پاکستان اور ایران تعلقات اہمیت کے حامل ہیں 2017دونوں کیلئے بہت اہم رہا ہے ، فروحت اللہ بابر

پاکستان اور ایران تعلقات اہمیت کے حامل ہیں 2017دونوں کیلئے بہت اہم رہا ہے ، ...

  

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران تعلقات اہمیت کے حامل ہیں،کلبھوشن اور ملا منصور کی براستہ ایران، پاکستان آمد پر تعلقات میں کمی آئی ہے،آرمی چیف کا دورہ ایران کا اعلان اچھی بات ہے،دہشتگردی صرف ملٹری اور سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ،ہمیں اپنی پالیسیاں بدلنی پڑیں گی اورنصاب کو دُھرانا پڑے گا۔سینیٹر افرا سیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات بہت مضبوط ہیں،اچھے اور برے طالبان کی سوچ ختم کی جائے، افغان طالبان اپنے مفاد کیلئے لڑرہے ہیں، پاکستان اور ایران کی حکومتیں نان سٹیٹ ایکٹرز کو سپورٹ نہ کریں۔ہفتہ کو پاک ایران ریجنل امن سیکیورٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستان اور ایران تعلقات اہمیت کے حامل ہیں اور 2017 پاک ایران تعلقات کیلئے بہت اہم رہاہے ، انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف کے مسلم اتحاد فوج کا سربراہ بننے پر ایران کو اعتراض تھااس حوالے سے ایران سے بات ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو اور طالبان رہنما ملا منصور کے براستہ ایران، پاکستان آمد پر تعلقات میں کمی آئی ہے ۔پاک ایران تعلقات بڑھانے کیلئے ڈپلومیسی تعلقات بڑھانے اور اعتماد کی ضرورت ہے ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ ایران کا اعلان اچھی بات ہے، انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف پاکستان اور ایران کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، دہشتگردی صرف ملٹری اور سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے ہمیں اپنی پالیسیاں بدلنی پڑیں گی اورنصاب کو دھرانا پڑیگا ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر افرا سیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات بہت مضبوط ہیں، کوئی ہمارے دیرینہ تعلقات کو ختم نہیں کرسکتا، انہوں نے کہا کہ ضیاء الحق کی امریکہ نواز پالیسی سے ہمار ے تعلقات میں کمی آئی۔انہوں نے کہا کہ اچھے اور برے طالبان کی سوچ ختم کی جائے، جہاد کے نام پر مسلمان، مسلمان کو ہی ماررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کی حکومتوں سے درخواست ہے کہ وہ نان سٹیٹ ایکٹرز کو سپورٹ نہ کریں، انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا چاہئے۔سیمینار سے مذہبی رہنماامین شہیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفادات کے علاوہ کوئی ملک دوست نہیں ہوتا،دوستی مفادات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس خطے میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کی دوستی بہت اہم ہے، انہوں نے کہا پاکستان کی آزادی سے لیکر آج تک برطانیہ اور امریکہ نے ہمیں کیا دیا ہے جبکہ ان کے مفادات کیلئے ہم نے کروڑوں عوام کے مفادات کا سودا کیا ہے، انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے ملکر بیٹھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو عراقی کردستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، خیبر پختونخواہ میں بہت سے ممالک نے دہشتگروں کو بٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ افغانستان اور ایران کا بھی مسئلہ ہے ہم سی پیک پر ایک ساتھ کام کرنے کیلئے بیٹھ سکتے ہیں۔چیئرمین فارن افئیر کمیٹی مخدوم بختیار خسرو نے کہا کہ پاکستان اور ایران بہت مضبوط تعلقات رکھتے ہیں،ہماری بارڈر سیکورٹی مینجمنٹ تعلقات 1952 سے ہیں،افغان بارڈر کو سیل کرنا اپنے آپ کو محفوظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مشرقی اور مغربی بارڈر محفوظ نہیں تھے،افغانستان میں داعش کیساتھ بہت ساری دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک مذہبی افراتفری میں بٹ گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ شام جنگ میں حصہ نہ لینا پاکستان اور ایران کا اچھا فیصلہ تھا، انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ساتھ ملکر اپنی پالیسی بدلنا ہوگی، ایک دوسرے کیخلاف لڑنے والی پالیسی نہیں ہوگی، یہ وقت دنیا کے ساتھ رابطے کرنے کا ہے، انہوں نے کہا کہ سی پیک ہمارے لوگوں کی قسمت بدل دے گا، اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان بلکہ ایران کو بھی فائدہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان اکیلا سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ پاکستان اور ایران بہت سے منصوبوں پر کام کررہے ہیں ، کشمیری نوجوان اپنے آزادی کیلئے لڑرہے ہیں، امید ہے ایران مسئلہ کشمیر پر ہمارا ساتھ دے گا۔

، فرحت اللہ بابر

مزید :

علاقائی -