جسٹس صدیقی کی صداقت

جسٹس صدیقی کی صداقت
 جسٹس صدیقی کی صداقت

  

جب دامن اجلا کردار بے داغ اور کارکردگی مثالی ہو تو پھر احتساب تو دور کی بات اعتراض کی گنجائش بھی باقی نہیں رہ جاتی۔

ان اوصاف کی حامل شخصیت کے بارے میں کوئی غلط بات کرے تو جان لیجئے کہ یہ سب کسی گھناؤنی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اپنانا جائز کام نہ نکلنے پر شرپسند عناصر چپ بیٹھنے کے بجائے ڈھٹائی سے اوچھے وار کرنے پر اتر آتے ہیں۔

مقام افسوس کہ یہ چلن عام ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں حل صرف ایک ہی ہے کہ الزام لگانے والے کا ٹریک ریکارڈ ضرور چیک کر لیا جائے اور اگر انکوائری کی نوبت آئے تو اسے مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے۔ بندہ حق پر ہو تو وہ کسی قسم کی تحقیقات سے قطعاََ نہیں گھبراتا۔

ان دنوں پورے ملک میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت شکایت کا معاملہ زیر بحث ہے۔ جج صاحب کی ایمانداری ضرب المثل کا درجہ پا چکی۔ عام لوگ تو کیا خود قانونی حلقے بھی حیران ہیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

سی ڈی اے جیسے کرپٹ ادارے کے ایک اہلکار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس شوکت عزیز کیخلاف درخواست دی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس قسم کی مشکوک درخواست کو پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا مگر حیرت انگیز طور پر اس ریفرنس پر کارروائی شروع کر دی گئی۔

چلیں اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل آئینی ادارہ ہے اور ملک کے اعلیٰ ترین جج صاحبان اس کے ذریعے اپنے ہی برادر ججوں کے بارے میں شکایت کی سماعت کرتے ہیں

۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں یہ ادارہ زیادہ مؤثر نہیں رہا، بلکہ بعض اوقات تو اسے مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔

اس حوالے سے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی کے ابتدائی ایام میں جو کھینچا تانی دیکھنے میں آئی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

اس سب کے باوجود اگر یہ فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے کہ سی ڈی اے کے اہلکار کی درخواست پر ہائیکورٹ کے نیک نام جج کے خلاف کارروائی کی جائے گی تو سارا معاملہ اوپن کر دینا چاہیے تاکہ پوری دنیا دیکھ سکے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟۔ ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ’’پیغام‘‘ دیا جا رہا ہے کہ وہ از خود مستعفی ہو جائیں۔

خوف خدا رکھنے والے اس درویش جج کو آخر کیونکر ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے۔ جج صاحب نے جرأت مندی کے ساتھ ریفرنس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے باقاعدہ درخواست دیدی کہ میرے خلاف ریفرنس کو عدالتی عمل سے گزارا جائے اورمیرا ٹرائل کھلی عدالت میں کیا جائے۔

وکلاء تنظیموں نے بھی اس معاملے میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے موقف کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوپن ٹرائل ضروری ہے تاکہ جملہ حقائق قانونی حلقوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کے علم میں بھی آ سکیں۔ خفیہ اور ان کیمرہ ٹرائل سے فطری انصاف کے تقاضے پورے نہ ہو سکیں گے نہ ہی ایسی کوئی کارروائی قبول کی جائے گی۔

وکلاء تنظیموں نے اس گندے کھیل کے حقائق بے نقاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی تاریخ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پہلی مرتبہ اقتدار کے نشہ میں مست کرپٹ، راشی اور بدعنوان افسر کی من مانیوں کو نہ صرف روکا بلکہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کوان کے آئینی اور قانونی حقوق بھی دلوائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے لینڈ مافیا، قبضہ گروپوں اور پراپرٹی مافیا کو بھی نکیل ڈالی۔

ورنہ اس سے قبل اسلام آبادمیں سرکاری و نجی زمینوں کو کیک کے ٹکڑوں کی طرح کاٹ کر ہضم کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ عناصر اس قدر بے لگام اور طاقتور تھے کہ ماضی میں سپریم کورٹ کو بھی سرعام للکارتے رہے۔ ان حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ فاضل جج کے خلاف ریفرنس کی کھلی سماعت کی جائے تا کہ اصل محرکات، عوامل اور عناصر بے نقاب ہو سکیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار اس حوالے سے متفقہ قرار داد منظور کر چکی ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے حوالے سے یہ تاثر پہلے ہی سے موجود ہے کہ اگر کرپشن وغیرہ کے معاملے پر کسی جج کو فارغ کرنا ناگزیر ہو جائے (ایسا ایک آدھ مرتبہ ہی ہوا ہے) تو اس سے استعفیٰ لے کر تمام مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہے کہ کوئی باقاعدہ الزام ثابت ہونے پر عہدے سے فارغ بھی ہو مگر مراعات اسی طرح سے حاصل کرے جس طرح کوئی ایماندار اور محنتی جج باعزت طور پر ریٹائر ہونے کے بعد حاصل کرتا ہے۔

