قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 101

05 نومبر 2017 (23:43)

شاد امرتسری ہمارے دوست تھے۔ وہ دل محمد روڈ پر رہتے تھے اور شام کو ان کے ہاں لوگ جاتے تھے اور پینے پلانے والے اپنا اپنا سازو سامان اٹھا کر وہاں پہنچ جاتے تھے۔ وہاں محمود اختر کیانی کے علاوہ جو لوگ آتے تھے ان میں حبیب جالب ، عدم صاحب اور مرحوم نصیر انور وغیرہ شامل تھے۔ یہ جس دن کی بات کر رہا ہوں اس دن وہاں عدم صاحب محمود اختر کیانی اور پانچ چھ دوسرے افراد موجود تھے۔ میں بھی وہیں تھا۔ عدم صاحب کو معلوم نہیں تھا کہ محمود اختر کیانی اقبال کے ذکر سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ انہیں اس بات کا پس منظر بھی معلوم نہیں تھا۔ وہ بہت معصوم آدمی تھے اور معصومیت ہی میں انہوں نے اقبال کے کسی شعر پر تنقید کر دی ۔ فوراً ہی محمود اختر نے کہا” دیکھئے عدم صاحب میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کوئی گستاخی کر بیٹھوں۔ آپ میرے تائے کے بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتے“

وہ حیران ہوئے اور کہنے لگے ” میں نے تمہارے تایا کے بارے میں کب بات کی ہے“

محمود کہنے لگے” آپ نے علامہ اقبال کی بات کی ہے“

عدم صاحب کہنے لگے ”اچھا تو وہ تمہارے تایا کب سے ہو گئے“

۔ محمود اختر لگے” آپ کو پتہ نہیں کہ وہ میرے والد کے بھائی اور دوست تھے“

عدم صاحب کہنے لگے ” چلو ہم یہ بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن شاعر پبلک کا آدمی ہوتا ہتے اور جہاں ہم ننانوے فیصد اسے پسند کرتے ہیں وہاں ایک فیصد اس سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں“

محمود اختر کہنے لگے ” میرے سامنے آپ ایک فیصد چھوڑا اعشاریہ ایک فیصد بھی ان پر تنقید نہیں کر سکتے“

عدم صاحب کہنے لگے ”یار چھوڑو ان باتوں کو میں تم سے بڑا شاعر ہوں“

محمود اختر کہنے لگے” اگر یہ بات ہے تو آپ مجھ سے بڑے شاعر بھی نہیں ہیں۔ اگرا ٓپ اقبال کو نہیں مانتے تو آپ بھی مجھ سے بڑے شاعر نہیں ہیں“ ان کی تکرار جاری تھی کہ درمیان میں تجمل حسین دل بولا اور کہنے لگا ” یار چھوڑو عدم صاحب تنقید کر سکتے ہیں کیونکہ علامہ اقبال بھی بڑے شاعر تھے اور عدم صاحب بھی بڑے شاعر ہیں“

اب محمود اختر کیانی اٹھے اور زور سے تجمل حسین دل کو ایک لات ماری اور وہ دروازے سے باہر گرا۔ ایک اور آدمی انہیں بچانے کیلئے آگے بڑھا تو اسے بھی ایک لات ماری اور وہ بھی دور جا کے گرا۔ عدم صاحب اٹھے اور کہنے لگے” لو بھئی اب شیر بھی آگیا ہے “

یہ ابھی یہ بات کرہی رہے تھے کہ اس نے عدم صاحب کو بھی ایک لات ماری اور وہ بھی دروازے سے باہر گرے۔ اب کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تھاکہ یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔ جو آگے جائے گا اسے مار پڑے گی۔ میں وہاں سے اٹھا نہیں اور میں نے اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے کہا ” محمود اختر یہ سارے لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو اور علامہ کی شان میں جو گستاخی کر ے گا اس کی یہی حالت ہو گی۔ لیکن اگر یہ پاگل ہو گئے ہیں تو کیوں پاگل بنتے ہو“ جب میں نے اس کی تعریف کی اور دوسروں کی برائی کی تو وہ بالکل ٹھنڈا ہو گیا اور کہنے لگا ” دیکھئے قتیل صاحب! آپ نے ٹھیک بات کی ہے۔ اب کوئی مائی کالال ہے جو میرے تایا کے خلاف بات کرے“

میں نے کہا ” انہیں کافی سزا مل گئی ہے ۔ اس لیے اب تم بیٹھ جاﺅ۔ “وہ وہاں بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے وہیں سوگیا۔ میں نے شاد سے کہا کہ اسے صوفے پر تکیہ رکھ کر لٹاﺅ اور صبح ہو گی تو موٹر سائیکل پر بھیج دینا۔

