وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ

وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ
وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ

  



پاکستان کی سیاست، عالمی سیاست سے بالکل ایک جداگانہ چیز ہے۔ دنیا میں جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز سمجھ لینا ایک قدیم مقولہ ہے لیکن پاکستان میں اس ضرب المثل میں لفظ سیاست کا اضافہ کرکے اس کی صورت یہ بنا دی گئی ہے کہ: ”محبت، جنگ اور سیاست میں سب کچھ جائز ہے“…… ”جمہوریت کے حسن“ کو جو معانی پاکستان میں پہنائے جاتے ہیں، بین الاقوامی سیاسی مارکیٹ میں اس ”حسن“ کا کو ئی خریدار نہیں۔ یہ ”حسن“ صرف پاکستان میں پایا جاتا ہے اور اگر زیادہ کھینچنا چاہیں تو انڈیا کو بھی اس میں شامل کر لیں۔ میں نے اسی لئے پاکستانی سیاست کو اپنے کالم کا موضوع نہیں بنایا، شمشیر و سناں کو بنایا اور شمشیر و سناں کے حسن اور پاکستانی جمہوریت کے حسن میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

مجھے چونکہ پاکستانی سیاست کی تاریخ از بر نہیں، اس لئے بعض اوقات واقعاتی غلطی سرزد ہو جاتی ہے جس کا اعتراف مجھے آج بھی ہے لیکن پاکستانی یا بین الاقوامی دفاعی تاریخ کے معاملے میں کبھی غلطی نہیں ہوئی کہ اس میں غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ مشہور جرمن جنرل کلازوٹز نے اگرچہ جنگ کو سیاست ہی کا تسلسل قرار دیا تھا۔ لیکن وہ سیاست مغربی سیاست تھی، پاکستانی سیاست نہیں۔ اس نے کہا تھا کہ جو فیصلہ میدانِ سیاست میں سیاستدانوں سے نہیں ہوتا، وہ جنگ کے سپرد کر دیا جاتا ہے کہ جنگ ہی فیصلہ کرنے کا آخری اختیار رکھتی ہے۔

ذرا مسئلہ کشمیر کی 72سالہ تاریخ پر ہی نظر ڈال لیں۔اس مسئلے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ اس لئے ناممکن نظرآتی ہے کہ دونوں فریق جوہری اور میزائلی قوتیں ہیں۔ بھارت نے اپنے آئین میں تبدیلی کرکے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کا جو سپیشل سٹیٹس ختم کیا ہے، اس پر پاکستان نے کیا کیا شور نہیں مچائے اور چین نے بھی لداخ کے مسئلے پر انڈیا کو کیا کیا کھلی یا ملفوف دھمکیاں نہیں دیں لیکن انڈیا ٹس سے مس نہیں ہوا۔ پاکستان نے جوہری جنگ کا جو بیانیہ دنیا کے سامنے رکھا، اس کے تعقل (Rationality) پر بھی کسی کو کوئی شک نہیں۔ واشگاف لفظوں میں بتایا گیا کہ اگر پاکستان اور انڈیا میں جنگ ہوئی تو باقی دنیا بھی جوہری جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی۔ لیکن اس استدلال کی حقانیت کے باوصف، کیا ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی ہو سکے گی؟…… کشمیری مسلمانوں پر تین ماہ سے جو گزر رہی ہے، اس کا کیا کیا واویلا پاکستان نے نہیں مچایا۔

لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ اگر کچھ ہو گا تو اس وقت ہو گا جب طبلِ جنگ بجے گا اور خواہ یہ طبلِ قیامت ہی کیوں نہ ہو، نسلِ انسانی کو بادی النظر میں، اس کی کوئی پروا نہیں۔ اسی لئے جنرل کلازوٹز نے استدلال کیا تھا کہ جنگ، سیاست ہی کا تسلسل ہے۔ سیاست فیل ہو جاتی ہے تو جنگ کے سوا کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔ لیکن وہ جنگ روائتی تھی،جوہری نہیں۔

