حامد میر کے خلاف آئی ایس آئی کے مقتول ریٹائرڈ افسر خالد خواجہ کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج

حامد میر کے خلاف آئی ایس آئی کے مقتول ریٹائرڈ افسر خالد خواجہ کو اغوا کرنے کا ...
حامد میر کے خلاف آئی ایس آئی کے مقتول ریٹائرڈ افسر خالد خواجہ کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی حامد میر کے خلاف آئی ایس آئی کے مقتول ریٹائرڈ افسر خالد خواجہ کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ،ان کے علاوہ اس مقدمے میں کالعدم تحریک طالبان کے کارندے عثمان پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے، خالد خواجہ کو 2010 میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ رمنا پولیس نے سینئر صحافی حامد میر اور عثمان پنجابی کے خلاف مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کے حکم پر درج کیا ہے جنہوں نے مقتول کی بیوہ کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا۔پولیس کے اعلیٰ حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر اپنی لیگل برانچ سے مزید مشاورت کی جس کے بعد حامد میر اور عثمان پنجابی کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔

خالد خواجہ کی بیوہ شمائما ملک کی جانب سے دائر کی جانے ولی درخواست میں حامد میر اور عثمان پنجابی کے درمیان منظر عام پر آنے والی مبینہ گفتگو کا ذکر کیا گیا ہے جس میں وہ خالد خواجہ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں حامد میر اور عثمان پنجابی کے مابین ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تھی جس میں دونوں کے درمیان موضوع بحث خالد خواجہ ہی تھے تاہم حامد میر نے اس ٹیلی فون کال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عثمان پنجابی کے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کی آواز ان سے مشابہت نہیں رکھتی ۔

درخواست گزار شمائما ملک کا کہنا تھا کہ حامد میر نے عثمان پنجابی کے ساتھ مل کر ان کے شوہر کو اغوا کیا اور پھر انہیں جنوبی وزیرستان میں قتل کر دیا گیا۔ دونوں ملزمان کے خلاف یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت درج کیا گیا ہے جس کی قانون میں سزا سات سال قید اور جرمانہ ہے۔

بی بی سی کے مطابق 1987 میں فوج سے جبری ریٹائرمنٹ کے باوجود خالد خواجہ آئی ایس آئی کے لیے مختلف منصوبوں کے لیے کام کرتے رہے ہیں، اور افغان جہاد میں بھی وہ مختلف معاملوں پر آئی ایس آئی کے لیے مبینہ طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔خالد خواجہ کے اہل خانہ کے بقول وہ قبائلی علاقے میں طالبان پر ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیے گئے تھے جہاں اغوا کاروں نے انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -