اپوزیشن کے جمہوری اور انسانی حقوق

اپوزیشن کے جمہوری اور انسانی حقوق

  



جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں اپنے پُرہجوم دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے فیصلے مشترکہ اپوزیشن کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہاں سے پسپائی نہیں بلکہ پیش قدمی ہو گی اور (ضرورت پڑی تو) پورے ملک کو اجتماع گاہ بنا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوش نہیں ہوش مندی سے کام لینا ہو گا۔ زور دے کر کہا کہ ہم کسی ٹربیونل، الیکشن کمیشن یا عدالت کا رخ نہیں کریں گے۔ اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں پوری قوم کے ووٹ کا ہے، عوام کو ووٹ کا حق دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ حکمرانوں کو جانا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ہم سے زیادہ بے بس ہے، وہاں پانچ سال کے دوران تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکا(تو اور کیا ہو گا)۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کا نہ کوئی اجلاس ہوا، نہ ہی اس کے قواعد بن پائے۔ یہاں سے جائیں گے تو پیش رفت کے ساتھ جائیں گے۔ انہوں نے اپنے شرکاء کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا ڈی چوک جانے کا ارادہ نہیں ہے کہ وہاں جا کر جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ اس کھلی جگہ بھی کیا جا رہا ہے۔(ڈی چوک میں یہ ہجوم سما نہیں سکے گا)

مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ سے اپنا اولین خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی کہ وہ استعفیٰ دے دیں، ورنہ…… اس ورنہ کے بعد کی تفصیل کا ذکر انہوں نے موخر کر دیا تھا، اس سے خوف و ہراس کی ایک چادر اسلام آباد انتظامیہ کے سر پر تن گئی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مولانا یہ مہلت ختم ہونے کے بعد اپنے دیوانوں کو آگے بڑھنے کا حکم دے دیں گے۔ جس طرح تحریک انصاف اور ڈاکٹر طاہر القادری کا ”دھرنائی ہجوم“ 2014ء میں آگے بڑھ آیا تھا، اسی طرح آزادی مارچ بھی یلغار کر دے گا۔ مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ہونے والے جمعیت العلمائے اسلام کے معاہدے کی دہائی دینا شروع کر دی تھی کہ اس کے مطابق ہجوم کو ایچ نائین سیکٹر تک محدود رہنا تھا۔ کہا جا رہا تھا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو پھر طاقت استعمال کرنا پڑے گی۔ اسلام آباد پولیس اور یہاں خصوصی طور پر طلب کئے جانے والے ایف سی کے دستوں کو پوزیشن سنبھال لینے کا حکم دے دیا گیا تھا اور اسلام آباد کو جانے والے راستوں اور داخلی سڑکوں پر کنٹینر کھڑے کرکے انہیں بند کرنے کی کوشش میں تیزی آ گئی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جگہ جگہ کھڑے کئے جانے والے یہ کنٹینر آزادی مارچ کے بہت سے شرکاء کے لئے جائے پناہ بن گئے۔ انہوں نے خیمے سمجھ کر ان میں پڑاؤ ڈال لیا اور ہزاروں افراد ان کے اندر سما کر اپنے آپ کو سرد موسم کے اثرات سے بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ مارچ کے شرکاء ٹی وی کیمروں کے سامنے یہ مطالبہ بھی کرتے دیکھے گئے کہ کنٹینر کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ان میں ”خیمہ زن“ ہو سکیں۔

