آئین کی بالادستی

آئین کی بالادستی
آئین کی بالادستی

  



میاں نواز شریف نے ثابت کیا ہے کہ ایک بڑا لیڈر اور سٹیٹس مین حق، سچ اور آئین کی بالا دستی کی جنگ انتہائی تشویش ناک صحت کے ساتھ بھی لڑ سکتا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی انتہائی بیمار ی کی حالت میں پاکستان بنا کر دکھایا جو ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ میاں نواز شریف نے پاکستان کے آئین اور سول بالا دستی کی جنگ اس حالت میں لڑ کر دکھائی ہے، جب ان کے جسم میں پلیٹ لیٹس صرف دو ہزار رہ گئے تھے۔ ہسپتال میں انہیں بار بار پلیٹ لیٹس لگائے جانے کے باوجود میاں صاحب کی صحت ابھی تک انتہائی تشویش ناک ہے، کیونکہ انہیں دل اور گردوں کے عارضوں سمیت بہت سی بیماریوں کا سامنا ہے، لیکن جس ہمت اور بہادری سے وہ قوم کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں، یہ بھی ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ سے پوری قوم دعاگو ہے کہ میاں صاحب کو صحت اور تندرستی دے، کیونکہ قوم کو ان کی جتنی ضرورت اب ہے، پچھلے کئی عشروں میں نہیں تھی۔ پاکستان میں آئین اور سول بالا دستی کی جنگ فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جس کا تمام تر سہرا میاں نواز شریف کے سر جاتا ہے، جنہوں نے انتہائی خراب صحت کے باوجود پاکستان کو حقیقی معنوں میں آزادی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنی زندگی خطرے میں ڈال رکھی ہے۔ میاں صاحب کے ساتھ مریم نواز شریف شانہ بہ شانہ انتہائی صبر اور استقامت کے ساتھ کھڑی ہیں اور خود بھی جیل کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں۔

پاکستان اس وقت ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس وقت اعصاب کی جنگ جاری ہے جس میں مولانا فضل الرحمان لاکھوں لوگوں کے ساتھ اسلام آباد میں خیمہ زن ہیں اور دیدہ و نادیدہ حکمرانوں کو للکار رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں ان کے ساتھ ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب یہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہی بچتا ہے جس کی آنکھیں نہ جھپکیں۔وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے، جو ایک مشکل صورت حال کو سمجھنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لئے حکومت نے جو ٹیم بنائی ہے، اس کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم تھا کہ وہ صرف دھمکیاں دیتی رہی۔ دھمکیاں اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ حکومت مذاکرات کر لے یا دھمکیاں دے لے۔

اسی دوران حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ کرنے اور مولانا کفائت اللہ کو ناجائز گرفتار کرنے کے بلنڈر بھی مارے گئے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ انتہائی کامیابی سے کراچی سے شروع ہو کر اسلام آباد پہنچ گیا۔ اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو ملک کے کونے سے کونے سے وہاں آئے ہیں۔ ان لوگوں کا نظم و ضبط اور رویہ انتہائی مثالی ہے، کہیں ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا اور لاکھوں لوگ ہزاروں میل کا سفر کرکے اکٹھے ہو گئے۔ ایک تو پی ٹی آئی حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے، جیسے ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے انڈر نائنٹین ٹیم میدان میں اتری ہو اور دوسرے یہ کہ وہ مسلسل اس مارچ اور دھرنے کو انڈر ایسٹیمیٹ کر رہی ہے، لیکن ظاہر ہے اس کی وجہ بھی غیر سنجیدہ رویہ ہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی وقت سے پہلے اپنی اینٹری ڈال دی ہے، جس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہیں پارٹی بننے کی بجائے اپنا غیر جانبدار امیج سامنے لانا چاہئے تھا۔ اس وقت ہر پاکستانی ملکی صورت حال پر فکر مند نظر آتا ہے لیکن اگر کوئی مسائل کو سوچنے کی بجائے اپنی تصوراتی اور خلائی دنیا میں مگن ہے تو وہ اس حکومت کے مشیر اور وزیر ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے پاس ہر مشکل سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ کوئی بھی ان سے این آر او نہیں مانگ رہا، لیکن وہ نہ جانے تخیل کی کتنی بلندی پر ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی مخلوط حکومت کو بنے چودہ پندرہ مہینے گذر چکے ہیں۔

اس حکومت کی ناکامیوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان کے اپنے حمائتیوں میں بھی نا امیدی اور مایوسی صاف دکھائی اور سنائی دیتی ہے۔ جو بڑے بڑے وعد ے کئے گئے تھے، وہ سب کے سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ اس وقت پی ٹی آئی حکومت ایسے سبز باغ کا منظر پیش کر رہی ہے جو اب اجڑنے کی طرف جا رہاہے۔ لاکھوں نوجوانوں کی امیدیں اب ڈراؤنے خواب بن چکی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سبزیاں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوئی ہیں۔ گھروں میں کھانا پکانے کے لئے راشن نہیں ہے اور آئے بھی کس طرح جب لاکھوں لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ لاکھوں لوگ اسلام آباد میں موجود ہیں، جبکہ اپنے اپنے گھروں میں موجود پاکستان بھر میں لاکھوں ایسے لوگوں کی خاموش ہمدردیاں بھی ان کے ساتھ ہیں جو اس حکومت کے آنے کے بعد سڑکوں پر آ گئے ہیں اور ان کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔

میاں نواز شریف اور دوسرے اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ حکومت کے افسوس ناک سلوک، حکومت کی اپنی ناقص کارکردگی اور مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی ہینڈلنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت شور و غوغا تو کر سکتی ہے، لیکن سنجیدگی سے نہ تو مسائل حل کرسکتی ہے اور نہ ہی ملک کو درست سمت میں لے جانے کی اہلیت رکھتی ہے۔

ملک چلانے کے لئے اہلیت درکار ہوتی ہے، گز گز لمبی زبانوں سے ملک نہیں چلا کرتے۔ آنے والے دنوں میں تصادم بڑھے گا، کم نہیں ہو گا۔ سیاسی مسائل سیاسی میدان میں حل ہوتے ہیں، عدالتی یا انتظامی حکم ناموں سے صرف وقتی طور پر دبائے جا سکتے ہیں، لیکن وہ بعد میں پہلے سے بھی زیادہ شدت سے ابھرکر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی دو دن کی دی گئی ڈیڈ لائن سے ایک دن پہلے ہونے والے حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی تصویریں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے وزیر اندر سے ہلے ہوئے ہیں، لیکن ظاہری تاثر یہ دے رہے ہیں، جیسے حالات ان کے مکمل کنٹرول میں ہوں۔ وزیر اعظم بار بار دہراتے رہتے ہیں کہ فوج ان کے پیچھے ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی یہ بات صاف صاف کہہ دی ہے اور شائد عمران خان سمجھتے بھی یہی ہیں کہ چاہے کچھ ہو جائے فوج ان کی حکومت گرنے نہیں دے گی۔

اس موقع پر عدالتی فیصلے بھی حکومت کے حق میں آنے کی توقع کی جا رہی ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومتی حلقے سب سے زیادہ حوالہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیض آباد دھرنے میں دئیے گئے فیصلے کا دے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ حالات کب ایسا موڑ مڑ جائیں کہ اپنا تھوکا چاٹنا پڑے، اس کی روشن مثال یہ ہے کہ حکومت اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر فوج، عدلیہ اور انتظامی طاقت سے یہ دھرنا ختم بھی ہو جائے تو بھی وزیر اعظم عمران خان کی جان اتنی آسانی سے نہیں چھوٹے گی، کیونکہ جب تک حکومت ڈلیور نہیں کرتی، عوام میں اس کی پوزیشن مضبوط نہیں ہو سکتی۔

کیا مولانا فضل الرحمان کو واپس گھر بھیجنے یا گرفتار کرنے سے ملک کی معیشت بہتر ہو جائے گی کیا صفر گورننس والی کارکردگی کسی جادوئی چراغ کو رگڑنے سے عمدہ ہو جائے گی، کیا سقوطِ کشمیر کا مداوا ممکن ہو گا، کیا لاکھوں نوجوانوں کی فرسٹریشن ختم ہو جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ناکامیوں کی یہ لمبی فہرست صرف ڈلیور کر کے ہی بہتر ہوسکتی ہے اور وہ صرف اس صورت میں ممکن ہو گا، اگر حکومت کے پاس یہ سب کرنے کی اہلیت ہو۔ پاکستان ایک مشکل دور سے گذر رہا ہے جسے صرف سنجیدہ اور تجربہ کار قیادت ہی سنبھال سکتی ہے۔ بہتر سال میں بار بار یہ ثابت ہوا ہے کہ ملک کی بقا،کے لئے آئین کی بالادستی سب سے پہلے نمبر پر آتی ہے۔ جب تک عوام کو ان کے آئینی حقوق نہیں دئیے جاتے اور ملک میں سول بالا دستی قائم نہیں ہوتی، اس وقت تک کچھ ٹھیک نہیں ہو گا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی طرح میاں نواز شریف نے انتہائی تشویش ناک صحت میں سیاسی اور آئینی جنگ لڑ کرمعجزہ کر دکھایا ہے۔

انہیں جیل میں بند رکھنے اور زبردستی حکومت سے بے دخل کرنے سے پاکستان کے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بگڑتے جائیں گے۔ بھارت اس صورت حال کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگست کے شروع میں بھارتی مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ مکمل کرنے کے بعد جب اس نے دیکھا کہ پاکستانی حکومت تو ایک پھوکا فائر کرنے کے قابل بھی نہیں ہے تو نومبر شروع ہوتے ہی اس نے نیا سرکاری نقشہ جاری کیا ہے جس میں آزاد کشمیر کو بھارتی کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھارتی مقبوضہ لداخ کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ نریندر مودی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کچھ بھی کرتا جائے، عمران خان حکومت اسے چیلنج کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اس وقت نریندر مودی کو واک اوور ملا ہوا ہے۔ عمران خان اپنے ملک میں سیاسی مخالفین کے خلاف واک اوور چاہتے ہیں جس کے لئے انہیں اداروں سے امید بھی ہے کہ وہ انہیں یہ واک اوور دلوائیں گے۔ شائد ایسا ہو جاتا، لیکن ایک انتہائی بیمار شخص، مگر بہت بڑا سٹیٹس مین پاکستانی عوام کے لئے آئین کی بالادستی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم