زرداری سے ملنے کیلئے بیتاب نہیں ، نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم لازمی ورنہ انتخابات میں تاخیر ہوگی ، سعد رفیق

زرداری سے ملنے کیلئے بیتاب نہیں ، نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم لازمی ...

  

 لاہور (نمائندہ خصوصی ) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے نوازشریف عدالت میں پیشی کیلئے ہی واپس آئے ہیں اور وہ مخالفین کیلئے کرسی کے بغیر زیادہ خطرناک ثابت ہونگے لیکن یہ بات مخالفین کو سمجھ نہیں آئی۔ زرداری صاحب سے ملنے کیلئے بیتاب نہیں، وہ جو لڈو بانٹتے ہیں ہمیں نہیں چاہئیں، ان کے لڈو ان جیسے ہاضمے والے ہی کھاسکتے ہیں ۔آصف زرداری کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،جو بھی ایجنڈا ہو ملک میں انتخابات کے راستے میں کوئی جماعت رکاوٹ نہ ڈالے۔ وفاقی وزیر نے عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جو شخص جلسے کر رہا ہے اسے بہت جلدی ہے، جلسے بعد میں کر لینا پہلے ملکر حلقہ بندیاں کر لیں، نئی مردم شماری کے بعد آئینی ترامیم ضروری ہیں، سیٹوں میں ردوبدل کے بعد ترامیم ضروری ہیں، ترامیم نہ ہونے سے بروقت الیکشن نہ ہونے کا خدشہ ہے۔ پنجاب کی نشستیں کم ہوئی ہیں، ہماری لیے مشکل ہے ہمارے ایم این اے کم ہوں گے لیکن پھر بھی ہم نے نتائج قبول کیے اسلئے باقیوں کو بھی خوشدلی سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ووٹ کے ذریعے حکومت بنانے کا حق عوام سے واپس نہیں لینا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو کسی بھی صورت آپس میں رابطہ ختم نہیں کرنا چاہیے۔ جو رابطہ نہ کرنے یا بات نہ کرنے کا کہے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے بس سیاستدان نہیں ہوسکتا۔ جس دور میں نواز شریف کو آصف زرداری سے نہ ملنے کا مشورہ دیا گیا تھا وہ مشورہ درست نہیں تھا، ملک پر قبضہ کرنیوالے ڈکٹیٹر گارڈ آف آنر کیساتھ باہر گئے، ملک میں شب خون مار کے قبضہ کرنیوالے راسخ حکمرانوں اور ان کے ناجائز اقتدار کو دوام بخشنے والے جج صاحبان سے کوئی جواب طلبی کا نظام نہیں اور جج اپنے حلف سے بے وفائی کرکے راسخ کا حلف اٹھاتے رہے۔کسی بھی وزیراعظم کو عزت کیساتھ نہیں جانے دیا گیا۔ کسی نہ کسی کے ساتھ کچھ کیا گیا اور یہ ہماری بد قسمت تاریخ ہے، نا انصافی پر بات کریں تو محاذ آرائی کا کہا جاتا ہے، قوم کی ترجمانی کرنی ہے، منہ پر پٹی نہیں باندھ سکتے، شریف خاندان میں کوئی اختلاف نہیں، کام کرنے کا طریقہ الگ الگ ہے۔ گزشتہ روز جاتی امراء میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر ریلوے اور مسلم لیگ کے سینئر رہنما کا مزید کہنا تھابر وقت عام انتخابات قومی مفاد کیلئے ضروری ہیں اورخبر دار کیا کہ اگر آئینی ترمیم نہیں کی گئی تو عام انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں، لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر نئی حلقہ بندیوں کے معاملے کو حل کرلینا چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کا رویہ مردم شماری کے حوالے سے رویہ ناقابلِ فہم ہے ۔ عمران خان کے ایجنڈے کا تو علم ہے لیکن آصف علی زرداری ایک نامعلوم ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری قیادت کو ناجائز طور پر شکنجے میں جکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمارے ساتھ جو ناانصافی کی جارہی ہے اس سے (ن) لیگ کا بیانیہ قوم کے سامنے آرہا ہے جبکہ جو لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں وہ ہماری جماعت کے حامی بنتے جارہے ہیں۔ جلسے کرنیوالے کو بہت جلدی ہے لیکن جب الیکشن کا ڈھول پڑے گا تو نتائج سامنے آجائیں گے جبکہ آصف زرداری کو سیاست کا این اسٹائن سمجھا جاتا ہے انہیں ایک مشورہ ہے ہمارے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کرالیں تاکہ انتخابات وقت پر ہوں۔ن لیگ نے کسی سے کوئی محاذ آرائی کی اور نہ کوئی ایجنڈا ہے، کسی کو بدنام نہیں کرنا چاہتے ہیں، ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، اپنے ایک نظریئے اور اصول سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، ہمارا اصول آئین کی حکمرانی ہے، جہاں بھی جو بھی آئین کی حکمرانی کی حمایت کرے گا ہم اس کیساتھ ہیں، جو اس سے ہٹے گا اسے سمجھائیں گے۔

سعد رفیق

مزید :

صفحہ اول -