نئی بوتل، پرانا مشروب:یہ ہے نیا……!(1)

نئی بوتل، پرانا مشروب:یہ ہے نیا……!(1)
نئی بوتل، پرانا مشروب:یہ ہے نیا……!(1)

  



عمران خان نئے پاکستان کے خوابوں کے گھو ڑے پر سوار ا ڑا چلا آیا۔ گوکہ ”نہ ہاتھ باگ پر تھا اور نہ ہی پاؤں رکاب میں“……گھوڑے کی ٹاپوں کی طرف عوام متوجہ ضرور ہوئی تھی، لیکن قبولیت عام کا نشہ حاصل نہ ہو سکا۔اس میں شک نہیں کہ نیا پن امید پیدا کرتا ہے،لیکن امید اور توقع کا ٹوٹنا خوفناک مایوسی کی طرف بھی دھکیل دیتا ہے۔سچ یہ ہے کہ محض نعرہ،پروگرام یا منشور کا متبادل نہیں ہو سکتا۔نیا پاکستان دراصل نئی عمارت تعمیر کرنے کی مانند تھا۔نئی عمارت جگہ مانگتی ہے۔نئی عمارت کی تعمیر کے لئے پرانی عمارت کا انہدام ضروری تھا، ورنہ پرانی عمارت کی یہاں وہاں سے مرمت کر کے گزارہ چلانا پڑتا۔نئی عمارت اور پرانی عمارت کے فرق کو سمجھنے سے سماج کے نئے پرانے ہونے کے تصورکی جہالت سمجھ میں آتی ہے۔

نئی عمارت سب سے پہلے فکری سطح پر متشکل ہوتی ہے۔فکر مجرد نہیں ہوتی،فکر حالات اور ضروریات کی پیداوار ہوتی ہے۔اور اسی جدلیات سے نیاپن جنم لیتا ہے۔نئی عمارت ہو یا نیا سماج، ضروریات کے تابع ہوتا ہے۔فکر کے مرحلے کے بعد عمارت کا ڈیزائن بنتا ہے،پھر خام مواد کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس کے بعد باصلاحیت معمار،راج مزدور کا بندوبست کیا جاتا ہے۔نئی عمارت اس وقت تک بن ہی نہیں سکتی جب تک موجودہ سماج کے مسائل اور ضروریات کا ادراک نہیں ہوگا۔ نئی عمارت کے لئے وسائل کا انتظام بہت پہلے کیا جانا ہوتا ہے۔ان لازمی شرائط کی تکمیل کے بغیر نہ نئی عمارت بن سکتی ہے، نہ نیا پاکستان وجود میں آ سکتا ہے۔

محض نئے پاکستا ن کا نعرہ، نیا پاکستان نہیں بنا سکتا،وسائل،تربیت اور سماج کے سائنسی علم کے بغیر کچھ بھی تعمیر نہیں ہو سکتا۔یہی سانحہ نئے پاکستان کے ساتھ پیش آیا۔دوسری جانب پرانے پن کا ایک موثر دفاع،قدامت کا تقدس بھی ہے۔ اسی تقدس کی وجہ سے لوگ پرانی قیادت، پرانے خیالات، رسومات اور روایات سے چمٹے رہتے ہیں،لیکن ہر پرانی شے کو تقدس دے دینا تو توہم پرستی ہے۔تقدس دراصل اللہ کی طاقت اور لامحدود اختیار سے حق تحریم اورجواز عبودیت حاصل کرتا ہے،ورنہ تقدس کا مسخ شدہ تصور اوہام کے سرابوں میں پھنسا دیتا ہے۔

