سموگ: حقیقی مسائل پر توجہ دیں!

سموگ: حقیقی مسائل پر توجہ دیں!

  



صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ گہرا ہو گیا،فضا میں اس آلودگی کے باعث گلے،چھاتی اور آنکھوں کے امراض پھیلنے لگے ہیں،شہری خصوصاً بچے زیادہ متاثر ہیں،دوسری طرف عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کا،بلکہ دُنیا میں ٓلودگی میں لاہور دوم آگیا،پہلی پوزیشن بہرحال دہلی(بھارت) نے لی ہے۔سموگ کا یہ حملہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا،سابقہ حکومت کے دور میں بڑا حملہ ہوا تو ادارے حرکت میں آ گئے تھے اور دھواں دینے والی صنعتوں کے علاوہ اینٹوں کے بھٹے بھی بند کرائے گئے اور یہ بھی اہتمام کیا گیا کہ فضا کو آلودہ کرنے والے دوسرے اسباب کو بھی درست کیا جائے،اس کے ساتھ ساتھ ایک تشہیری مہم بھی شروع کی گئی کہ عوام بھی تعاون کریں۔اِس بار ماحولیات کے شعبہ نے سموگ کا احساس اور ادراک توحملے سے پہلے کیا تاہم تدارک کی رفتار سست تھی،زیادہ کام پریس ریلیزوں کے ذریعے میڈیا سے لیا گیا۔چند صنعتیں اور بھٹہ خشت ضرور بند کرائے گئے،لیکن دھواں ختم کرنے کی مہم نہ چلائی گئی،حالانکہ احتجاج کرنے والے ٹائر جلاتے ہیں تو بند روڈ پر قائم صنعتوں میں بھی ایندھن ٹائروں کا استعمال کیا جاتا ہے،صرف یہی نہیں شہروں کا کوڑا اور درختوں کے خشک پتے اور گھاس وغیرہ مستقل طور پر جلائے جاتے ہیں،ان دِنوں خزاں کا موسم شروع اور پت جھڑ ہو رہی ہے، باغبان(مالی) حضرات پتے اور ٹہنیاں جمع کر کے ٹھکانے لگا کر ان کی کھاد بنانے کی بجائے آگ جلا کر راکھ بناتے ہیں۔یہ پہلے دھواں بن کر سموگ بناتے ہیں اور پھر ہوا کے ساتھ راکھ اڑتی رہتی ہے۔یہ سلسلہ مستقل بھی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی زمین پر گوالے ہیں جو کوڑے کے ڈھیر بنا کر مستقل جلائے رکھتے ہیں اور کثیف دھواں اُٹھتا ہے۔ان کو آج تک نہیں پوچھا گیا۔سموگ کا جب پہلا زبردست حملہ ہوا تو تحقیق کے بعد کہا گیا کہ یہ دھواں بھارتی پنجاب میں کسانوں کی طرف سے گندم کی فصل کاٹ لینے کے بعد بچ جانے والی جڑوں کو کھیتوں میں آگ لگا دی گئی اور یہ دھواں سموگ کی شکل اختیار کر گیا اور ہوا کا رُخ بدلنے سے پاکستان تک کو متاثر کیا،اب اگرچہ ایسی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں، اس کے باوجود ایک وفاقی وزیر نے سابقہ دور کے سموگ کی وجہ کے پیش نظر یہی کہہ دیا کہ بھارت میں کھیتوں میں آگ لگائی گئی ہے،حالانکہ ایسا نہیں یہ سموگ تو اپنا پیدا کردہ ہے،درحقیقت سرکاری ادارے دِل سے کام کر ہی نہیں رہے۔یہی سلسلہ ماحولیات کا بھی ہے،جہاں سے احکام جاری ہو رہے ہیں،انتظامات نہیں کئے جاتے۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ دھوئیں کا مکمل خاتمہ ہو، کوڑا اور درختوں کے پتوں وغیرہ کو جلانے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور خود محکمہ ماحولیات کے بقول دھواں دینے والی ٹرانسپورٹ کو بھی روکا جائے اور تشہیری مہم کے ذریعے شہریوں کی آگاہی کا بھی انتظام کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...