سینیٹ کا بلوچستان میں خواتین اور بچوں کی رہائی کیلئے ایوان بالا کی کاوش پر اظہار اطمینان

سینیٹ کا بلوچستان میں خواتین اور بچوں کی رہائی کیلئے ایوان بالا کی کاوش پر ...

  

 اسلام آباد(صباح نیوز)سینیٹ نے بلوچستان میں خواتین اور بچوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ممکن بنانے کیلئے ایوان بالا کی کاوش پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔سینیٹ کی بروقت کارروائی سے بلوچستان کی تین خواتین اوران کے تین بچوں کی بازیابی کیلئے پیش خیمہ ثابت ہوئی ہے ۔30اکتوبر کو ان خواتین اور ان کے بچوں کو کوئٹہ سے اٹھا کر پاک افغان سرحد سے زیر حراست لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ 31اکتوبرکو سینیٹ میں ان 3خواتین اوران کے 3 بچوں کو اٹھائے جانے پر شدید احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اپوزیشن اور اتحادی جماعتیں احتجاجاًایوان بالا کے اجلاس سے واک آؤٹ کرگئیں تھیں ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی تھی ۔ سینیٹ آف پاکستان سے گزشتہ روز جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ضلع آوران سے تعلق رکھنے والی ان تین خواتین اور ان کے تین بچوں کو اٹھائے جانے کا سخت نوٹس لیا گیا تھا ۔احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور حکومت کو ہدایت کی گئی کہ ان خواتین اور بچوں کی بازیابی کیلئے فی الفور موثر اقدامات کئے جائیں ۔ اس معاملے پر وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری کو سینیٹ آف پاکستان کو ڈکٹیشن دینے کی کوشش کا بھی چیئرمین سینیٹ کی طرف سے نوٹس لیا گیا ہے کہ یاد رہے کہ اس جوائنٹ سیکرٹری نے سینیٹ سیکرٹریٹ کو کو آگاہ کیا تھا کہ یہ معاملہ صوبائی ہے اور مرکز کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ چیئرمین سینیٹ کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ بلوچستان میں مرکزی اور صوبائی ایجنسیاں کام کررہی ہیں اس حوالے سے مرکز جوابدہ ہے ۔ 31اکتوبر کو یہ معاملہ ایوان میں توجہ مبذول کروانے کے نوٹس کے ذریعے اٹھا اگلے روز یکم نومبر کو چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ کو اس معاملے پر ایوان میں طلب کرلیا ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے ان خواتین اور بچوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اٹھائے جانے کی تصدیق کی صوبائی اداروں کے مطابق ان بچوں اور خواتین کو پاک افغان سرحد عبور کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا تھا ۔

سینیٹ

مزید :

علاقائی -