نریش کمار شاد پہلے لاہور ہی میں رہتے تے۔ ان کا اصل وطن کوٹ رادھا کشن تھا۔ لیکن پارٹیشن سے پہلے لاہور ہی میں تھے اور یہیں سے انہوں نے شاعری شروع کی اور رسالہ ”بیسوی صدی “ جو اس وقت لاہور سے نکلتا تھا میں انہوں نے کلرک کے طور پر کام کیا لیکن ان میں اس زمانے میں بھی چمک تھی۔ ان کے والد کا نام دردنکودری تھا اور اس زمانے میں ان کا نام بھی شاد نکودری تھا۔ ان کا نام تریش کمار شاد بعد میں بنا۔ بیٹا شاد نکودری تھا اور باپ درد نکودری تھا۔ ان کے والد کا اصل نام نرویا رام تھا اور پختہ شاعر تھے عروضی قسم کے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 100

پارٹیشن کے بعد دونوں باپ بیٹا انڈیا چلے گئے اور ایک مشاعرہ سنیدور میں ہوا۔ انہوں نے وہاں مجھے اپنے باپ سے ملوایا۔ ان کی یہ عادت تھی کہ جب پی لیتے تھے تو ان کے اندر سے ایک دیو باہر نکل آتا تھا جو ان لوگوں کو بڑی حقارت سے دیکھتا تھا جنہیں یہ حقارت سے دیکھنا چاہتے تھے لیکن جن لوگوں کی یہ عزت کرتے تھے ان کی پینے کے بعد بھی ضرورت سے زیادہ عزت کرتے تھے ۔ شاد کو قطعاً یہ گوارا نہیں تھا کہ کوئی بیٹے کو باپ کے نام سے پہچانے ۔ دونوں باپ بیٹا بیٹھے پی رہے تھے اور ایک دوسرے کو ڈال کر دے رہے تھے۔

شاد صاحب مجھے کہنے لگے ” قتیل صاحب آئیے میں آپ کو اپنے والد سے متعارف کرواتا ہوں۔ یہ میرے والد ہیں درد نکودری ۔ آپ نے ان کا نام سنا ہو گا۔“

میں نے کہا ” بالکل سنا ہوا ہے اچھے شعر کہہ لیتے ہیں اور اپنے علاقے میں بہت مشہور ہیں“

باپ بولا” قتیل صاحب میں جیسا بھی شاعر ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے ایک اچھا شاعر پیدا کیا ہے ۔ میرا بیٹا آپ کے سامنے ہے“

شاد کہنے لگے ”دیکھو قبلہ والد صاحب ! آپ اس کا کریڈٹ نہ لیجئے۔ آپ اپنی شاعری کی بات کیجئے۔ مجھے آپ نے شاعر پیدا نہیں کیا تھا۔ میں پیدا ہو گیا تھا اور شاید آپ ہی نے پیدا کیا ہے لیکن شاعر میں خود بنا ہوں۔ یہ کریڈٹ آپ نہ لیجئے“

۔ باپ نے کہا ” تو بہت بدتمیز ہو گیا ہے ۔باپ سے اس طرح بات کی جاتی ہے “

اس نے کہا ” آپ بیٹے کے کمائے ہوئے نام میں حصہ دار بننا چاہتے ہیں“ چنانچہ اس بات پر لڑائی ہو گئی۔ باپ نے بیٹے کو تھپڑ مار دیا اور بیٹے نے باپ کو گریبان سے پکڑ لیا۔ بڑی مشکل سے ہم نے انہیں چھڑایا اور یہ نظارہ بھی دیکھا کہ جب ایک شرابی کی انا ایک غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے تو اس کا ہاتھ باپ پر بھی اٹھتا ہے ۔ یہ ہاتھ ایک شرابی کا نہیں تھا بلکہ ایک شاعر کی انا کا ہاتھ تھا جو غلط راستے پر چل نکلی تھی۔ اب درد نکودری صاحب اس دنیا میں ہیں اور نہ ہی شادنکودری ۔ دردنکودری صحافی تھے اور جالندھری میں ایک روزنامے کے دفتر میں کام کرتے تھے ۔ ایک دن تنخواہ لے کر دفتر سے نکلے اور اس کے بعد آج تک واپس نہیں آئے۔اس واقعہ کو کوئی بیس سال ہو گئے ہیں اور آج تک یہ پتہ نہیں چل سکاکہ وہ کہاں گئے ہیں۔ نریش کمار شاد جمناکے کنارے گھوم رہے تھے کسی کو پتہ نہیں۔ کچھ راہگیروں نے دیکھا کہ ایک آدمی کا آدھا دھڑ پانی میں ہے اور آدھا باہر کنارے پر ۔ جب انہوں نے قریب جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ آدمی مرا پڑا ہے ۔ شناخت ہوئی تو وہ نریش کمار شاد تھے۔

جاری ہے

مزیدخبریں