امریکی قونصل خانے کے تعاون سے کراچی میں ہونے والی دوروزہ آئی ٹی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی

امریکی قونصل خانے کے تعاون سے کراچی میں ہونے والی دوروزہ آئی ٹی کانفرنس ...
امریکی قونصل خانے کے تعاون سے کراچی میں ہونے والی دوروزہ آئی ٹی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی

  

کراچی(این این آئی)امریکی قونصل خانے کے تعاون سے کراچی میں ہونے والی دوروزہ آئی ٹی کانفرنس اختتام پزیر ہوگئی ہے ۔کانفرنس کا انعقاد نیسٹ آئی او نے کیا جو پاکستان کا سب سے بڑا انکیوبیٹر ہے۔کانفرنس میں کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل گریس شیلٹن نے بھی خطاب کیا۔ہفتہ کو شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس ،جسے ’’زیرو ٹو ون ڈسرپٹ‘‘ کا نام دیا گیا، کانفرنس میں متعدد ملکی وغیر ملکی آئی ٹی ماہرین نے خطاب کیا جبکہ کانفرنس میں آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔شرکا ماہرین کی آراء سے بھرپور طریقے سے فیض یاب ہوئے۔ماہرین نے کہا کہ آئی ٹی، سوفٹ ویئر، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور گوگل کی جدت طرازیوں کی بدولت حالیہ برسوں میں ایک نئی دنیا تخلیق ہوئی ہے، اپنی تیز رفتاری، سہولت اور انتہائی مفید ہونے کے سبب اسے ملنے والی پذیرائی نے اسے ہر جگہ عام کردیا ہے، آئی ٹی کی یہ دنیا گلوبل ویلیج کو مزید مختصر کرگئی ہے۔ امریکی قونصل جنرل گریس شیلٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں پرامید ہوں کہ امریکی شرکا یہاں سرمایہ کاری میں اضافہ کریں گے، فیس بک، گوگل اور بہت سی معروف کمپنیاں کانفرنس میں تبادلہ خیال سے استفادہ کریں گی۔انہوں نے کہاکہ ایسی مفید کانفرنسز منعقد ہوتی رہنی چاہئیں، ان سے پاکستانی ماہرین کو دنیا بھر میں پھیلے لوگوں کے خیالات اور تجربات جاننے کا نادر موقع ملے گا۔کانفرنس کی روح رواں نیسٹ آئی او کی صدر جہاں آراء نے ابتدائی خطاب میں کہا کہ کانفرنس کا مقصد لوگوں کو آئی ٹی، سوفٹ وئیر اور گوگل جیسی جدید ٹیکنالوجی اور جدت طرازی سے آگاہ کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ کانفرنس کے ذریعے اسپیکرز کو ایک ایسا پلٹ فارم مہیا کرنا چاہتی تھیں جہاں تمام ماہرین اور پیشہ ور افراد ایک ہی چھت کے تلے جمع ہوکر اپنے خیالات ایک دوسرے سے شیئر کر سکیں۔انہوں نے مختصر مدت میں کانفرنس کے انعقاد اور انتظام و انصرام کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کیا اور اپنے ساتھیوں کو اظہار تشکر کیا۔ ایک سیشن میں پنجاب آئی ٹی بورڈ کے چیئرمین عمر سیف نے بھی حصہ لیا،انہوں نے کام کے دوران پیش ہونے والی دشواریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ بیوروکریسی کے ساتھ کام کرنا کس قدر مشکل ہے اور میرا ابتدائی تجربہ بھی دوسروں سے مختلف نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری افراد کو مختلف طریقوں سے مدد فراہم کرسکتی ہے اور اس حوالے سے کافی فنڈز موجود ہیں۔گوگل کے لیے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے خرم جمالی نے کہا کہ ماہرین اور کاروبار افراد گوگل کی ترقی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اپنے خطاب میں امریکی ماہراور اسٹریٹجسٹ ہب اسپاٹ کے ایگزیکٹو سام مالیکارجونن نے کہا کہ عام طور پر پاکستان سے متعلق بہت سی منفی باتیں کہی جاتی ہیں لیکن اب تبدیلی آرہی ہے اور یہاں سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے بہت سے مواقع ہیں۔جونن نے کہا کہ بہت سے مغربی ممالک کے برعکس پاکستانی قوم خطرات مول لے کر اپنی منزل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری افراد سے متعلق ایک چیز انتہائی تعجب خیز ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ بہت پرامید ہوتے ہیں ، ان میں ایک طرح کی نئی انرجی مجھے نظر آتی ہے، یہ انرجی میں نے دنیا میں کہیں اورنہیں دیکھی۔

مزید :

کراچی -