ترکی کی مدد سے کار کے رینٹل پاور پلانٹ کا مسئلہ حل،کیس ختم،نرمانہ معاف ہو گیا،اپوزیشن انتشار چاہتی ہے،ہمارے صبرو تحمل کو کمزوری نہ سمجھے:عمران خان

ترکی کی مدد سے کار کے رینٹل پاور پلانٹ کا مسئلہ حل،کیس ختم،نرمانہ معاف ہو ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کارکے رینٹل پاور پلانٹ تنازع حل ہو گیا اور حکومت نے پاکستان پر ایک ارب 20 کروڑ کا جرمانہ بچالیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا تحریک انصاف کی حکومت نے کارکے (کارکے رینٹل پاور پلانٹ کیس) تنازع حل کرلیا ہے یہ سب ترک صدر رجب طیب اردوان کی مدد سے ممکن ہوا، تنازع حل ہونے سے پاکستان پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا جرمانہ معاف ہوا۔وزیراعظم نے حکو متی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کارکے تنازع حل کرنے میں حکومتی ٹیم کا بہترین کردار رہا جس کی بدولت انٹرنیشنل سینٹرفارسیٹلمنٹ اینڈ انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس کی جانب سے عائد کیا گیا ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کا جرمانہ بچا لیا گیا۔ادھرپاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پرمکمل اعتماد کااظہار کرتے ہوئے کہاہے موجودہ حکومت منتخب، سلیکٹڈ کا الزام احمقانہ،عوام کے ووٹ سے آئے ہیں کسی کی چھتری لے کر نہیں،کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے، پارلیمنٹ کو مضبوط بنائینگے،وزیرِ اعظم کے ویژن کے مطابق پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرز پر اسلامی، فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ پیرکو پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرار داد میں کہاگیا تمام اتحادی جماعتیں، موجودہ حکومت،وزیرِ اعظم عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہاراور اس بات کا اعادہ کرتے ہیں موجودہ حکومت کی تاریخی اصلاحات ملک کی تعمیرو ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گی۔ ہم پارلیمنٹ کو جمہوری اقدار کے مطابق بدستور فعال رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ موجودہ حالات میں حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کا کردار اہم اور ہم اس پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ملک کو درپیش معاشی، سفارتی، انتظامی اور دیگر چیلنجز سے نبردآزماء ہونے کیلئے وزیرِ اعظم اور حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلایا جاتا ہے۔ قرارداد میں کہاگیافوج ہمیشہ منتخب حکومت کیساتھ کھڑی ہوتی ہے،فوج غیرجانبدارادارہ ہے۔اپوزیشن کے کسی بھی غیرجمہوری وغیر قانونی اقدام کومستردکرتے ہیں۔پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کوشش ہے اپوزیشن سمیت تمام پاکستانیوں کی جان و مال کی حفاظت کروں، اپوزیشن ملک میں انتشار چاہتی ہے لیکن ہم صبروتحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، ہماری برداشت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دریں اثناء  وزیراعظم عمران خان سے ڈاکٹر بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں جے یو آئی (ف) کے دھرنے سمیت تازہ ترین ملکی سیاسی صورتحال کے علاوہ آئینی و قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا ریاست پہلے سیاست بعد میں آتی ہے، ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔ قانون کا سب پر یکساں اطلاق ہو گا، انسداددہشتگردی عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک سب جگہ خود پیش ہوا ہوں، ملکی ادارے مزید مستحکم کریں گے، پاکستان کا استحکام اداروں کیساتھ وابستہ ہے۔ کرتار پور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہو گا، دنیا بھر سے آنیوالے سکھ زائرین کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔ معیشت کی بہتری کیلئے حکومتی اقدامات اور کوششیں رنگ لا رہی ہیں، اس موقع پرڈاکٹر بابر اعوان نے کہا مولانا کا دھرنا اعلی عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، مشروط اجازت صرف مارچ کیلئے تھی دھرنے کیلئے نہیں۔ مولانا کے مارچ کے باعث کشمیر کاز منظر عام سے غائب ہو گیا۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ملاقات کی جس میں مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن سے رابطوں پر وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے کہاچاہتے ہیں معاملات سیاسی طور پر حل ہوں، حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیراعظم سے رہنمائی لی۔بعد ازاں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس بھی ہو ا،اجلاس میں وزیرِ اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرِ بحری امور سید علی حیدر زیدی، وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر اصلاحاتی امور ڈاکٹر عشرت حسین، معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ مرزا، معاون خصوصی یوسف بیگ مرزا، معاون خصوصی ندیم  بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین، متعلقہ محکموں کے وفاقی سیکرٹریز، گورنرسٹیٹ بنک رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر  شبر زیدی، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر ودیگر سینئر افسر ان شریک ہوئے، اجلاس میں معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا معاشی شعبے میں حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور اقتصادی اعشا ر یوں میں بہتری آ رہی ہے جس کو بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔معیشت کی سمت درست ہو چکی ہے۔ محصولات میں پندرہ سے سولہ فیصد بہتری آئی ہے۔ سٹیٹ بنک سے مزید قرض نہیں اٹھایا جا رہا۔ حکومتی اخراجات کے حوالے سے مالی نظم و ضبط کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ بہتری آئی مزید اضافہ متوقع ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے طلب و رسد کویقینی بنانے اور دیگر انتظامی اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور عام آدمی کے استعمال میں آنیوالی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پرمسلسل نظر رکھی جائے، تمام وزارتیں پیش رفت کی رپورٹ ماہانہ بنیادوں پر پیش کریں۔ اجلاس میں بیمار صنعتوں کوازسر نو فعال بنانے کے حوا لے سے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت کا ٹارگٹ ان معاشی اعشاریوں میں مزید بہتری لانا،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنیکی ہر ممکن کوشش کرنا اولین ترجیح ہے۔

