اسٹیبلشمنٹ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت ملنے والے حقوق چھیننے کیلئے کوشاں ، چیئر مین سینیٹ

اسٹیبلشمنٹ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت ملنے والے حقوق چھیننے کیلئے کوشاں ، چیئر ...

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز،آن لائن)چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین میں ٹیکنوکریٹ حکومت کی گنجائش نہیں، اسٹیبلشمنٹ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت ملنے والے حقوق کو چھیننا چاہتی ہے اور غیرآئینی اقدامات کے سبب 18 ویں ترمیم پر عملدرآمد ناممکن ہوجائے گا، 18ویں ترمیم کے خاتمہ کی کوشش کی گئی تو وفاق پر گہرے اثرات پڑیں گے، آئین سب سے بالاتر ہے، ایک دوسرے کے کاموں میں غیر آئینی مداخلت نہ کی جائے، مشترکہ مفادات کونسل کو صحیح انداز میں استعمال نہیں کیا جا رہا۔ تین بجٹ گزر گئے لیکن این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا،غیر آئینی عمل کی باتیں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے،موجودہ حالات میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا، احتساب کے بغیر کوئی بھی ملک و معاشرہ نہیں چل سکتا ، احتساب کے عمل کو معنی خیز بنانے کیلئے سیاستدانوں سمیت سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے، قائد اعظم کے 14 نکات میں سے چار نکات صوبائی خود مختاری پر ہیں۔2018ء میں مقررہ مدت پر ملک میں انتخابات ہونا ضروری ہیں، پرویز مشرف پر کیس بنا لیکن اس کو ریاست عدالت تک نہیں لے جا سکی اور وہ فرار ہو کر غیر ملک میں بیٹھا ہوا ہے، پاکستان کو دہشت گردی کے جن حالات کا سامنا ہے اس میں پرویز مشرف کا بہت بڑا کردار ہے جب وہ ایک ٹیلی فون کال پر جھک گیا احتساب کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک نہیں چل سکتا، عرب کلچر پاکستان میں متعارف نہیں کرواسکتے کیوں کہ وہ اسلامی نہیں، ہمارے سکولوں میں پاکستانی تاریخ ٹھیک انداز سے نہیں پڑھائی جاتی اور نصاب میں بچوں کو جہاد کی ترغیب دی جاتی ہے، اگر پنجاب بھگت سنگھ کو اپنے نصاب کا حصہ بنانا چاہتا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ان خیالات کا اظہار رضاربانی نے 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کے قوانین پر عملدرآمد کے چیلنجز پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔میاں رضا ربانی نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں صوبوں کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ 1947ء سے 2012ء تک تعلیم اور نصاب وفاق کے پاس تھا، سکولوں میں پاکستانی تاریخ ٹھیک انداز میں نہیں پڑھائی جاتی جبکہ سیمینار سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ ملکی تاریخ میں یہ دوسری مرتبہ ہوگا کہ 2018ء میں ایک سویلین حکومت پانچ سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد انتخابات کے بعد دوسری سویلین حکومت کو اقتدار منتقل کرے گی جبکہ 2018ء میں مقررہ شیڈول پر انتخابات ہونا بہت ضروری ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ بد قسمتی ہے کہ 18ویں ترمیم میں مارشل لاء کا راستہ روکا گیا کیس مشرف پر بنا لیکن اس کو عدالت تک ریاست نہیں لے جا سکی اور فرار ہو کر غیر ملک میں اس وقت بیٹھا ہواہے اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہاں سے وہ پاکستان کی سیاست پر تبصرہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے جن حالات کا سامنا ہے اس میں پرویز مشرف کا بہت بڑا کردار ہے جب وہ ایک ٹیلی فون کال پر جھک گیا ان کا کہنا تھا کہ قومی ڈائیلاگ کے حوالے سے بات کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے میں نے کوئٹہ میں جو بات کی تھی وہ مختلف بات تھی میں نے بات کی تھی کہ آئین کے تحت ادارے کام کررہے ہیں اور پاکستان کے آئین میں پارلیمان ،ایگزیکٹو اورعدلیہ ہے میں نے ان کے درمیان بات چیت کی بات کی تھی کہ وہ ڈائیلاگ ہونا لازم ہے اوراس میں ملٹری بیوروکریسی بھی شامل ہے لہٰذاہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ احتساب کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک نہیں چل سکتا اور احتساب کا عمل پاکستان کے آئین کے اندر مہیا کیا گیا ہے۔احتساب قانون کے حوالے سے بننے والی پارلیمانی کمیٹی کو میں نے ایک تفصیلی خط بھی لکھا تھا جس میں میں نے ایک کمیشن کی بات کی، میں نے یہ بات کی تھی کہ اگر احتساب کو بامعنی بنانا ہے تو وہ سب کیلئے برابر ہونا چاہیے اس میں یہ نہیں ہو سکتا کہ کچھ ادارے یہ کہیں کہ ہم اپنے سینیٹرز کے ذریعہ جوابدہ ہیں اور صرف کچھ لوگ سیاستدان اور سول بیوروکریسی خصوصی عدالتوں یا خصوصی قوانین کے تحت ہوں۔ سیاسی جماعتوں کی اپنی حکمت ہے میں اس پر کوئی رائے نہیں دوں گا ۔اخبارات میں نے پڑھا سیاسی جماعتوں نے فیصلہ اس کے برعکس کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں ہم نے دو روز قبل اپنی ایتھکس کمیٹی بنا دی ہے اور سینیٹ پاکستان میں پہلا ہاؤس بنا ہے جس میں سینیٹرز جوابدہ ہوں گے اگر کوئی بھی رکن یا شہری ان کے خلاف شکایت کمیٹی میں لے جا سکے گا۔ سینیٹ اور سینیٹرز نے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کردیا ہے میاں نواز شریف کے خلاف کیسز اور (ن) لیگ کے اندر اختلافات کی خبروں کے حوالے سے سوال پر رضا ربانی نے کہا کہ میرا عہدہ ایسا ہے کہ مناسب نہیں ہوگا کہ میں سیاسی بات پر اپنی رائے دوں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف آپریشن ہوئے ہیں یا جو آپریشنز جاری ہیں ان میں فوج کوخاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گوریلا جنگ یا دہشت گردی میں سلیپنگ سیل اور اس طرح کی بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں اور یہ توقع کرنا کہ بجلی کے بٹن کسی طرح آپریشن کریں گے یہ ختم ہو جائیں گے۔وہ ممکن نہیں ہے البتہ وقت کے ساتھ اور مسلسل جدوجہد کے ذریعہ یہ ختم ہونگے تاہم ابھی تک پاکستان آرمی اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے جو آپریشنز کیے ہیں ان میں خاطر خواہ کامیابی ہوئی ہے اور ہمیں اس دباؤ کو برقرار رکھنا پڑے گا اورمیں نہیں سمجھتا کہ اس حوالے سے سول اور ملٹری کے اندر کسی قسم کا کوئی تنازعہ ہے تمام سیاسی جماعتیں اس حوالے سے ایک پیج پر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بد قسمتی سے سول سروس ریفارمز کسی بھی سویلیں حکومت کی ترجیح یا ایجنڈہ نہیں رہا۔

چیئرمین سینیٹ

مزید :

صفحہ اول -