میں عرض کر رہا تھا کہ میں پاکستانی سیاست کا طالب علم نہیں ہوں۔ شکر یہ بھی ہے کہ پاکستانی سیاست کا کوئی اصول نہیں۔ یہاں بے اصولی ہی کا نام سیاست ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاستدان، حدیثِ دفاع کا مطالعہ نہیں کرتے کہ یہ ان کے پروفیشن سے براہِ راست ون ٹو ون متصادم ایک الگ پروفیشن ہے۔ دفاع کے چند اصول متعین ہیں۔ جنگ کسی بھی سکیل کی ہو اور کہیں بھی ہو، اصول ہائے جنگ تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ ”اصول ہائے جنگ“ (The Principles of War)دنیا بھر کی عسکری درسگاہوں میں تدریس کئے جاتے ہیں اور اٹل کہلاتے ہیں جبکہ سیاست کے اصول کبھی اٹل نہیں ہوتے، ہر لحظہ بدلتے رہتے ہیں۔

میں اگلے روز ایک معروف پاکستانی سیاسی دانشور کی گفتگو کسی ٹاک شو میں سن رہا تھا۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ”مولانا بہت ذہین سیاست دان سہی، ان کی ساری زندگی سیاست میں گزری ہے۔ لیکن اس آزادی مارچ میں ان سے ایک بڑی غلطی سرزد ہوئی جس کا خمیازہ ان کو ضروربھگتنا پڑے گا، اور وہ غلطی یہ تھی کہ انہوں نے وزیراعظم کے استعفے کی ایک حتمی تاریخ دے دی اور کہا کہ میں دو دن کی مہلت دیتا ہوں

اگر انہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو انسانوں کا یہ سمندر جو میرے سامنے کھڑا ہے وہ وزیراعظم ہاؤس کے اندر گھس کر ان کو گرفتار کر لے گا!“…… وہ سیاسی سکالر کہہ رہے تھے کہ مولانا کو یہ حکم نہیں لگانا چاہیے تھا اور کوئی کٹ آؤٹ تاریخ (عمران خان کے استعفے کی) نہیں دینی چاہیے تھی کہ سیاست میں کوئی چیز آخری اور حتمی نہیں ہوتی۔ آپ دیکھتے رہئیے دو دن گزر جائیں گے بلکہ دو ہفتے اور دو مہینے گزر جائیں گے لیکن وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں آئے گا۔ یہ کٹ آؤٹ تاریخ / مدت دے کر مولانا نے گویا اپنے آپ کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے جس سے وہ باہر نہیں نکل سکیں گے۔

میڈیا پر کئی سیاسی بزرجمہر، یہ دلیل بھی دیئے جا رہے ہیں کہ مولانا نے حکومت کو ایک سیاسی جھٹکا دے دیا ہے، وہ بیک فُٹ پر جانے پر مجبور ہو گئی ہے، آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے، کوئی ایکشن لینے سے ہچکچا ری ہے اور گومگو کی کیفیت میں گرفتار ہے۔ مولانا نے ایک چھوٹی سی سیاسی پارٹی کا قائد ہونے کے باوجود ایک بڑا سیاسی معرکہ مار لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

دوسری طرف حکومت کا اپنا بیانیہ ہے۔ اور یہ بیانیہ ایسے حقائق پر مبنی ہے جن کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔مثلاً:

1۔ اب تک کے دھرنے میں جو لوگ شریک ہوئے ہیں ان کا تعلق ایک مخصوص علاقے اور مخصوص ماحول سے ہے۔

2۔پنجاب، سندھ اور بلوچستان کا کوئی ایک فرد بھی اس مارچ میں شریک نہیں ہوا۔کے پی کے وہ مخصوص علاقے جن میں جے یو آئی کے مقلدین پائے جاتے ہیں، وہی اس مارچ میں شریک ہوئے ہیں۔ کسی پنجابی، سندھی یا بلوچی کو اپنے ہمراہ ایک ماہ کا خشک راشن لے کر اس ”کارِ خیر“ میں حصہ لینے کی ”توفیق“ نہیں ہوئی۔

