گلوکاری کی طرف آنے کا کبھی نہیں سوچا تھا،مصطفیٰ زاہد

  گلوکاری کی طرف آنے کا کبھی نہیں سوچا تھا،مصطفیٰ زاہد

  



لاہور(فلم رپورٹر)معروف گلوکار مصطفیٰ زاہد نے کہا ہے کہ پہلی بار گانا یونیورسٹی کی ویلکم پارٹی میں گایا اور سب نے بڑی تعریف کی۔نجی ٹی چینل کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ کبھی گلوکاری کی طرف آنے کا سوچا نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ویلکم پارٹی میں جب اساتذہ نے گانے کا کہا تو ”بھیگی بھیگی راتوں میں“ گایا، اور پھرایک بینڈ کے ساتھ گانا”یادیں“ گایا جو بہت مقبول ہوا، اس کے بعد انہیں 15ہزار کے کنسرٹ ملنے شروع ہو گئے، پھر انہوں نے گانا”تو پھر آؤ“ بنایا جس کی ریکارڈنگ کرنے سے بینڈ نے انکار کر دیا جس پر انہوں نے کہا کہ یہ گانا ان کی زندگی بدل دے گا، بعد میں انہوں نے یہ گانا خود ریکارڈ کروایا، اور پھر ایک دن مہیش بھٹ نے فون کر کے فلم کے گانے کے لئے پیش کش کی، جس پر انہوں نے مہیش بھٹ سے پوچھا کہ بھارت میں اتنے اچھے گلوکار ہونے کے باوجود پاکستانی گلوکاروں کو پیش کش کرنے کی کیا وجہ ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی گلوکار دل سے گاتے ہیں۔لکھنے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ ساتویں کلاس میں امی کے کہنے پر ایک کہانی لکھی جو شائع ہوئی جس نے ان پر گہرا اثر ڈالا اور ان میں اعتماد پیدا ہوا۔

مزید : کلچر