ان حالات میں یہ بحث چھڑ چکی ہے کہ سپریم جوڈیشل کو نسل کی کارروائی کو کس طرح سے زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔ریفرنس کی کھلی سماعت کیلئے جسٹس صدیقی کا مطالبہ انصاف کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔

یہ ممکن نہیں کہ انتہائی عمدہ ساکھ رکھنے والے جج کو کسی مشکوک درخواست کی بنا پر گھر بھجوادیا جائے۔خدانخواستہ ایسا ہوا تو جوڈیشل سسٹم مزید تنزلی کا شکار ہو جائے گااور اس سے بحران پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ویسے بھی یہ بات زبان زد عام ہے کہ وطن عزیز میں کسی کو بھی مقدس گائے کا درجہ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔چیئرمین سینیٹ رضا ربانی جو ماہر قانون بھی ہیں کئی باریہ کہہ کہ عوامی امنگوں کی ترجمانی کر چکے ہیں کہ تمام اداروں کے احتساب کیلئے ایک ہی ادارہ ہونا چاہیے۔یہ ایک افسوس ناک مگر ٹھوس حقیقت ہے کہ کو ئی بھی ادارہ اپنے پیٹی بھائیوں کا خود درست احتساب نہیں کر سکتا۔حیرت کی بات ہے کہ تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب ججوں اور جرنیلوں کو مجوزہ قانون کے دائرے سے باہر رکھنے پرمتفق ہوگئی ہے۔

یہ مصلحت ہے یا بزدلی ،اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ہاں مگر اس حد تک قانون سازی تو کی جاسکتی ہے کہ اداروں کے مورال کے نام پر معاملات کو غیر ضروری طور پر نہ چھپایا جائے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک میں انصاف کی فراہمی کیلئے سب سے زیادہ اصلاحات عدلیہ کے حوالے سے ہی کرنے کی ضرورت ہے۔قانون سازوں کو چاہیے کہ کم از کم اس حوالے سے ہی کوئی پیش رفت کریں کہ اداروں کے اندر احتساب کے حوالے سے کو ئی چیز خفیہ نہ رہ سکے۔

اس حوالے سے جسٹس صدیقی کے خلاف ریفرنس ایک ٹیسٹ کیس کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ابتدائی طورپر یہ گنجائش رکھنے میں کوئی حرج نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی صرف اس صورت میں خفیہ رکھنے کی اجازت ہوگی جب تک دونوں فریق اس پر متفق ہوں اوراگر کوئی ایک فریق بھی اوپن کرنے کا مطالبہ کرے تو فوری طور پر ایسا کر دینا چاہیے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی باوقار شخصیت کے ساتھ ریفرنس کی صورت میں ہونے والی کارروائی نے سخت بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔یہ کوئی معمول کی بات نہیں، سرکاری گھر کی مرمت کے حوالے سے سی ڈی اے اہلکار کی درخواست پر کارروائی اپنی جگہ ایک سوال ہے ۔

اس سب کے باوجودہم سب کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا حق حاصل کرنا ہے۔کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ محض ایمانداری کے ’’جرم‘‘میں دوسرے کو مار گرائے یا بلیک میل کرے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ بدنام زمانہ سی ڈی اے کے ذریعے یہ کام کرانے والے اصل کردار اب خود کو پھنسا ہوا محسوس کررہے ہیں ۔

اوپن ٹرائل انکے لیے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ریفرنس کی شفاف ا ور کھلی سماعت سے بہت کچھ بے نقاب ہو جائے گا۔جسٹس صدیقی کے خلاف ریفرنس ملک گیر ایشو بن چکا ہے۔سپریم جوڈیشل کو نسل کی آئینی جنگ کے باعث تکریم لازم ہے ورنہ دل تو یہی چاہتاہے کہ ریفرنس کے مواد اور پوشیدہ ہاتھوں کے بارے میں زیادہ کھل کر لکھا جائے۔

کچھ بھی ہو اس معاملے میں ذرہ برابر زیادتی یا جانبداری کا تاثر نہیں ملنا چاہیے۔اوپن ٹرائل کو تسلیم کر کے ان خدشات پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے ۔پارلیمنٹ میں براجمان قانون سازوں کو معاشرے کے دیگر تمام طبقات کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر نظام انصاف کو سائلین اور ججوں کیلئے یکساں طور پر شفاف بنانا ہوگا۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب سب کا ایک ہی ادارے سے احتساب کرانے کا مطالبہ غیر معمولی شدومد کے ساتھ سامنے آ جائے گا اور پھر اسے حقیقت کا روپ دھارنے میں دیر نہیں لگے گی۔

مزید :

کالم -