شاید نئے پاکستان کے پرچم تلے کھڑے ہوئے عمران خان کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ تقدس ناقابل انہدام ہوتا ہے،اس لئے جب عمران خان نے بنی گالا میں پاکیزگی کا استقبال کیا تو پوری قوم کو تبدیلی کا خوشگوار تاثر ملا،جس کی پیشگوئی دھرنوں میں عمران خان کیا کرتا تھا۔ماضی کا پلے بوائے،کئی مدارج طے کر کے ایک قدامت پسند،روایتی اور روحانی گھر میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔پرانے پاکستان سے یہ سمجھوتہ شائد تصوف کی زبان میں رجعت کہلاتا ہے۔کسی ولی اللہ کے مزار کی سیڑھیوں کو چومتے ہوئے وزیر اعظم کے عمل کو یو ٹرن کی فہرست میں شامل کرنا زیادتی ہو گی۔اگر بنی گالا کے نئے گھر کو نیا پاکستان فرض کر لیا جائے اور یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ تبدیلی آنہیں رہی،تبدیلی آ چکی ہے تو ایسی ذاتی تبدیلی کے زیر اثر پاکپتن کے جنت کے دروازے پر کشمیر جنت نظیر کے حصول کے لئے دعا ضرور مانگی گئی ہو گی۔اگر محض دعا سے کام چلا لیا جائے تو کیا حرج ہے۔

جب گھر میں تبدیلی آ جائے تو سمجھو پورے پاکستان میں روحانی تبدیلی آ گئی،آج کل کی روحانیت،عملی جدوجہد کی ضرورت کا خاتمہ کر دیتی ہے، پھر روحانیت میں مہنگائی یا بیروز گاری کا کوئی ایشو نہیں ہوتا۔کوئی اعتراض کرے کہ یہ تو نیا پن کی چھتری لے کر پرانے پن کی طرف پلٹنا ٹھہرا۔تو اس اعتراض کو اپنے پٹارے میں بند رکھیں،کیونکہ نئے پرانے کے درمیان پلٹنا، جھپٹنا تو لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ورنہ ہر پرانے کے ساتھ نئے کے تصادم سے نئے پرانے کا امتزاج وجود میں آتا ہے۔اگر مدینہ کی ریاست قائم کر دی جائے تو پاکستان میں کون ساایسا مسلمان ہو گا جو وارفتگی کے عالم میں عمران کے قدم چومنا نہیں چاہے گا، بھوک، مہنگائی، بے روزگاری، بے بسی،بے چارگی،والی ریاست پر مدینہ کی ریاست کا لیبل لگانا توہین آمیز دکھائی دیتا ہے۔ مدینہ کی ریاست کا سنگ بنیاد مواخات اور میثاق مدینہ جیسے چارٹر پر رکھا گیا، جبکہ عمران خان کی ریاست کا آغاز یوٹرن سے کیا گیا اور قبائلی دشمنی اورذاتی انتقام پر سیاست کی عمارت کھڑی کی گئی۔عمران خان پر تبدیلی کی تہمت لگانے کی بجائے یہ تسلیم کر لینا زیادہ حقیقت کے نزدیک ہو گا کہ عمران خان طاقت کی مرکزیت کی علامت ہے۔سرمائے کے تسلط کو قائم رکھنا،بالاترمخصوص طبقے کے جبر کی حفاظت کرنا اور حکمرانی اور معیشت میں عوام کی شرکت کی نفی کرنا ہی نیا پاکستان ہے۔

موجودہ تصادم بالاتر طبقے کا داخلی تصادم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ طاقت کے سر چشموں پرقابض طبقے طاقت چھین کر مقہور اور مجبور عوام کو دینے کے لئے لڑ رہے ہیں۔ جدیدیت سے انکار اور سٹیٹس کا قیام کیسے نیا پن ہو سکتا ہے۔ہر سماج کی ہر وقت تغیر پذیری کی طرف عمران خان کی توجہ مبذول کرانا،آنے والی تبدیلی سے اُس کی توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ ہر سماج ہر وقت ضرورتوں سے جڑی آرزؤں کے باہمی عمل سے مسلسل تغّیر پذیر رہتا ہے۔ تاریخ کے گہرے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سماج کی مکمل تبدیلی کچھ لوازمات کے تابع رہتی ہے، آج ہم دیکھتے ہیں سب کچھ پرانا ہے، آئین اور قانون پرانا ہے، ادارے پرانے ہیں، عوام اور اُس کی ثقافت پرانی ہے، عمران خان خود پرانا،اُس کے استاد پرانے، اُس کا طریقہ سیاست پرانا۔ مخالف سیاسی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو پیولین میں بھیج کر اکیلے فتح کی ٹرافی لینا ہوتو سیاسی داؤ پیچ بھی پرانے ہوں گے۔جن سے عوام شناسا ہیں۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم