ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 3

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 3
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 3

  

پیشگی علم کی نعمت

ہم رات بھر کے جاگے ہوئے تھے ۔ہوٹل پہنچتے ہی ہمیں سوجانا چاہیے تھا، مگر پہلے اپنی سالی ثنا سے ملاقات کرنا تھی جو وہیں ایک ہوٹل میں مقیم تھی۔چنانچہ کمرے میں پہنچتے ہی میں نے اپنے موبائل کو وائی فائی سے کنکٹ کیا اور اسے اپنی آمد کی اطلاع دی۔اس نے ہمیں ٹیکسم ا سکوائر آنے کے لیے کہا۔ ہم وہا ں پہنچے تو اسے اپنا منتظر پایا۔

اس بے چاری نے اپنا ٹور اپنی بہن کے ساتھ مل کر بنایا تھا، مگر ہمارا ویزہ دیر سے ملنے کی بنا پر وہ پہلے آ گئی اور پورا استنبول دیکھ کر فارغ ہو چکی تھی۔ آج ان سب کی ترکی کے ایک دوسرے شہر گوریم کے لیے روانگی تھی۔ہمارا وہاں بعد میں جانا ہوا۔اس کے ساتھ ہم اس کے ہوٹل گئے جہاں اس کی دونوں بچیوں اور اپنے ہم زلف تنزیل سے ملاقات ہوئی۔ میرا بیٹا جس کے نام پر میری کنیت ابو یحییٰ ہے ، اپنی کزنز سے مل کر بہت خوشی خوشی ان کے ساتھ کھیلنے لگا۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 2 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ثنا اس سفر میں ہم سے ہر قدم آگے ہی رہی۔ اس کا ہمیں بہت فائدہ ہوا۔ اس نے اپنے تجربات کی روشنی میں ہمیں ہر حوالے سے اور ہر چیز کے بارے میں مکمل گائڈ کر دیا۔ثنا کے ذریعے سے ٹرانسپورٹ استعمال کرنے سے لے کر کھانے پینے غرض ہر معاملے میں ٹور کی کم و بیش ہر چیز کا ہمیں پہلے ہی علم ہو چکا تھا۔اپنی لاعلمی کی بنا پر ایک سیاح جن مشکلات یا نقصانات کا شکار ہوتا ہے ، ہم ا ن سے مکمل محفوظ رہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ پیشگی علم یا غائب چیزوں کا علم دنیا کی سب سے بڑ ی نعمت ہے ۔خاص طور پر یہ علم کسی ایسی چیز کے بارے میں ہو جس کا براہ راست ہم سے تعلق ہو اور کل ہمارا واسطہ اس سے پڑ نے والا ہوتو ہم اس علم کے دینے والے کے لیے سراپا شکر بن جاتے ہیں ۔ کیونکہ اس طرح ہم کئی فوائد حاصل کر لیتے ہیں اور نقصانات سے بچ جاتے ہیں ۔

یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ علم حاصل ہوجائے تو دنیا میں جتنا مفید ہوتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ آخرت کے پہلو سے مفید ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیا علیھم السلام کے ذریعے سے انسانیت پر سب سے بڑ ا احسان یہ کیا کہ آخرت کا تمام پیشگی علم ہمیں عطا کر دیا ہے ۔ آخرت کی نجات کے حوالے سے اپنے کام کی ہر چیز سے ہم پوری طرح واقف ہیں ۔ یہ ہمارے رب کا ہم پر بڑ ا احسان ہے ۔تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم مسلمان آخرت کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھتے ۔ ہمیں یہ غلط فہمی ہے کہ آخرت کا احتساب غیر مسلموں کے لیے ہو گا۔ ہم تو بخشے بخشائے ہیں ۔ اس لیے ہم اس علم سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دیگر چیزوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں ۔ ہمیں جس چیز میں دلچسپی نہیں ہے وہ آخرت کے اس علم کو انسانیت تک پہنچانا ہے ۔شاید ہمارے نزدیک یہ کوئی کرنے کا کام ہی نہیں ۔

مگر یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی نبی نبوت ملنے کے بعد نبوت کے فرائض ادا کرنے یعنی دعوت و تبلیغ سے انکار کر دے ۔ اللہ کے جلیل القدر انبیاء نے تو خیر یہ کام کبھی نہیں کیا۔ لیکن ان کی امتوں نے کیا ہے ۔ جس کے بعد اللہ تعالیٰ ان امتوں کو دنیا میں عبرت کا نشان بنادیتے ہیں ۔ لیکن جب امت یہ کام کرتی ہے تو اسے دنیا میں غلبہ و اقتدار مل جاتا ہے ۔ اس حقیقت کے باوجو دمسلمان غلبہ و اقتدار کے لیے غیر مسلموں سے جھگڑ نے کو دین سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ مسلمانو ں کے غلبے کا راستہ دعوتِدین میں پوشیدہ ہے ۔مگر سردست مسلمان لیڈر شپ یہ بات ماننے کو تیار نہیں ۔