3۔نون لیگ اور پی پی پی کے جو قائدین دھرنے میں شریک ہوئے وہ شرکت محض علامتی تھی۔ وہ آئے، تقریریں کیں اور فوراً واپسی کی راہ لی۔ کسی نے جم کر مولانا کا ساتھ نہیں دیا۔ اور کسی نے بھی اپنے پنجابی /سندھی/ بلوچی رائے دہندگان کو اس مارچ یا دھرنے میں جم کر بیٹھنے کی کال نہیں دی۔

4۔دوسری طرف حکومت نے ملک کے کسی حصے سے آنے والوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ حکومت کمزور تھی۔ ساری کی ساری سیکیورٹی فورسز حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر تھیں۔ وزیراعظم کی ایک کال پر آزادی مارچ کے قافلے کو روکا (Disrupt) جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ بلکہ جلسہ کی جو جگہ متعین تھی اس کی صفائی ستھرائی پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے۔ رفع حاجت کے لئے غسل خانے تعمیر کروائے گئے۔ پینے کے پانی کا بندوبست کیا گیا اور جن شرکائے جلوس کے پاس کھانے پینے کا بندوبست نہ تھا، ان کو کھانا فراہم کیا گیا۔

5۔ اسلام آباد کی ”اندرونی زندگی“ تقریباً حسبِ معمول چلتی رہی اور زیادہ Disruptنہیں ہوئی۔ اور کسی وقت بھی یہ تاثر نہ ملا کہ کوئی بڑا تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

6۔ اسلام آباد کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے کے لئے ان کو یہ پیغام دیا گیا کہ حکومت امن و امان کے قیام کے اپنے فریضے سے غافل نہیں۔

7۔ شرکائے جلوس میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے شرپسندوں کو گرفتار کرکے دنیا بھر کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز عراقی اور شامی سیکیورٹی فورسز کے علی الرغم پوری طرح چوکس اور ہر قسم کی ہنگامی حالت سے نمٹنے کو تیار ہیں۔

ایک ٹاک شو میں ایک مبصر یہ دلیل بھی لا رہے تھے کہ مولانا نے پہلی بار کھل کر افواجِ پاکستان کو للکارا ہے لیکن فوج کی طرف سے کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اس کے جواب میں افواج کا بیانیہ یہ تھا کہ ان کا مقابلہ کسی دشمن فوج سے نہیں، صرف اندرونی سلامتی کے فرائض کی بجا آوری سے ہے۔ ملک کی مشرقی سرحد پر ایک لاکھ فوج اور مغربی سرحد پر دو لاکھ فوج ہر آن تیار بیٹھی ہے۔ہمارے دشمنوں کو یہ امید تھی کہ اس آزادی مارچ سے ملک کے اندر بڑے پیمانے پر گڑ بڑ ہو گی اور فوج کو اس سے نمٹنے کے لئے اپنے اساسی رول سے روگردانی کرنا پڑی جائے گی۔آج مقبوضہ کشمیر میں جو لاکھوں انڈین ٹروپس ڈیپلائے ہیں، ان کی ڈیوٹیاں زیادہ سے زیادہ مسلح پولیس کی ڈیوٹیوں کے مترادف کہی جا سکتی ہیں جبکہ فوج کا کام ریگولر مسلح دشمن سے لڑنا ہوتا ہے، نہتے شہریوں سے نہیں۔ انڈین آرمی گزشتہ کئی عشروں سے اپنے نہتے شہریوں سے نبردآزما ہے۔ اس لئے انڈیا، پاکستان میں اس آزادی مارچ کو منظم اور فنانس کرنے میں بالواسطہ مدد دے کر پاک آرمی کو بھی اپنی فوج کے مماثل ایک مسلح پولیس فورس بنانے کا پروگرام رکھتا تھا جسے الحمدللہ پاک فوج نے بروقت اقدام کرکے ناکام بنا دیا۔

