پاکستان میں میٹروسروس

پاکستان میں میٹروسروس
پاکستان میں میٹروسروس

  



آج کے اس مصروفیت اور الیکٹرانکس کے دور میں ہر شخص کو آمدورفت اور دوسرے رابطہ کے ذرائع تیز ترین چاہئیں، آج کے اس دور میں مواصلات کے نظام کی ٹیکنالوجی میں بہت ترقی آئی ہے۔ آپ ہر قسم کے پیغامات چاہے تحریری ہوں یا زبانی، کم ترین خرچ پر اپنے ہدف تک فوری پہنچا سکتے ہیں اس میں آپ تصویری رابطہ کر کے کانفرنس بھی کر سکتے ہیں جس میں مختلف شہروں اور ملکوں کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں اس میں دونوں مقاصد پورے ہو تے ہیں یعنی کاروباری اور اپنے پیاروں سے ملاقات۔ اس گلوبلائزیشن کے دور میں ہر خاندان کے افراد دنیا کے مختلف کونوں میں رہ رہے ہیں پہلے جو ملاقات خط کے ذریعہ مہینوں میں ہوتی تھی یا ٹیلیفون کے ذریعے چند منٹوں کی بات ہوتی تھی اب رابطہ اس طرح ہے کہ جیسے آپ کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ترقی کے اس دور اور سہولیات کے ساتھ نقل و حمل کے ذرائع پرتوجہ کی ضرورت ہے، پاکستان میں خاص کر شہر جس طرح بے ہنگم پھیل رہے ہیں اس کی وجہ دیہاتوں سے شہر وں کی طرف منتقلی ایک طرف اور آبادی میں لاامتناہی اضافہ دوسری طرف۔ یہی وجہ ہے کہ نقل و حمل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ٹریفک کا جام ہونا ایک عام بات ہو چکی ہے، اوپر سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی بڑا مسئلہ ہے۔ چھوٹی مسافت کے لئے موٹر سائیکل رکشہ ایک متبادل سواری کے طور پر سامنے آتی ہے، لیکن اس سے ایک طرف تو ٹریفک کے مسائل بڑھ گئے ہیں اور دوسری طرف ان سے آلودگی میں بہت اضافہ ہوا ہے یہ آلودگی چاہے دھویں کی شکل میں ہو یا شور کی شکل میں ان موٹر سائیکل رکشہ کے ڈرائیور نہ تو ٹریفک رولز کی پابندی کرتے ہیں اور نہ ٹریفک پولیس کی جرات ہے کہ ان کو روک سکے اور ان کو قانون کا پابند بنا سکیں البتہ اب ضرورت اس امر کی ہے موجودہ ذرائع کو کیسے استعمال کیا جائے۔

میٹروبس اور اورنج ٹرین کا منصوبہ چاہے لاھور، اسلام آباد اور ملتان میں ہو یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کے ذریعہ روزانہ لاکھوں کی تعداد میں افراد ایک صاف ستھرے ماحول میں اپنی ملازمت یا کاروبار کی طرف جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ملازم لوگوں نے جن کے دفاتر ایسی جگہوں پر ہیں جہان پارکنگ مشکل ہے یا دفتری کام ہی ہے میٹرو کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اپنی ٹرانسپورٹ کے مالک صاحبان بھی میٹرو سٹاپ کے پاس اپنی ٹرانسپورٹ پارک کر کے میٹرو کے ذریعہ سفر کرتے ہیں۔

