مریم نواز کی ضمانت منظور، پاسپورٹ اور 7کروڑ روپے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کی ہدایت،نیب کا فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

 مریم نواز کی ضمانت منظور، پاسپورٹ اور 7کروڑ روپے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس جمع ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل پرڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کی چودھری شوگرملز کیس میں درخواست ضمانت منظور کرلی،فاضل بنچ نے انہیں متعلقہ احتساب عدالت میں ایک ایک کروڑ روپے مالیت کے دو ضمانتی مچلکے داخل کرنے کے علاوہ اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے اپنا پاسپورٹ اور7کروڑ روپے عدالت عالیہ کے ڈپٹی رجسٹرار(جوڈیشل)کے پاس جمع کروانے کی ہدایت بھی کی ہے۔عدالت نے مریم نواز کی ضمانت پر رہائی کو 7کروڑ روپے کی ادائیگی اورپاسپورٹ سرنڈر کرنے سے مشروط کیاہے، 7کروڑ روپے کے بارے میں نیب کا الزام ہے کہ مریم نواز نے 28نومبر2011ء کویہ رقم چودھری شوگرملز کی سی ای اوکی حیثیت میں بینک سے چیک کے ذریعے نکلوائی تھی، فاضل بنچ نے قراردیا کہ چودھری شوگرملز بینک نادہندہ نہیں تھی،ا س لئے ملز کے حصص دار یا سی ای او کی حیثیت سے رقم نکالنا کوئی جرم نہیں ہے تاہم اس حوالے سے نیب کے خدشات دورکرنے کے لئے یہ رقم جمع کروارہے ہیں۔(جو امانت کے طور پر ڈپٹی رجسٹرار(جوڈیشل) کے پاس موجود رہے گی)۔فاضل بنچ نے مریم نواز کی ضمانت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں بلکہ کیس کے حالات وواقعات (میرٹ)اوران کے خاتون ہونے کی بنیاد پر منظور کی ہے،فاضل بنچ نے قراردیاہے کہ اپنے والد کی بیماری کے پیش نظر ان کی تیمارداری کے لئے عبوری ضمانت پررہائی کی درخواست دی گئی تھی لیکن بعد میں ان کے وکلاء نے اس درخواست پر اصرار نہیں کیااورمیرٹ پر دلائل دیئے،فاضل بنچ نے قراردیا کہ مریم نواز کے خلاف مشکوک ترسیلات کا جو کیس ہے اس میں نیب کے مطابق تین غیر ملکیوں سعیدسیف بن جبارالسویدی،شیخ ذکاء الدین اور ہانی احمد کی طرف سے 400ملین روپے مالیت کی ٹرانزیکشنزہوئیں لیکن یہ ٹرانزیکشنز مریم نواز کے اکاؤنٹ میں نہیں بلکہ چودھری شوگرملز کے اکاؤنٹ میں ہوئیں،عدالت نے قراردیا کہ ایک اور غیر ملکی نصیر عبداللہ حسین لوتھا کی طرف سے ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی)کے ذریعے 4.8ملین ڈالرکی مشکوک ٹرانزیکشن ہوئی،فاضل بنچ نے قراردیا کہ نصیرعبداللہ حسین لوتھا کا بیان جس وقت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا گیا،اس وقت ملزمہ عدالت میں موجودنہیں تھیں،جس کے باعث ملزمہ کا موقف نہیں جانا گیا،علاوہ ازیں نصیر عبداللہ لوتھا کا وزارت خارجہ سے تصدیق شدہ بیان بھی پیش نہیں کیا گیا، پراسکیوشن نے دیگر غیر ملکیوں کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کئے، یہ کیس مزید تفتیش کا متقاضی ہے۔فاضل بنچ نے اپنے فیصلے میں ان 45بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل کی ہیں جن کے بارے میں نیب کا کہناہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے غیر قانونی ٹرانزیکشنزہوئیں،جن کے بارے میں درخواست گزار وضاحت پیش نہیں کرسکی ہیں،فاضل بنچ نے قراردیا کہ فنانشل مانیٹری یونٹ (ایف ایم یو)نے 12جنوری2018ء کو ان مشکوک ترسیلات کے بارے میں نیب کو خط لکھا تھا،عدالت نے قراردیا کہ مریم نواز پر الزام ہے کہ وہ 1995-96ء میں چودھری شوگرملز کے 6لاکھ 64ہزار حصص کی مالک تھیں جو2008ء تک ان کے پاس رہے، پھر وہ 2008ء سے 2010ء تک 12ملین حصص کے ساتھ میجر شیئر ہولڈررہیں،اس حوالے سے کیا غیر قانونی اقدامات ہوئے،نیب کو دیکھناہوگا کہ یہ حصص کس طرح ان کی آمدنی سے زائد ہیں۔فاضل بنچ نے مریم نواز کے وکلاء کی اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا کہ جس وقت 1981ء میں چودھری شوگر ملز قائم کی گئی اس وقت مریم نواز نابالغ تھیں،اس لئے وہ معاملات کی ذمہ دارنہیں۔فاضل بنچ نے قراردیا کہ 2008ء سے آخر تک وہ نہ صرف چودھری شوگرملز کی میجر شیئر ہولڈر رہیں بلکہ ان کے حصص میں اضافہ بھی ہواتاہم ان معاملات میں فائدہ اٹھانے کی بابت مقدمہ مزید تفتیش کا متقاضی ہے،فاضل بنچ نے اعلیٰ عدالتوں کے مختلف مقدمات میں فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیاکہ گرفتاری کو سزا کے طور کر استعمال نہیں کیا جا سکتا، کسی کو محض اس الزام کی بنیاد پر جیل میں نہیں رکھا جاسکتا کہ اس نے ایسا جرم کیا ہے جو قابل سزاہے،فاضل بنچ نے مس شہلا رضا، افسر بی بی اورزہرہ خانم کے مقدمات میں عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیا کہ عدالتوں کو خواتین کی ضمانت کے مقدمات میں اپنے صوابدیدی اختیار کو استعمال کرنا چاہیے،مریم نواز کے کیس میں استثنائی حالات استغاثہ کے حق میں نہیں ہیں کیوں کہ مریم نواز نہ تو مفرورہیں اور نہ ہی انہوں نے قانونی عمل میں کوئی رکاوٹ ڈالی ہے۔عدالت نے زہرہ خانم کیس کے حوالے سے قراردیا کہ مقدمہ مزید تفتیش کا متقاضی ہو تو خاتون کی ضمانت لی جاسکتی ہے،عدالت نے چیئرمین نیب بنام میاں نواز شریف کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیا کہ مریم نواز کو خاتون ہونے کے ناطے درست طور پر (ایون فیلڈ ریفرنس میں)ضمانت دی گئی،مریم نواز کو اس کیس میں 8اگست2019ء کو کوٹ لکھپت جیل سے اس وقت گرفتارکیا گیا جب وہ اپنے والد سے ملاقات کے لئے وہاں موجود تھیں، گزشتہ ماہ ان کی ضمانت پر رہائی کے لئے لاہورہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا،پھر ان کے والد کی بیماری کی بناپر ان کی عبوری ضمانت کے لئے ایک متفرق درخواست دائر کی گئی،مریم نواز کی درخواست ضمانت کی سماعت مکمل ہونے کے بعد31اکتوبر کو فاضل بنچ نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو گزشتہ روز سنا دیاگیاجو 22صفحات پر مشتمل ہے،فاضل بنچ نے اپنے تحریری حکم میں مزیدقراردیاہے کہ نیب کی جانب سے مریم نواز کے فرار ہونے خدشہ ظاہر کیا گیا، نیب نے مریم نواز کے خاتون ہونے کی بنا پر درخواست منظور کرنے کی مخالفت کی لیکن اس سلسلے میں نیب کے وکیل نے طلعت اسحاق بنام نیب کے جس کیس کے عدالتی فیصلے کو بطور نظیر پیش کیاہے،وہ پوری طرح مریم نواز کے کیس کا احاطہ نہیں کرتااورنہ ہی یہ عدالتی نظیر ہائی کورٹ کو آئین کے آرٹیکل199کے تحت حاصل اختیارات پر کوئی قدغن لگاتی ہے،فاضل جج نے یہ سچ ہے کہ معاشرے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹس پھیلی ہوئی ہے، جس سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے لیکن گرفتاری کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتااور اس سلسلے میں عدالت قانونی نکات کو مدنظر رکھتے اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتی، عدالت ثبوتوں کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، مریم نواز کے اکاؤنٹ سے نکلوائے گئے 7 کروڑ روپے کے الزام سے پراسکیوشن کے موقف کو تقویت نہیں ملتی، 7 کروڑ روپے نکلوانے کا معاملہ بھی مزید چھان بین کا متقاضی ہے۔