اڑتالیس گھنٹے ختم ہوئے تو ماحول میں تناؤ پیدا ہو گیا، تشویش اور اضطراب کی لہریں ملک بھر میں اٹھنے لگیں لیکن مولانا فضل الرحمن نے ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے جب مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا تو حالات کو مٹھی میں لے لیا۔ انہوں نے متحدہ حزب اختلاف کے رہنماؤں پر ذمہ دری ڈال دی کہ وہ جس نتیجے پر پہنچیں گے، اس کے مطابق آئندہ قدم اٹھایا جائے گا۔مولانا نے الیکشن کمیشن اور انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بننے والی کمیٹی کے بارے میں جو کہا، اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کا راستہ تو بار بار عدالتوں کی طرف رجوع کرنے سے کاٹا جاتا رہا۔ ہمارے عدالتی نظام میں اس حوالے سے جو گنجائشیں موجود ہیں، تحریک انصاف نے ان سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فنڈنگ کیس کو لٹکاتے چلے جانے میں کامیابی حاصل کرلی، لیکن یہ معاملہ ابھی تک ٹھپ نہیں ہوا۔ الیکشن کمیشن میں یہ زیر سماعت ہے اور اس کے فیصلہ کن مرحلے تک پہنچنے کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کا تعلق ہے، اسے نیم دلی سے بنایا گیا اور بعد کے واقعات یہ شہادت دیتے ہیں کہ اس کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں کرتا،اسے بھی ٹالتے چلے جانا ہی مطلوب ہے۔

مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کی دوسری جماعتیں حکومتی کارکردگی پر جو نکتہ چینی کر رہی ہیں، اس کے کئی پہلو بہت توجہ طلب ہیں۔ اسی طرح گزشتہ انتخابات سے پہلے سیاسی جوڑتوڑ کے حوالے سے اور پولنگ کے بعد گنتی کے معاملے میں جو شکایات پیدا ہوئیں، ان کی شدت اور وسعت تو بہت تھی لیکن انہیں کوئی دستاویزی شکل نہیں دی جا سکی۔ اپوزیشن سے ہمدردی رکھنے والے کئی حلقے بھی اس حوالے سے مطمئن نہیں ہوئے۔اس الجھاؤ سے البتہ انکار نہیں جا سکتا جو حکومتی رویے سے پیدا ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کو تسلیم نہ کرنے کا جو انداز اپنایا، اس پر ان کالموں میں بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کار قائم نہ ہونے سے جمہوریت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن سڑکوں کی سیاست کی طرف راغب ہو سکتی ہے۔

قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں گرفتار ہونے والے کئی اپوزیشن ارکان کی حاضری کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے انکار نے پاکستان کی پارلیمانی سیاست کو شدید دھچکا پہنچایا۔وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات پاکستانی اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات سے بھی مشکل اور پیچیدہ بنا دی گئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر تو پیغامات کی یلغار رہی کہ ملاقات کی کوئی صورت نکلے، لیکن پاکستان کے قائد حزب اختلاف سے ہاتھ ملانا بھی کسر شان سمجھ لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے تقرر کے لئے دستوری تقاضے کے مطابق مشاورت نہیں کی گئی۔ تقرری کا ایک صدارتی نوٹیفکیشن جاری کرا ڈالا گیا جسے عدالت عالیہ معطل کر چکی ہے اور معاملہ منتخب ایوانوں کے پاس (فیصلے کے لئے) بھجوایا جا چکا ہے۔ اپوزیشن کے بعض رہنماؤں (خصوصاً شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناء اللہ) کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اس سے یہ تاثر ملا کہ پاکستان کو سرزمین بے آئین سمجھا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت جس دباؤ میں کام کر رہی ہے، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ قوم کو درپیش مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری کے مسائل اپنی جگہ سنگین ہیں۔نتیجتاً مولانا فضل الرحمن نے آگے بڑھ کر اذان دی تو وسیع حلقوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ مولانا نے اب گیند متحدہ اپوزیشن کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ تادمِ تحریر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ تصادم کا راستہ کشادہ نہیں ہوگا۔ دستور کی حدود میں رہتے ہوئے اقدام ہو گا۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ دستور کی روح کو مجروح نہ ہونے دے۔ اپوزیشن نے بھی اسی طرح ووٹ حاصل کئے ہیں جس طرح حکومتی ارکان نے۔ چند نشستوں کے فرق سے اکثریت حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ فریق مخالف کے وجود کا انکار کر دیا جائے۔ اس کے جمہوری اور انسانی حقوق کی حفاظت نہ کی جائے۔ یک طرفہ ٹریفک پارلیمانی جمہوریت کے لئے زہرِ قاتل ہے، یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...