لاہور میں اورنج ٹرین کا منصوبہ آخری مراحل میں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کا استعمال صحیح ہونا چاہیے۔ اس منصوبہ کے ذریعے شمال اور جنوبی لاہور کے رہائشی لاہور شہر کے مصروف مقامات تک آرام سے پہنچ سکیں گے، یہاں بھی سفر آرام دہ ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے اگر ایک چیز بہتر ہو رہی ہے اس کے ساتھ دوسری چیزوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اورنج ٹرین کے نیچے جوڈرین بارش کے پانی کے لئے بنائی گئی ہے وہ ایک گندگی کا تالاب بن گئی ہے اس سے بہت سی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی ایک آلودگی کا ذریعہ ہے۔ احباب اختیار جو اس سڑک کے معائنہ کے لئے جاتے ہیں کیا ان کی نظریں اتنی کمزور ہیں کہ ان کو یہ گند نظر نہیں آتا۔ ایک طرف تو لاہور کو صاف بنانے کا واویلا مچایا جا رہا ہے تو دوسری طرف چھوٹی چھوٹی کوہتائیاں مل کر خرابی کا باعث بن جاتی ہیں۔ جن پر ہر وقت توجہ نہیں دی جارہی۔کیا گورنر، وزیر اعلیٰ، وزراء اور اس اورنج ٹرین کے کرتا دھرتا کو صرف سٹیشن اور پتڑیاں ہی نظر آتی ہیں اور وہ چیزیں جو علاقے کے لوگوں کی تکلیف کا باعث بن رہی ہیں ان پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا۔ اگر گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزراء ملتان روڈ پر بغیر پروٹوکول کے اور بغیر اطلاع کے سفر کریں تو ان کو کمیوں کا ادراک ہو جائے گا اور سدباب بھی آسان ہو گا۔

اب آتے ہیں میٹرو کی طرف یہ چاہے بس ہو یا ٹرین ایک سہولت ہے پتہ نہیں کہ ہر کام کو وقت پر کرنے کا دعویٰ کرنے والی خیبر پختونخواہ کی حکومت منصوبہ مکمل کرے گی یا پشاور کے لوگوں کو آلودگی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا رکھے گی۔ یہ تو لگتا ہے کہ ایسا منصوبہ بنا دیا گیا ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔کچھ سال پہلے اشتہارات چھَپے کہ میٹرو سروس کا 2017 ء میں افتتاح ہو گا، لیکن آج 2019ء کا اختتام ہو رہا ہے اور ہنوز دلی دوراست کی صدائیں آ رہی ہیں۔کیا وزیراعظم پاکستان خیبر پختونخواہ کے ارباب اقدار کو اس پرسرزنش نہیں کریں گے اور ان کو ایک ڈیڈ لائن نہیں دیں گے کہ اگر سہولت نہیں دینی نہ دیں، مگر پشاور کے باسیوں کو تو ذہنی اور جسمانی عذاب سے بچائیں۔

میٹرو منصوبہ اگرچہ بہت اچھا ہے لیکن اس کا بیس روپے کرایہ مقرر کرنا اس ملک کے ٹیکس دہندگان کے ساتھ سخت زیادتی ہے، کیونکہ ایک موٹرسائیکل رکشہ اگر تین کلو میٹر سفر کرتا ہے تو ہر سواری سے 20 روپے کرایہ لیتا ہے۔ جہاں نہ سردی سے بچاؤ ہے نہ گرمی سے۔ گورنمنٹ کو سہولیات مہیا کرنی چاہئے، لیکن ہر چیز مدنظر کر تیس سے چالیس کلومیٹرکے لئے بیس روپے کرایہ انتہائی نامناسب ہے اس کو فوری طور پر پچاس روپے کیا جائے اور ساتھ ہی ایک سے تین سٹاپ کا کرایہ 20 روپے اور چار سے چھ کا کرایہ 35 روپے کیا جائے۔ اگرچہ بعض لوگ اس کو ناانصافی یا برا سمجھیں گے، لیکن ان گاڑیوں کی مرمت، ان کو چلانے کے اخراجات تو کم از کم محکمہ خود برداشت کرے اور اس کو مزید ملکی خزانہ پر بوجھ نہ بنایا جائے۔ حکومت کو اس طرف فوری توجہ کرنی چاہئے کیونکہ اگر کرایوں کا یہی حال رہا تومیٹرو اوراورنج ٹرین ایک اور سفید ہاتھی بن جائے گا جو خزانہ پر اور بوجھ ہو گا اور انجام کار سب کچھ لے ڈوبے گا۔

مزید : رائے /کالم