سندھ حکومت نے وفاقی متبادل توانائی پالیسی مسترد کردی

  سندھ حکومت نے وفاقی متبادل توانائی پالیسی مسترد کردی

  



کراچی (آ ئی این پی) سندھ حکومت نے وزیر اعظم عمران خان سے فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔ صوبائی وزیر توانائی امتیازشیخ نے مطالبہ کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری بلایا جائے،وفاقی حکومت کی متبادل توانائی پالیسی کو مستر د کرتے ہیں، آئینی قانونی حق سے سندھ کو محروم رکھا جارہاہے، اوگرا اور این ٹی ڈی سی میں سندھ کی نمائندگی نہیں، متبادل توانائی کی پالیسی میں صوبوں کا اختیار چھین لیاگیااورسندھ کا کردار ختم کردیاگیا ہے، صوبوں کے حقوق نہیں دئیے جائینگے تو لاک ڈاون و دھرنے ہونگے۔پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی امتیازشیخ کامزیدکہنا تھا جب زیادتی،ناانصافی ہوتی ہے تو دھرنے ہوتے ہیں،اگر سندھ کو آئینی حق نہیں ملے گا تو عوامی احتجاج کا راستہ رہ جاتاہے۔وفاق وصوبوں میں ٹکراو نہیں چاہتے،ہم بار بار آئینی راستہ اختیار کررہے ہیں، احتجاج کا راستہ ہمارے لیے کھلا ہے۔ ہوا سے بجلی بنانے کے سندھ کے منصوبوں کو وفاقی پاور ڈویژن دانستہ تاخیر کا شکار کررہاہے جبکہ سندھ میں ہوا سے سستی ترین بجلی پیدا ہورہی ہے۔ایک سال سے وفاق کو مسائل کی نشاندہی کررکھی ہے،لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی،اس طرح کی صورتحال سے ٹکراو ہوگا۔ مرکزی حکومت نے ونڈ پاور کے 12منصوبوں کو تاخیر کا شکار کردیاہے۔دوسری طرف سستی بجلی کے منصوبوں کے بجائے مہنگی بجلی بنائی جارہی ہے۔وزیراعظم سے درخواست ہے وہ نوٹس لیں،ہم وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا کو خطوط لکھ چکے،وفاق میں لگتاہے سب کے آنکھ کان بندہیں،اگر آئین کے ہوتے ہوئے حق نہ ملیں تو زیادتی ہے۔ سندھ اپنی ٹرانسمیشن لائن لاسکتااور گرڈ اسٹیشن بناسکتاہے۔ دھرنا سیاسی مسائل پر ہے،صوبوں کے حقوق پانی بجلی اور مالیاتی معاملات آئین میں درج ہیں۔قیادت مسائل سے باخبرہے ہرمسئلے کو متعلقہ فورم پر اٹھائینگے۔

سندھ حکومت

مزید : علاقائی