اتحادی اظہار اعتماد

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے ضرورت مند نوجوانوں کیلئے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے انڈرگریجویٹ سکالرشپ پروگر ا م کا اجرا کردیا، اس سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا، ہائی ایجوکیشن کے چیئرمین سمیت دیگر افراد موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا احساس پروگرام سے معاشرے میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا سکالر شپ پروگرام  شروع ہورہا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت ہر سال 50 ہزار نوجوانوں کو سکالر شپ دی جائے گی،پروگرام میں 50 فیصد حصہ خواتین کیلئے رکھا گیا ہے۔عمران خان نے کہا ہم غریب گھروں میں راشن دینے کا پروگرام بھی شروع کرنے لگے ہیں، آٹا، گھی، دال اور چینی غریب افراد کے گھروں میں پہنچائیں گے۔ نمل یونیورسٹی کے 90 فیصد گریجویٹس کو نکلتے ہی نوکریاں مل گئیں اور نمل یونیورسٹی میں 92 فیصد غریب گھرانوں کے بچے سکالرشپس پرپڑھتے ہیں، غربت ختم کرنے کیلئے نوجوانوں کومواقع فراہم کرنا ہوں گے کیونکہ غربت کم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ غریب لوگوں کو اوپر آنے کا موقع دینا ہے۔ ماضی میں مختلف نظام تعلیم سے ناانصافی بڑھی، کوئی معاشرہ بچوں کیساتھ ایسا ظلم نہیں کرتا، دیگر ممالک میں بہترین تعلیم سرکاری سکولوں میں ہے جبکہ دینی مدارس کے طلبہ کیلئے کسی نے کوشش نہیں کی، مدارس کے طلبہ کو ترقی کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔اس پروگرام کے آغاز سے قبل وزیرا عظم عمران خان نے ایک ٹوئٹ بھی کی جس میں انہوں نے پروگرام کی تفصیل بتاتے ہوئے لکھا اس کے تحت سالانہ 50 ہزار کی شرح سے 4 برس میں 2 لاکھ طلبہ کو وظائف دیے جائیں گے۔احساس پروگرام کی چھتری تلے انسانی سرمائے کی ترقی کے پیش نظر ان وظائف کا 50 فیصد طالبات کیلئے مختص ہے۔احساس پروگرام کی روح رواں ثانیہ نشتر نے کہا  وزیراعظم نے 4 سال کے عرصے میں 2 لاکھ سکالر شپس منظور کی ہیں، وہ طلبہ جن کے والدین کی آمدنی 45 ہزار سے کم ہے، وہ اس کے اہل ہونگے۔ پروگرام کا پورٹل کھل چکا، درخو ا ستیں موصول ہورہی ہیں، 6 ماہ میں پروگرام پر عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔سال کے آخر تک احساس یتیم خانوں کا اجراء ہوگا، مزدوروں سے متعلق پالیسی جلد جاری کریں گے۔ نومبر کے تیسرے ہفتے میں غریب خواتین کی مالی معاونت کی پالیسی کا اعلان ہوگا۔اس موقع پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا سکالر شپ پروگرام سے مدارس کے بچے بھی فائدہ اٹھاسکیں گے۔واضح رہے احساس پروگرام کے تحت اس انڈرگریجویٹ سکالرشپ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی طالب علم وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔کسی بھی سرکاری جامعہ میں میرٹ پر داخلہ لینے والے طلبہ جو کم آمدنی والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ احساس انڈرگریجویٹ سکالرشپ کے اہلیت کے معیار پر پوا اتر تے ہیں۔اس پروگرام کیلئے اہل طلبہ ehsaas.hec.gov.pk پر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں اور اس درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 10 دسمبر ہے۔

سکالر شپ اجراء

مزید : صفحہ اول