پرانی گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی ڈالر میں جمع کرانے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ

پرانی گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی ڈالر میں جمع کرانے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ

  

 کراچی(آن لائن) استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی ڈالر میں جمع کرانے کی شرط کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر بھرپوردباؤپڑے گا جس سے مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی ڈالر میں جمع کرانے کی شرط میں 31 دسمبر تک توسیع کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ اگرتجویز نہ مانی تو قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کی سربراہی میں وفد نے 30اکتوبر کو وفاقی سیکریٹری تجارت سے ملاقات کی اور مذکورہ شرط کے اطلاق کے لیے جاری کردہ ایس آرو1067 پر عمل درآمد31دسمبر تک موخر کرنے کی تجویز پیش کی۔ ایچ ایم شہزاد نے بتایا کہ درآمدی ڈیوٹی ڈالر میں جمع کرانے کی شرط کی وجہ سے گاڑیوں کی درآمد بند ہونے کا خدشہ ہے جس سے حکومت کو بھی ریونیو کی مد میں نقصان کا سامنا ہوگا، اس شرط کا فوری اطلاق استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ کے علاوہ ملک میں گاڑیوں کی طلب و رسد کے توازن کو بگاڑنے کا سبب بنے گا جس سے مقامی اسمبلرز کی اجارہ داری مزید مستحکم ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت 15 ہزار کے لگ بھگ گاڑیاں جاپان سے روانہ ہوچکی ہیں جو آئندہ 1 سے 2 ماہ کے دوران پاکستان پہنچ جائیں گی، ان گاڑیوں کی درآمدی ڈیوٹی کے لیے 20 سے 22 ارب روپے کا زر مبا دلہ درکار ہے، پاکستان میں پہلے ہی ڈالر کی قلت کا سامنا ہے اور روپے کی قدر گررہی ہے، گاڑیوں کی درآمد کے لیے اوپن مارکیٹ سے کروڑوں ڈالر کی ضرورت ہوگی، ایسی صورت میں ڈالر کی قیمت کو پر لگ جا ئیں گے اور صورتحال حکومت کے کنٹرول سے نکل جائیگی۔

مزید :

کامرس -