یارب وہ نہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے میری بات

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

اس ’’ناسمجھی‘‘ کا ایک اہم اور بنیادی سبب جو میں اپنے ناقص فہم کی روشنی میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اہل مغرب نے مسلمانوں سے ان کا ہزار سالہ اقتدار چھینا ہے ۔ جس کے نتیجے میں مسلم لیڈرشپ عمومی طور پر مغرب کی شدید نفرت میں مبتلا ہے ۔ نفرت میں مبتلا کسی شخص کوکوئی بات سمجھانا بہت مشکل ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اہل مغرب نے دنیا کی امامت کے منصب سے معزول نہیں کیا۔ہماری کوتاہیوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ۔ جب ہم نے دعوت اور شہادت حق کا کام چھوڑ دیا تو یہ مغلوبیت بطور سزا ہم پر مسلط کر دی گئی اور دوسو برس کی سرتوڑ کوشش کے باوجود ختم نہیں ہورہی۔مگر جس روز ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کر دیں گے تو کچھ ہی عرصہ میں ہمارا منصب بحال ہوجائے گا ۔ورنہ ذلت و رسوائی یونہی ہمارا مقدر رہے گی۔ یہ چیز ہم جتنی جلد سمجھ لیں اتنا ہی بہتر ہو گا۔

اللہ کی ایک خصوصی عنایت

ثنا نے ہمیں بتادیا تھا کہ ایرپورٹ سے ٹیکسم ا سکوائر تک وہ لوگ کافی مہنگی ٹیکسی میں آئے تھے ۔مگر وہاں سے ٹیکسم تک ایک بس بھی آتی ہے جو بہت کم پیسے لیتی ہے ۔ہم اسی آرام دہ اور کشادہ بس میں اطمینان سے بیٹھ کر اپنے ہوٹل کے قریب تک آ گئے تھے ۔راستے بھر میں جدید اور خوبصورت استنبول کو دیکھتا رہا۔ ترکی میں حالیہ برسوں کی معاشی ترقی کی بنا پر ایک بہت مضبوط اپر مڈل اور مڈل کلاس وجود میں آ گئی ہے ۔ چنانچہ ترکی کی سڑ کوں پر ہر جگہ جدید ماڈل کی گاڑ یاں رواں دواں تھیں ۔ میں ائیر پورٹ سے ہوٹل آ رہا تھا تو ان گاڑ یوں کو دیکھ کر یونہی دل میں خیال آیا کہ کسی مقامی ترکی کی آرام دہ گاڑ ی میں بیٹھ کر استنبول دیکھا جائے تو خود اِدھر اُدھر دھکے کھانے کی بہ نسبت کافی آسانی ہو گی۔ مگرپھر میں نے اس خیال کو ذہن سے فوراً جھٹک دیا۔میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ ملی ہوئی نعمت پر نظر رکھنا چاہیے ۔ اس کو چھوڑ کر نہ ملی ہوئی چیز پر للچائی ہوئی نظر رکھنا منفی اندازِفکر ہے ۔ ایسا انسان کبھی مطمئن نہیں رہتا۔

مگر اگلے دن جو ہوا اس سے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میری اس خواہش کی تکمیل کا وہ اہتمام کر دیں گے ۔ ہوا یہ ہے کہ میرے بھتیجے سعد کی ایک اسٹوڈنٹ اسریٰ استنبول میں رہتی تھی۔ اس کو جیسے ہی علم ہوا کہ سعد کے چچاکی فیملی یہاں آئی ہوئی ہے ، اس نے ہمارا نمبر لیا اور میری اہلیہ سے رابطہ کر لیا۔اس کے بعد وہ مُصِر ہوگئی کہ اسی نے استنبول ہم کو دکھانا ہے ۔

میں نے بہت سختی سے منع کیا ۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں اور ہمارا کوئی ایسا گہرا تعلق بھی نہ تھا۔ بلکہ سرے سے نہ تھا، مگر وہ سر ہوگئی۔چونکہ اگلے دن ہفتہ تھا اور ویک اینڈ کا آغاز تھا اس لیے اس کی چھٹی بھی تھی۔ چنانچہ ایک دن کے لیے ہم اس کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگئے ۔یہ طے ہو گیا کہ اگلے دن وہ ہمیں ترکی کے اہم ترین تاریخی مقامات یعنی بلیو مسجد، آیا صوفیہ اور توپ کاپی لے چلے گی۔

