پاکستان برآمدات میں اضافے کیلئے گوادر بندرگاہ سے بھرپور فائدہ ٹھائے گا:ہارون شریف

    پاکستان برآمدات میں اضافے کیلئے گوادر بندرگاہ سے بھرپور فائدہ ٹھائے ...

  



بیجنگ (آئی این پی) پاکستان کے سابق وزیر مملکت اورسرمایہ کاری بورڈکے چیئرمین ہارون شریف نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات میں اضافے کیلئے گوادربندرگاہ سے پورا پورا فائدہ اٹھائے گا اور باقی دنیا کے ساتھ تجارتی رابطوں کو فروغ دے گا، سی پیک بارے بیجنگ فورم سے یہاں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بڑے زرعی ملک کے طور پرپاکستان چین اور دیگر ممالک کو خوراک سے متعلق کئی اشیاء برآمد کر سکتا ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے گوادر بندرگاہ اہم روٹ ہے جس کی ترقی کیلئے بڑی تیزی سے کام ہو رہا ہے اس کا جغرافیائی محل وقوع بے مثال ہونے کی وجہ سے یہ چین اور پاکستان دونوں ممالک کو تجارتی فائدہ پہنچانے کیلئے کم لاگت روٹ ہے،پاکستانی کمپنیوں کے فائدے سے متعلق ہارون شریف نے کہا کہ وہ برآمد کیلئے بہتر مصنوعات چین کی منتقل کردہ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کر سکتے ہیں کیونکہ چین نے اس جدید اور اعلیٰ ٹیکنالو جی پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے،پاکستان کی کم لاگت لیبر سے چین فائدہ اٹھا سکتا ہے،انہوں نے کہا یہ شراکت داری پاکستان کیلئے مددگار ہوگی اگر سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہو سکیں اور اس کی برآمدات میں بہتری آ سکے،گوادر پرونیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہارون شریف نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تر غیب کیلئے پروگرام بھی متعارف کرایا اگر پاکستانی اور چینی کمپنیاں پاکستان میں مشترکہ وینچر بنائیں تو یہ وینچر چین سے مشینری درآمد کرنے سمیت 10 سال تک ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گا اگر مشترکہ وینچر کے تحت 80 فیصد مصنوعات بھی برآمد کر لی جائیں تو استثنیٰ کی مدت میں 20 سال تک توسیع ہو سکتی ہے،پاکستان خصوصی اقتصادی زون بھی قائم کر رہا ہے جہاں سستی بجلی اور کئی اور قسم کی سہولتیں تمام سرمایہ کاروں کیلئے دستیاب ہونگی، پاکستان میں لیبر اخراجات بھی مقابلتاً کم ہوں گے،ہارون شریف تھرڈ پارٹی مارکیٹ میں پاک چین تعاون کے بارے میں بڑے پر امید ہیں کیونکہ پاکستان میں خام مال اور سستی لیبرکافی تعدادمیں موجود ہے جبکہ چین کے پاس ٹیکنالوجی ہے،چینی سرمایہ کار پاکستان میں کارخانے لگا اور پیداوار حاصل کر سکتے ہیں مثال کے طور پر چینی ٹیکسٹائل کمپنیاں پاکستان میں مصنوعات تیار کر سکتی ہیں اور پھر یورپی ممالک کو برآمد کر سکتی ہیں جیسا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس موافق معاہدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے بارے میں ان کمپنیوں کے ساتھ کیا ہے، یورپی یونین مارکیٹ کے علاوہ پاکستان اور چین گوادر بندرگاہ سے یہ فائدہ بھی حاصل کر سکیں گے کیونکہ یہ سعودی عرب، قطراور متحدہ عرب امارات کی طرح  خلیجی ممالک کے بالکل قریب ہے اس طرح یہ مصنوعات ان ممالک کو فروخت کی جائیں گی اور یہ کم فاصلے اور کم مال برداری اخراجات کے باعث مارکیٹ میں زیادہ مقابلہ کر سکیں گی، ہارون شریف نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی شراکت داروں کے کے ساتھ مشترکہ وینچر تشکیل دیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ وینچرز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے حصص حاصل کرنے کی کوئی حد نہیں ہے،سرمایہ کاروں کو پاکستان کی وسیع لیبر فورس کا فائدہ اٹھاناچاہئے اور ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے چاہئیں،غیر ملکی سرمایہ کاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کو ٹیکنالوجی بھی منتقل کریں گے۔ 

ہارون شریف

مزید : علاقائی