ہسپانوی تاجروں کا وفد اگلے ہفتے کاروباری مواقع کا جائزہ لینے پاکستان کا دورہ کریگا

ہسپانوی تاجروں کا وفد اگلے ہفتے کاروباری مواقع کا جائزہ لینے پاکستان کا ...

  



فیصل آباد (بیورورپورٹ) ٹریول ایڈوائزری کے باوجود سپین کے بزنس مین پاکستان آرہے ہیں آئندہ ہفتے بھی سپین کا ایک وفد پاکستان آرہا ہے جو ایک ہفتے کے قیام کے دوران لاہور اور کراچی کے علاوہ فیصل آباد کے تاجروں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔ یہ بات پاکستان میں سپین کے سفیرمینوئیل ڈیوران نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ فیصل آباد اس ملک کا سب سے اہم صنعتی، تجارتی اور کاروباری مرکز ہے۔ ٹیکسٹائل کیپٹل ہونے کی وجہ سے یہاں بڑی تعداد میں سپین کی جدید مشینری بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے اور انہیں توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے آئی ٹی کے شعبہ میں مہارت رکھنے والے نوجوان پاکستانیوں کو سپین کے انکوبیشن سنٹروں میں جگہ دینے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور یقین دلایا کہ وہ اس پر مزید غور کریں گے۔ ڈیری کے شعبہ میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سپین اس شعبہ میں مہارت رکھتا ہے تاہم خواہشمند تاجر اپنے مخصوص شعبے کی نشاندہی کریں تاکہ اس پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ ٹیکسٹائل کے حوالے سے فیشن انڈسٹری کے فروغ کیلئے پاکستان اور سپین میں تعاون بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں آپ لوگوں کو میڈرڈ میں پاکستانی سفیر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ویزا کے بارے میں سپین کے سفیر نے وضاحت کی کہ چونکہ سپین کا ویزا تمام شنگن ممالک کیلئے ہوتا ہے اس لئے انہیں یہ صرف ان کا اختیار نہیں ان کے قوائد وضوابط کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔سیکرٹری جنرل عابد مسعود کے سوال کے جواب میں سپین کے کمرشل اتاشی مگوئیل پینا شنز نے کہا کہ وہ چیمبر کے ساتھ سپین کی معیشت بارے تازہ ترین اعداد وشمار کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کا تعارف کرایا اور بتایا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل فیصل آباد کی شناخت ہے تاہم یہاں دوسرے شعبوں نے بھی تیزی سے ترقی کی ہے جن میں کیمیکلز، رائس، گھی،شوگر، انجینئرنگ،پولٹری اور زراعت شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت جرابین بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی فیکٹری، چاول کا سب سے بڑا کارخانہ اور کیمیکل کا جدید ترین یونٹ بھی فیصل آباد میں ہے۔ 

 انہوں نے مزید بتایا کہ یہ شہر پاکستان کی ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں پچا س فیصد کا گرانقدر حصہ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کے بعد دونوں ملکوں کے تجارتی حجم میں اضافے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس سال فیصل آباد چیمبر کے ایک تجاتی وفد نے ”اٹما“  میں شرکت کی۔ جبکہ بہت سے پاکستانی برآمد کنندگان سپین کے معروف برانڈ بھی تیار کر رہے ہیں۔ ایم تھری انڈسٹریل سٹی کا ذکر کرتے ہوئے رانا محمد سکندر اعظم خاں نے یہاں خاص طور پر سرامکس، ٹیکسٹائل مشینری، آئی ٹی، ڈیڑی اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ سابق صدر میاں جاوید اقبال نے بھی پاکستان اور سپین کے تاجروں میں براہ راست رابطوں پر زور دیا اور کہا کہ جس طرح چین اور دوسرے ممالک یہاں صنعتیں قائم کر رہے ہیں اس طرح سپین کو بھی اس کے پوٹینشل سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے سپین کے مختلف عالمی تجارتی میلوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمیں صرف میڈ ان پاکستان اور میڈ ان سپین جیسی نمائشوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان میں تیزی سے ابھرتی ہوئی فیشن انڈسٹری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سپین کو پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ پاکستان سپین کی فیشن انڈسٹری کیلئے بھی منفرد قسم کے لباس تیار کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی وجہ سے سپین کے خریدار پاکستان نہیں آرہے تو ہم سپین کی ایمبسی کے تعاون سے کیٹلاگ ایگزی بیشن کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں سید ضیاء علمدار حسین، کاشف ضیاء، ڈاکٹر سجاد ارشد، بابر شہزاد، شاہد اسلم اور دیگر ممبروں نے حصہ لیا۔ آخر میں نائب صدر بلال وحید نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سابق صدر میاں جاوید اقبال نے سپین کے سفیر مینوئل ڈیوران کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر فیصل آباد بارے ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ اس سے قبل مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے سپین کے سفیر مینوئل ڈیوران نے فیصل آباد کی گرمجوشی اور مہمان نوازی پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کا شکریہ ادا کیا۔  

مزید : کامرس