مریم ضمانت

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قومی احتساب بیورو (نیب) حکام نے مریم نواز شریف کی چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی منظوری کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق شوگر مل کیس میں مریم نواز کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ وہ مکمل صحت مند ہیں اور بیمار بھی نہیں۔ اس کے علاوہ وعدہ معاف گواہ عبداللہ ناصر لوتھا نے بھی شریف فیملی کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروا رکھا ہے۔ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو کی جانب سے قانونی مشاورت کے بعد مریم نواز شریف ضمانت کے بارے میں عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مریم نواز کی ضمانت پر اظہار تشکر کیا اور کہا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکر ادا کرتے ہیں۔شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا بیٹی مریم نواز کی ضمانت سے نواز شریف کی تیمارداری کے تقاضے بہترین انداز سے پورے ہوسکیں گے، اللہ تعالی نواز شریف کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ انہوں نے عوام، کارکنان، دوست اور احباب سے اپیل کی ہے کہ نواز شریف کی صحت کے لئے خصوصی دعا فرمائیں۔صدر مسلم لیگ نون کا کہنا تھا کارکنان سے خصوصی اپیل ہے کہ جشن منانے یا مٹھائیاں تقسیم کرنے کے بجائے صرف دعائیں کریں، نواز شریف کی صحت ناساز ہے، ان کے پلیٹ لیٹس کی کمی کی تشخیص از حد ضروری ہے۔

نیب/فیصلہ

مزید : صفحہ اول