کل کے کالم میں مولانا سے درخواست کی گئی تھی کہ کنٹینر سے نیچے اتر آئیں اور اپنے الٹی میٹم کو پاکستان گیر تحریک میں بدل دیں تو اس میں بہتوں کا بھلا ہو گا۔ مقامِ اطمینان ہے کہ مولانا نے اس مشورے پر صاد کیا اور اپنی لٹھ بردار فورس کو وزیراعظم ہاؤس میں جا کر ان کو گرفتار کرنے سے ”روک“ دیا۔ علاوہ ازیں ڈی چوک تک جانے کے احکامات بھی موخر کر دیئے۔ مولانا نے راتوں رات یہ یوٹرن کیوں لیا، کس چودھری شجاعت کے کہنے پر لیا اور کس جنرل آصف غفور کی ملفوف دھمکی نے اثر دکھایا، ان سوالوں کے جواب آنے والے ایام میں رفتہ رفتہ ملتے رہیں گے۔ اتوار اور سوموار کی درمیانی شب مولانا کا خطاب طویل بھی تھا اور ڈرامائی لب و لہجے سے بھرپور بھی تھا۔ ان کے دائیں بائیں اگرچہ مین سٹریم سیاسی پارٹیوں کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھا پھر بھی ان کا جوش و خروش دیدنی اور اندازِ خطابت شنیدنی تھا۔ چند جملے انہوں نے پشتو میں بھی ادا فرمائے جو خالصتاً ڈنڈا بردار فورس کمانڈروں کا لہو گرمانے کے لئے تھے۔

مولانا کے بدخواہ الزام لگاتے تھے کہ مدرسوں کے طلباء کو یہ کہہ کر لایا گیا ہے کہ عمران خان نے یہودیوں کو دعوت دی ہے کہ آؤ اور اسلام آباد پر قبضہ کر لو۔ اس سے فلسطینی کاز کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اسلام آباد پر اسلام کی بجائے یہودیت اور قادیانیت مسلط کی جا رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ان بدخواہوں کی باتوں پر کان نہیں دھرا تھا لیکن مولانا کے اتوار کی شب والے خطاب میں یہ ساری باتیں درست ثابت ہوئیں۔ مدرسوں سے آنے والے طلباء کو خبردار کیا گیا کہ پاکستان پر یہودیوں کا قبضہ ہونے والا ہے اس لئے آؤ اور اسلام بچانے کے لئے تن من اور دھن کی بازی لگا دو۔ مولانا کے بعض بدطینت نقاد، آزادی مارچ کی فنڈنگ کی بے بنیاد داستان بھی تراشنے سے باز نہیں آتے تھے اس لئے حضرت نے پی ٹی آئی کو یاد دلایا کہ ان کی انتخابی مہم کی فنڈنگ کا کیس بھی الیکشن کمیشن میں ہنوز زیرِ سماعت ہے۔ پہلے اس کا فیصلہ آنے دو، بعد میں ہم بتائیں گے کہ جمعیت کو کس نے فنڈنگ کی۔

آج آل پارٹیز کانفرنس کی شنید ہے۔ دوسری طرف حکومت بھی یہی کچھ کرنے جا رہی ہے۔دیکھتے ہیں شہبازشریف اور بلاول زرداری کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ آج اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے کھلنے کی خبریں بھی ہیں۔ فوج اور رینجرز کا فلیگ مارچ بھی شائد راہ میں ہو۔ مولانا نے پلان بی اور سی کا جو ذکر کیا ہے، اس کی بعض جھلکیاں بھی شائد آج دیکھنے کو ملیں …… کرتارپور راہداری کھلنے کے دن قریب آ رہے ہیں۔ 10نومبر (اتوار) کو عید میلاد النبیؐ کے مبارک موقع پر اسلام آباد میں بین الاقوامی سیرت کانفرنس کا انعقاد بھی ہونے جا رہا ہے۔ یعنی اس جاری ہفتے میں انڈیا کی سکھ برادری اور مسلم ممالک میں سے بیشتر کی علماء برادری پاکستان کا دورہ کر رہی ہے۔ ایسے میں اسلام آباد کے بالکل نواح میں آزادی مارچ اور دھرنے کے شرکاء کی موجودگی سے مولانا کو کیا ملے گا اور حکومت کو کیا نہیں ملے گا۔ اس پہلو کو مدنظر رکھ کر چودھری شجاعت جیسے صلح جُو سیاستدانوں کو شدت سے سرگرم عمل ہو جانے کی ضرورت ہے…… وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ!

مزید : رائے /کالم