2018ء کے دوران ملک میں ای کامرس کے شعبہ کی شرح نمو93فیصد رہی

2018ء کے دوران ملک میں ای کامرس کے شعبہ کی شرح نمو93فیصد رہی

  



اسلام آباد (اے پی پی) 2018ء کے دوران ملک میں ای کامرس کے شعبہ کی شرح نمو93فیصد رہی ہے۔ ای کامرس کے شعبہ کی مجموعی سیلز 40.1ارب روپے تک بڑھ گئی۔ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں ای کامرس کے شعبہ کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں۔ گذشتہ سال کے دوران مصر میں ای کامرس کے شعبہ کی فروخت کاحجم 5ارب ڈالر جبکہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے والی ایرانی معیشت میں شعبہ کی فروخت 18.5ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔ ای کامرس کے شعبہ کے اعدادوشمار مرتب کرنے والے اداروں نے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں میں ای کامرس کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کر کے اس کا تجزیہ کیا۔ ان اداروں میں دراز، گوٹو، ہم مارٹ سمیت پرائس اوئے وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی تقیقاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ای کامرس کے شعبہ کی ترق میں مختلف مسائل کا سامنا ہے۔نتائج کے مطابق ای کامرس کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعات کے معیار سے 32فیصد صارف مطمئن نہیں ہیں جبکہ 23فیصد کسٹمرز کا کہنا ہے کہ آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیاں ڈیلیوری کیلئے زیادہ وقت لیتی ہیں اور 15فیصد کے مطابق صارفین کی خدمات بہتر طور پر پیش نظر نہیں رکھی جائیں۔ 7فیصد نے قیمت جبکہ 16فیصد نے خریدی گئی اشیاء کی واپسی اور 7فیصد نے آن لائن فراہم کی جانے والی خدمات میں مصنوعات کی رینج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ای کامرس کے شعبہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ای کامرس کے شعبہ میں بہتری کے امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیاں معیاری مصنوعات کی مناسب قیمتوں پر فراہمی، ڈیلیوری کے وقت میں کمی، صارفین کیلئے بہتر خدمات اور خریدی گئی مصنوعات کی واپسی یا تبدیلی وغیرہ کیلئے اپنی خدمات کو مزید بہتر بنا کر ای کامرس کے شعبہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں شعبہ کا کاروباری حجم کہیں کم ہے۔ گذشتہ سال کاروبار میں 93فیصد اضافہ ہوا اور 40ارب روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا گیا لیکن پھر بھی ہم  مصر اور ایران جیسے ممالک سے پیچھے ہیں۔

مزید : کامرس