اسامہ کو علم تھا عرب حکومتیں گرانے سے شدت پسندی بڑھے گی : سی آئی اے

اسامہ کو علم تھا عرب حکومتیں گرانے سے شدت پسندی بڑھے گی : سی آئی اے

  

 واشنگٹن (این این آئی) امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو بخوبی اندازہ تھا کہ لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کا خاتمہ شدت پسندوں کیلئے راستے کھول دے گا۔دوسری جانب القاعدہ رہنما نے عرب حکمرانوں کیخلاف تحریکوں عرب بہار کی حمایت پر قطری ٹی وی کے کردار کی تعریف بھی کی تھی، تاہم بچوں کیلئے وارننگ دیے بغیر تشدد سے بھرپور مناظر نشر کرنے پر تنقید کی۔دستاویزات کے مطابق اسامہ کا کہنا تھا لیبیا میں شورش نے جہادیوں کو راستہ فراہم کیا ، افراتفری و قیادت سے محرومی القاعدہ کے فروغ کیلئے بہترین ثابت ہوگی۔ایبٹ آباد میں کمپاؤنڈ سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق اپنے نظریات سے متعلق اسامہ نے اپنے خاندان کو بتایا یہ ان کے سکول اور گھر کے ماحول کا اثر تھا، ساتھ ہی انہوں نے اخوان المسلمین سمیت کسی خاص گروپ سے رہنمائی لینے کی تردید بھی کی۔ایک عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسامہ کی بیٹی ایمان نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ائی کو اپنے بہن بھائیوں اور دیگر افراد سے متعلق خط بھیجا جنہیں خفیہ طور پر ایران میں داخل ہونے پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایمان نے لکھا کہ وہ کئی بار تہران حکومت سے رہائی کی درخواست کرچکی ہیں ان کا خاندان مجبوراً ایران میں دا خل ہوا اور کبھی واپس نہیں آئے گا، تاہم ان کی رہائی کے بجائے ایرانی حکومت، عراق میں ایران کی حامی فورسز اور ملیشیا پر القاعدہ کے حملے بند کرنے کا مطالبہ کررہی ہے اسی طرح القاعدہ کے دو رہنماؤں کی خط و کتابت میں ایرانی انٹیلی جنس سے رابطوں کا بھی ذکر ہے،القاعدہ رہنما الحاج عثمان نے لکھا ایران نے اسامہ کی بیٹی ایمان کی موجودگی سے آگاہ کیا مگر اس بات پر آمادہ نہیں کہ اسامہ کی بیٹی ایران سے سعودی عرب جائے۔

سی آئی اے

مزید :

علاقائی -