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم

یہ فارسی کے ایک مشہور شعر کا مصرعہ ہے ۔ شعر کا دوسرا مصرعہ اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ذو معنی ہے اور اس کا دوسرا مفہوم اخلاقیات سے گرا ہوا ہے ۔لیکن پہلا مصرعہ ہمارے ہاں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے دوست کی زبان ترکی ہے اور مجھے ترکی نہیں آتی۔ ترکی میں مجھے یہ مصرعہ بہت یاد آیا۔ ہر قدم پر ہمیں اس بات کا تجربہ ہوا کہ ترکوں کو ترکی کے سوا کوئی اور زبان نہیں آتی۔اتنا بڑ ا سیاحتی مرکز ہونے کے باوجود یہاں انگریزی کا کوئی ذکر نہیں ۔ایک دو مواقع پر زبان کی وجہ سے بڑ ی دقت پیش آئی۔ مثلاًاستنبول کے ایک خوبصورت مقام پرنسز آئی لینڈ پر تو مجھے دیر تک واش روم ہی نہ مل سکاکہ وہاں کے مقامی لوگ واش روم کے لفظ کو نہیں سمجھ پا رہے تھے ۔ حالانکہ وہاں ہزاروں سیاح موجود تھے اور ہر وقت موجود رہتے ہیں ۔اس لیے میراخیال ہے کہ ترکی جانے والے ہر سیاح کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ چند بنیادی ضرورت کے اسماء اور جملے یاد کر لے ۔

بہرحال یہی مشکل ہمیں اسریٰ کے ساتھ پیش آئی۔وہ اتنی انگریزی پڑ ھ لکھ لیتی تھی کہ اپنا مافی الضمیر بیان کرسکے اور دوسروں کا سمجھ سکے ۔ مگر ایک انگریزی جملہ بولنا بھی اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے وہ ہر ملاقات میں ایک نئی خاتون کو بطور مترجم ساتھ لائی۔تین ملاقاتوں میں تین مختلف خواتین اس کے ساتھ آئیں ۔ جبکہ چوتھی دفعہ اس کو کوئی نہیں ملا ۔ اس دفعہ ہم نے مکالمے کے لیے اس کے موبائل فون کو استعمال کیا۔یعنی ہمیں جب کچھ کہنا ہوتا تو ہم انگریزی میں جملہ لکھ دیتے ۔ انٹرنیٹ کے ذریعے سے وہ جملہ ترکی میں ترجمہ ہوتا اور پھر جواب میں وہ ترکی میں لکھتی جو انگریزی میں ترجمہ ہوجاتا۔ یوں کچھ مشکل سے سہی لیکن پیچیدہ قسم کی گفتگو بھی ہم نے کرڈالی۔

زبان بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے ۔ قرآن مجید کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت اور نعمت کا ظہور ہے ۔ہم کتنی پیچیدہ اور مشکل معلومات اور خیالات کا تبادلہ کس قدر آسانی سے کر لیتے ہیں ۔یہ زبان ہی ہمارے سارے جذبات و احساسات کی ترجمان ہے ۔ مگر افسوس کہ لوگ سب سے بول لیتے ہیں ۔ نہیں سیکھتے تو رب سے گفتگو کرنا نہیں سیکھتے ۔ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے گفتگو کے لیے کوئی خاص زبان سیکھنی ہے ۔ اس سے تو ہر زبان میں بات ہو سکتی ہے ، مگر ہمارے پاس اللہ تعالیٰ سے گفتگو اور راز و نیاز کے لیے وقت نہیں ۔ بہت ہوا تو کسی مشکل میں دعا کر لی۔ یہ بھی اچھی بات ہے ۔ لیکن صرف مشکل ہی میں اللہ کو پکارنا اور باقی وقت اسے بھولے رہنا کوئی اچھا رویہ تو نہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے تو ہر وقت بات ہونا چاہیے ۔ اس کی بڑ ائی کے اعتراف میں ۔ اس سے اظہار محبت کے لیے ۔اس کادلی شکریہ ادا کرنے کے لیے ۔ اس کے جمال و کمال کے بیان کے لیے ۔ ہمارے پاس ہر چیز کا وقت ہے ۔ مگر اس کا وقت نہیں ۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

سیرناتمام -