔

یہ بات تھی ہندوستان کی ۔ جہاں تک ہماری مملکتِ خداداد کا تعلق ہے ، آزادیء نسواں کے موضوع پر آسکر انعام یافتہ پاکستانی فلم میکر کے کام سے زیادہ مجھ پر حقیقی زندگی کی اُن فلموں کا اثر ہے، جو بچپن سے لے کر آج تک دیکھ رہا ہوں ۔

میرے فلمی کرداروں کی ’کیریکٹر ایکٹر‘ تو بی جی ہیں ، یعنی ہماری دادی جنہیں سب نے نہایت آہستگی سے گلشن کا کاروبار چلاتے دیکھا ۔ خاندان بھر میں بظاہر انتظامی ، اخلاقی اور روحانی اختیارات کا منبع وہی تھیں ۔ پھر بھی آخری دور میں میرے اُکسانے پر یہ کہے بغیر نہ رہ سکیں کہ ’’بَلو ، ہم تو سمندر ہیں ۔

خاوند نے کچھ کہا تو سُن لیا ، بیٹے نے کچھ کہا وہ سُن لیا ، بیٹی نے کہا وہ بھی سُن لیا ‘‘ ۔ اِس موقع پہ بی جی نے اکلوتی بہو کا نام نہیں لیا تھا ۔ غالباً اِس لئے کہ پورے گھر میں اُن کے لئے یہی ایک سمبندھ اپنی مرضی کا تھا ۔ ہو سکتا ہے مجھ سمیت باقی سب رشتے ، جنہیں خوبی سے نبھایا ، محض حالات کا جبر ہوں۔

میری یہ ذاتی فلم انگریزوں کے ایجنٹ کسی جاگیردار گھرانے کی داستان نہیں ۔ یہ تھوڑی سی اراضی کا مالک خاندان ہے جو صرف ایک نسل پہلے معمولی دیہاتی پس منظر کو بھول بھال کر نواحی شہر میں پاؤں جمانے کی کوشش کر رہا تھا ، مگر پرانے وقتوں کی سیکھی ہوئی اِس حکمتِ عملی کو اپنا کر کہ سہج پکے سو میٹھا ہو ۔

تو کیا پچھلی صدی شہر میں گزار کر خاندانی زندگی میں کوئی عظیم الشان انقلاب بر پا ہو گیا ؟ برپا تو نہیں، مگر دھیرے دھیرے ہو رہا ہے ۔ ذرا سوچئے ، ماضی میں نکاح فارم کے صفحہ نمبر دو پر غور ہی نہیں کیا جاتا تھا ،جس میں دلہن کے حقوق کی امکانی ضمانت دی گئی ہے ۔

پھر بھی یہی وہ شقیں ہیں جنہیں اکثر و بیشتر قلم زد کرتے ہوئے دلہن سے رائے نہیں لی جاتی تھی ۔ بس دونوں طرف کے بزرگ چھوہاروں کے جلو میں یوں نمائشی تبسم سجائے پھرتے رہتے جیسے وہ سب کے سب اپنی ہی بہو اور بیٹی کے خلاف ایک بہت بڑی تمدنی سازش کے تانے بانے بُن رہے ہوں۔

تمدنی سازش کیا چیز ہے؟ یہ احساس اول اول اُس وقت ہوا جب میری دو بہنوں میں سے بڑی والی نے اپنی رخصتی سے کئی گھنٹے پہلے دھیمے سُروں میں رونا شروع کر دیا تھا ۔ پہلے تو میری سمجھ میں کچھ نہ آیا ۔ پھر مَیں خود ہی ایک اندازہ قائم کرکے خواتین والے کمرے میں گیا اور بہن کے کان میں آہستگی سے کہا ’’مرضی نہیں تو اکڑ جاؤ ، بڑا مزہ آئے گا‘‘۔

دلہن کی ہنسی نکل گئی اور میری سمجھ میں بھی آ گیا کہ یہ آنسو ، جو آئندہ زندگی کے بارے میں تذبذب کی علامت ہیں ، مگر صورتِ حال کا تمدنی تقاضا بھی ہوں گے ۔ اُسی بہن کے بیٹے سے ، جو بیرونِ ملک پی ایچ ڈی کر رہا ہے ، پچھلی ملاقات میں پوچھا تھا کہ ازدواجی زندگی کا آزادانہ فیصلہ کر کے گھر والوں کو یہ اطلاع کیا ’واٹس ایپ‘ پہ دو گے؟۔ ہنستا ہوا جواب ملا ’’مِسڈ کال ‘‘ ۔

سوشل میڈیا پہ جاری بحث اپنی جگہ ، لیکن مَیں اُس دن کے انتظار میں ہوں، جب میرے خاندان کی لڑکیاں بھی مجھے یہی جواب دے سکیں گی ۔

مزید :

کالم -