جب حضرت علی ؓ نے عورت کو اپنے بیٹے سے زنا کرنے سے بچالیا

جب حضرت علی ؓ نے عورت کو اپنے بیٹے سے زنا کرنے سے بچالیا
جب حضرت علی ؓ نے عورت کو اپنے بیٹے سے زنا کرنے سے بچالیا

  

شواہد النبوۃ میں باب العلم شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی کرامت اور معراج علم کا واقعہ کچھ یوں بیان کیا گیا ہے ۔ امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاشانہ خلافت سے کچھ دور ایک مسجد کے پہلو میں دومیاں بیوی رات بھر جھگڑا کرتے رہے ۔ صبح کوامیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کو بلا کر جھگڑے کا سبب دریافت فرمایاتو شوہر نے عرض کیا ’’اے امیر المؤمنیںؓ میں کیا کروں ؟نکاح کے بعد مجھے اس عورت سے بے انتہا نفرت ہوگئی ہے ،میرا رویہ دیکھ کر بیوی مجھ سے جھگڑا کرنے لگی، پھر بات بڑھ گئی اوررات بھر لڑائی ہوتی رہی‘‘

امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام حاضرین دربارکوباہر نکال دیا اور عورت سے فرمایا ’’ دیکھ میں تجھ سے جو سوال کروں اس کا سچ سچ جواب دینا‘‘ پھرآپؓ نے فرمایا’’ اے عورت! تیرا نام یہ ہے ؟ تیرے باپ کا نام یہ ہے؟‘‘

عورت حیران ہوئی کہ امیرالمؤ منین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ سب کیسے معلوم ہوا حالانکہ اس نے بتایا بھی نہیں۔ بولی’’بالکل ٹھیک آپ نے بتایاہے یا امیر المومینینؓ ‘‘۔

پھرآپ نے فرمایا ’’ اے عورت تو یاد کر کہ تو زناکاری سے حاملہ ہوگئی تھی اورایک مدت تک تو اورتیری ماں اس حمل کو چھپاتی رہی۔ جب دردزہ شروع ہوا تو تیری ماں تجھے اس گھر سے باہر لے گئی اور جب بچہ پیدا ہوا تو اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر تو نے میدان میں ڈال دیا۔ اتفاق سے ایک کتااس بچے کے پاس آیا۔ تیری ماں نے اس کتے کو پتھر مارا لیکن وہ پتھر بچے کو لگا اوراس کا سرپھٹ گیا ۔تیری ماں کو بچے پر رحم آگیا اوراس نے بچے کے زخم پر پٹی باندھ دی۔ پھر تم دونوں وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئیں۔ اس کے بعد اس بچے کی تم دونوں کو کچھ بھی خبر نہیں ملی۔ کیا یہ واقعہ سچ ہے؟‘‘

عورت نے کہا ’’ ہاں! اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ پورا واقعہ حرف بحرف صحیح ہے‘‘

آپؓ نے فرمایا’’ اے مرد!تو اپنا سرکھول کر اس کو دکھا دے‘‘ مرد نے سرکھولا تو اس زخم کا نشان موجود تھا۔ اس کے بعد امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ’’اے عورت!یہ مردتیراشوہرنہیں ہے بلکہ تیراوہی بیٹا ہے جسے تو پھینک کر چلی گئی تھی ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکروکہ اس نے تم دونوں کو حرام کاری سے بچالیا، اب تو اپنے اس بیٹے کو لے کراپنے گھر چلی جا‘‘

مزید :

روشن کرنیں -