عمران خان کا لیڈربھی نوازشریف ہی نکلا

عمران خان کا لیڈربھی نوازشریف ہی نکلا
عمران خان کا لیڈربھی نوازشریف ہی نکلا

  



میں ایک اَن پڑھ انسان ہوں، مجھے بھی اس فلسفے پر یقین تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے باریاں لگا رکھی ہیں۔ میں بھی باقی پاکستانیوں کی طرح مایوس تھا، لیکن پھر قدرت کو اس ملک پر رحم آیا، ایک مسیحا نمودار ہوا، جس کا نام دنیا نے مجھے عمران خان بتایا، اس کی پارٹی کانام تحریک انصاف رکھا گیا۔پانچ سال سنتا رہا کہ نواز شریف کی پالیسیاں ملک دشمن ہیں، اسے ملک چلانے کا پتا نہیں،جو تبدیلی نااہل حکمران ستر سالوں میں نہ لاسکے وہ تو نوے دن میں آ سکتی ہے۔میں نے ساری زندگی مسجد کا منہ نہیں دیکھا تھا، لیکن مصلیٰ بچھا کر عمران خان کی حکومت کے لئے دعائیں کرنے لگا۔ میری طرح فرشتہ صفت لوگوں نے ووٹ ڈالا، یوں منتوں اور مرادوں سے نجات دہندہ کی حکومت آگئی،لیکن ہائیں! یہ کیا ہوا؟ مَیں نے تو نوازشریف سے چھٹکارے کے خواب دیکھے تھے،لیکن ڈیڑھ سال بعد مجھے پتا چلا کہ میں نے جس عمران خان کو ووٹ دیاتھا کہ وہ نواز شریف کی پالیسیوں سے ہماری جان چھڑائے گا، اس کا تو اپنا لیڈر نواز شریف ہے۔ بقول شخصے:

”لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے

یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔

نوازشریف ملکی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتے جب نوازشریف بڑے بڑے گیم چینجر منصوبوں کا افتتاح کررہے ہوتے تھے اور عمران خان یہ فلسفہ بگھار رہے ہوتے تھے کہ سڑک سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔نوازشریف نے اس پھبتی کا ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہاتھا:”کچھ لوگ روڈ بناتے ہیں اور کچھ لوگ اسی روڈ پر روڈ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں“۔ یہ بات تو مجھے اب سمجھ آئی ہے کہ پیٹ کسی روڈ سے نہیں، بلکہ روڈ کنارے قائم کسی لنگرخانے سے بھرتا ہے۔عمران خان نے نوازحکومت کے جس انفراسٹرکچر پر تنقید کی اور جس کی بنیاد پر اپنی سیاست کی عمارت قائم کی تھی اسی عمارت کو انہوں نے دورۂ امریکا میں یہ کہہ کر خود اپنے ہاتھوں سے مسمارکردیاکہ: میں نے نیو یارک میں سفرکیا، سڑکوں پر بہت جمپ لگے، میں یہاں کا شہری ہوتا تو ضرور پوچھتا کہ میرے ٹیکس کا پیسا کہاں گیا؟

آپ لوگوں نے ٹیکس کا پیسا انفراسٹرکچر پر لگانے کی بجائے جنگوں میں کیوں جھونک دیا؟ عمران خان کی اس بات پر اینکرز نے جو کمنٹس دیئے ان کا ذکرکرنا مناسب نہیں سمجھتا،لیکن ایک بات تو طے ہو گئی کہ عمران خان کا لیڈر نوازشریف ہے اور وہ اپنے لیڈر کی پالیسیوں کا امریکا میں دفاع کررہے ہیں اور وہ بھی انگریزی میں اوربغیر کسی پرچی کے۔یقین کریں جب سے میں نے عمران خان کا امریکی ٹی وی کو دیا گیا وہ انٹرویو سنا ہے، مجھے انفراسٹرکچر سے شدید نفرت ہوگئی ہے۔مجھے لگتاہے کہ یہ انفراسٹرکچر نامی جانورمنافق ہے، جو پاکستان میں ہوتو برا ہوتا ہے اور امریکا میں ہوتو اچھا لگتا ہے۔اگر مجھے کبھی وزیراعظم بننے کا موقع ملا تو میں امریکا سے وہ انفراسٹرکچر ضرور درآمد کروں گا جو غریبوں کا پیٹ بھرے اور میرے کپتان کو اچھا بھی لگے۔وہ موقع تو پتا نہیں کب آئے گا؟ ابھی مجھے اتنا کہنے دیں کہ عمران خان کا لیڈر نوازشریف ہے۔

مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب شہباز شریف کی طرف سے سستی روٹی سکیم شروع ہوئی تھی۔خدا گواہ ہے کہ ان دنوں بازاروں میں آٹے نام کی جنس مفقود ہو چکی تھی۔ حکومت آتے ہی نہ صرف آٹا باہر نکل آیا، بلکہ سستی روٹی سکیم بھی شروع ہو گئی۔عمران خان کی اس پرکسی گئی پھبتیاں آج بھی کانوں رس گھول رہی ہیں، لیکن قدرت نے مجھے یہ دن بھی دکھایا کہ تنقید کرنے والا کسی کے کھولے گئے لنگر کا افتتاح کررہا ہے اور ہاتھ میں سالن کی ایک پلیٹ پکڑے بڑے فخر سے نہ صرف تصویر بنوارہا ہے، بلکہ قوم کو لنگرخانوں کی اہمیت اور افادیت کے بھاشن بھی دے رہا ہے۔میں اس پر کچھ بھی کہنے کی بجائے سراج الحق کے اس معنی خیز جملے پر اکتفا کرتاہوں: ”ملک کو لنگرخانوں کی نہیں، بلکہ کارخانوں کی ضرورت ہے“۔

کیا آپ کو یاد ہے کہ جب عمران خان بڑے بڑے جلسوں میں لاہور اور پنڈی میٹروبسوں کی بھد اڑایا کرتے تھے اور انہیں جنگلا بسوں کا نام دیتے تھے،لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ پشاور میں بھی اسی طرح کے منصوبے کا نہ صرف افتتاح کیا گیا، بلکہ اسے شہر کی قسمت بھی کہاگیا اوراس کی شان میں ایسے ایسے قصیدے پڑھے گئے کہ مجھے دورجہالت میں لگنے والے ایک عظیم میلے ”عکاظ“ کی یاد آگئی۔مجھے یقین ہے، اگر آج وہ شعرا زندہ ہوتے تو ان کی فصاحت و بلاغت بھی شرما جاتی۔میں جب بھی شیدے کے ڈھابے پر بیٹھتا ہوں تو چاچا کھڑوس میرے کان میں یہ کہہ کر بھاگ جاتا ہے: میٹروبسوں کے معاملے میں بھی عمران خان نے نوازشریف کو اپنا لیڈر مان لیا ہے“۔

یاد تو مجھے وہ وقت بھی آرہا ہے جب عمران خان نے دھاندلی کو بنیاد بنا کر حکومت کے خلاف لانگ مارچ اوردھرنے کااعلان کیاتھا۔اس وقت ان کا موقف تھا کہ احتجاج کرنا کسی بھی پاکستانی کا جمہوری حق ہے۔نوازشریف کہتا تھا کہ عمران خان جس فورم پر دھاندلی کی تحقیق کرانا چاہتے ہیں، میں تیار ہوں، لیکن وہ احتجاج نہ کریں،اس سے ملکی ترقی کا عمل رک جائے گا اور اسلام آباد بند ہوگا تو لوگوں کو آنے جانے میں پریشانی ہو گی،لیکن عمران خان نے ان کی ایک نہ سنی،بلکہ پہلے دھرنے کی ناکامی پر کچھ عرصے بعد اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی۔آج فرق بس اتنا ہے کہ کردار بدل گئے ہیں۔عمران خان خود نواز شریف کی جگہ کھڑے ہیں، جبکہ ان کی جگہ مولانا فضل الرحمن نے لے لی ہے۔

ان کی حکومت کو بھی ڈیڑھ سال ہونے کو ہے، وہی دن ہیں اور مارچ اور دھرنے کانام بھی وہی ہے، یعنی آزادی مارچ۔آج وہ اپنی زبان سے وہی دلیلیں دے رہے ہیں جو کسی دور میں نوازشریف دیا کرتے تھے۔اگر آج وہ مکمل طور پر نوازشریف کو فالو کررہے ہیں تو زبان بندی کے اس دور میں اتنا کہنا تو میرا حق بنتا ہے کہ عمران خان نوازشریف کے راستے پر چل رہے ہیں۔اب پتا نہیں وہ راستہ پیارا ہے یا پھر عمران خان کا لیڈر بھی پٹواریوں کی طرح نوازشریف ہی ہے۔

مزید : رائے /کالم