حکومت،اپوزیشن رابطے تیز،حکومتی اور رہبر کمیٹی میں مذاکرات،آج پھر بات چیت ہو گئی ،چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات،وزیر اعظم نے بھی آج مذاکراتی کمیٹی کو بلالیا

حکومت،اپوزیشن رابطے تیز،حکومتی اور رہبر کمیٹی میں مذاکرات،آج پھر بات چیت ہو ...

  



اسلام آباد، لاہور (سٹاف رپورٹر ، جنرل رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )حکومتی اوراپوزیشن کی رہبر کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے ۔ دونوں اطراف کی مذاکراتی کمیٹیوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ آج بروز منگل دوپہر تین بجے ایک دفعہ مذاکرات کا دور ہوگا۔ پیر کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیردفاع پرویز خٹک نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج کے مذاکرات میں اپوزیشن کے مطالبات سنے اور اپنی تجاویز ان کے سامنے رکھی ہیں۔پرویز خٹک کے مطابق اب دونوں کمیٹیاں اپنے بڑوں کے سامنے ساری صورتحال رکھیں گی جس کے بعد آج دوبارہ بیٹھک ہو گی جس میں تمام متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے ارکان کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں کمیٹیوں کے سربراہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ، حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارا معاہدہ ہوا تھا انہوں نے اس کی پاسداری کی ۔ ہم نے آج اپوزیشن کے مطالبات سنے اور ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہم ان کے تمام مطالبات سے متعلق پارٹی قائدین سے بات کرینگے اور آج تین بجے دوبارہ ملاقات کرینگے امید کرتا ہوں یہ اس ملاقات کا اچھا نتیجہ نکلے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مذاکرات کا دوسرا دور منگل کے دن دوپہر تین بجے میری رہائش گاہ پر ہوگا۔سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں کمیٹیاں ہونے والی بات چیت سے اپنے بڑوں کو آگاہ کریں گی اور پھر فیصلوں سے آگاہی دلائیں گی۔ رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کے ارکان ہمارے ساتھ مذاکرات کے لئے آئے ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں ہم نے ان کے سامنے وزیر اعظم کے استعفے سمیت اپنے مطالبات رکھے جو پہلے ہمارے مطالبات تھے ان پر بھی بات ہوئی ۔اس حوالے سے آج دن تین بجے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیون سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویزالہٰی نے کہا کہ مولانافضل الرحمان سے دیرینہ تعلقات ہیں۔جے یو آئی اورحکومت کے درمیان معاملات جلد حل ہونے چاہئیں۔مسائل جلد ازجلد حل ہونے چاہئیں۔ ہماری ہرممکن کوشش ہے کہ ماحول میں بہتری آئی آئے۔ نیت اچھی ہوتو چیزیں جلد ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ نہیں چاہتے موجودہ صورتحال کی وجہ سے مسائل پیداہوں،پرویزالہٰی - مایوسی گناہ ہے ہم نے مایوسی کی طرف نہیں جانا چاہیئے۔اکرم درانی نے کہا کہ چودھری برادران کی کوششوں کی سراہتے ہیں دوسری طرف دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اے پی سی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے مارچ میں شمولیت سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے، 2014 میں انہوں نے ایک دھرنا دیا، جس میں حکومت اور اپوزیشن ایک طرف تھیں اور عمران خان ایک طرف تھا، خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے، عمران خان پہلے سلیکٹڈ تھے اب ریجیکٹڈ ہوگئے ہیں،'ہم پاکستان کو طاقتور دیکھا چاہتے ہیں، عالمی برادری کی نگاہ میں محترم دیکھنا چاہتے ہیں، کمزور پالیسیوں کی نتیجے میں آج پاکستان تنہا نظر آرہا ہے، ناجائز حکمران کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے، ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور اس سے کم پر بات نہیں بنے گی،ہم نے جو آواز بلند کی وہ پوری قوم کی آواز ہے، یہ آواز اس نوجوان کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 'شرکا یہاں جو مقصد لے کر آئے ہیں ہم اس مقصد کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، آج حزب اختلاف کی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جن میں رہنماو¿ں نے آزادی مارچ کے شرکا کو خراج تحسین پیش کیا، آج تمام سیاسی جماعتوں نے قائدین نے ہمیں یہ بھی یقین دلایا کہ وہ اس محاذ پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کو تنہا نہیں چھوڑیں گے تمام سیاسی جماعتوں کے مارچ میں شمولیت سے متعلق شکوک و شبہات دم توڑ گئے ہیں، آج یہ بات بھی دم توڑ گئی کہ کونسی سیاسی جماعت آپ کے ساتھ کس حد تک ہے اور کس حد تک نہیں اور اب ہمیں اگلے مراحل تک جانا ہے۔'ان کا کہنا تھا کہ 'آج ایک عجیب صورتحال ہے، 2014 میں انہوں نے ایک دھرنا دیا، جس میں حکومت اور اپوزیشن ایک طرف تھیں اور عمران خان ایک طرف تھا، خدا جانے یہ کس کا نمائندہ ہے، عمران خان پہلے سلیکٹڈ تھے اب ریجیکٹڈ ہوگئے ہیں۔'مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 'ہم پاکستان کو طاقتور دیکھا چاہتے ہیں، عالمی برادری کی نگاہ میں محترم دیکھنا چاہتے ہیں، کمزور پالیسیوں کی نتیجے میں آج پاکستان تنہا نظر آرہا ہے، پاکستان تنہا نظر آرہا ہے کیونکہ یہ پڑوسی ملکوں کو اعتماد نہیں دے سکتا، ہم عالمی برادری میں پاکستان کو تنہائی سے نکالنا چاہتے ہیں۔' 'یہ سوچتے تھے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس کے لیے رحمت بنیں گے، کہا کہ مودی جب کامیاب ہوگا تو مسئلہ کشمیر حل ہوگا، مودی کامیاب ہوگیا اور یہ وہ حال ہے جو کشمیر کا ہوا ہے، ہر طرف محاذ کھول لیے ہیں اور پاکستان تنہا ہو رہا ہے لیکن میں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گےان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو آواز بلند کی وہ پوری قوم کی آواز ہے، یہ آواز اس نوجوان کی آواز ہے جو اپنے مستقبل کو تاریک دیکھ رہا ہے، انہوں نے پاکستان کو قرضوں میں جکڑ دیا اور پوری طرح آئی ایم ایف کےشکنجے میں ہیں اور جتنا وقت ان کو ملے گا ایک ایک دن پاکستان کے زوال کا دن ہوگا۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ خارجہ پالیسی ان کی ناکام، داخلی طور پر پاکستان غیر مستحکم ہیں جبکہ پاکستان کے تمام ادارے ملکی استحکام سے متعلق اضطراب میں ہیں۔ مذاکراتی کمیٹی بنا کر بھیجی کہ بات کرنا چاہتے ہیں، میں نے کہا کہ مذاکرات تو ہمیں کرنے ہیں شرط تو ہم لگائیں گے جبکہ نااہل حکومت کے ہوتے ہوئے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ مذہبی لوگ ہیں خواتین کو نہیں آنے دیا جاتا، مذہبی بنیاد پر قوم کو تقسیم کرنا مغرب کی سازش ہے، ہم مذہبی شناخت رکھتے ہوئے بھی فرقہ واریت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم آئین کو میثاق ملی سمجھتے ہیں اور آئین سے باہر کوئی بات نہیں کر رہے جبکہ سابق آرمی چیف نے انٹرویو دیا کہ علما کرام جو بات کر رہے ہیں وہ آئین کے مطابق ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں غیر منتخب لوگ اقتدار پر قابض ہوں گے تو اضطراب ہوگا، بحیثیت شہری ہم مضطرب ہیں ہمارا اضطراب کون دور کرے گا، ان حکمرانوں کو جانا ہوگا اور قوم کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا اس سے کم پر بات نہیں بنے گی جبکہ ناجائز حکمران کے ہوتے ہوئے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ خطرے کی بات کیوں کی جاتی ہے، ہم تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ہم نے 15 'ملین مارچ‘ کیے ہیں جن میں اپوزیشن پارٹیاں شریک ہوئیں لہٰذا تصادم ہوگا تو قوم کے ساتھ ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے ، کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں،اصلاحات کے بغیر الیکشن منظور نہیں۔ ۔انہوں نے کہا کہ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں کارکن ہوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے اپوزیشن کا سٹئرنگ نہیں چھینا ،اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتحال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی ضمانت کی خبر سنی ہے ابھی رہا نہیں ہوئی،مریم نواز مارچ میں شرکت کریں گی یا نہیں ابھی نہیں کہہ سکتا ۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں ۔انہوںنے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی تو آئینی آپشن ہے ،استعفی نہیں آتا تو حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ڈی چوک سے پرانا تعفن ختم نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ کورکمانڈر ز کانفرنس نے تناو نہ ہونے کی بات کرکے تصدیق کردی کہ تناو موجود ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاہے کہ ہم پاکستان کو گرداب سے نکالنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، آج ہر شہر ی کا اتفاق ہے کہ حکومت شہریوں کے لئے مشکلات لے کر آئی ہے ، جتنا مجبور اور لاچار آج شہری ہے تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھا ، ابھی تو مولانا نے ایک ٹریلر چلایا تو حکومت کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے کہا کہ حکومت نے سارا زور مسلم لیگ (ن) کے خلاف کارروائیوں میں لگایا ہوا ہے ،مزدور سمیت ہر طبقہ اس حکومت سے تنگ ہے ، گلے گھونٹ کر پاکستان نہیں چلا سکتے ، اب تمہارے جانے کا وقت آگیا ہے ، تم لوگوں سے زیادتی کر رہے ہو، تمہیں لوگوں کی آہ لگے گی ۔اس سے قبل مولانا فضل الرحمان کے زیر صدارت ہونے والی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں دھرنا مزید دو دن تک جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بھی دھرنا مزید دو دن تک جاری رکھنے کی حمایت کر دی ہے۔ دونوں جماعتیں پشاور موڑ میں دھرنا دینے کی مخالف نہیں بلکہ ڈی چوک جانے کی مخالف ہیں۔ذرائع کے مطابق اے پی سی میں بھی دونوں بڑی جماعتوں نے ڈی چوک جانے کی مخالفت کی۔ اے پی سی میں اتفاق کیا گیا کہ مذاکراتی کمیٹیاں جب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچتیں، دھرنا جاری رہے گا۔آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے آزادی مارچ کو جاری رکھنے اوراحتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)اورپاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر ڈی چوک میں دھرنے کی مخالفت اور اجتماعی استعفوں کی تجویز رد کر دی۔ جے یو آئی(ف) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ احتجاج جاری ہے اور جاری رہے گا، آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتیں یک زبان تھیں، اے پی سی نہایت کامیاب تھی کیونکہ تمام جماعتیں یک زبان ہیں تمام جماعتوں کا کردار مثبت تھا۔پیر کو جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت آزادی مارچ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر ہو ئی جس میں 9 اپوزیشن جماعتیں شریک ہوئی۔آل پارٹیز کانفرنس میں شریک رہنماں میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر احمد شاہی، رہبر کمیٹی کے رکن شفیق پسروری، عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین ،پیپلز پارٹی کے راجہپرویز اشرف، نیئر بخاری ، فرحت اللہ بابر ، مسلم لیگ(ن)کے ایاز صادق اور ڈاکٹر عباداللہ شریک ہوئے۔اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے دوران آزادی مارچ پر مشاورت،مطالبات کی منظوری اور اپوزیشن جماعتوں کے موقف پر فیصلہ کن لائحہ عمل پر غورکیاگیا۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے دوران کہا کہ چھوٹے مفادات کو عوامی مشکلات پر ترجیح نہ دیں، کیا حکمرانوں کے خلاف احتجاج صرف جے یو آئی ف کا فیصلہ تھا؟ آپ سب مل کر عوامی حکمرانی کے لیے ٹھوس ، جامع حکمت عملی بنائیں، خدارا عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکیں، آپ خلوص دل سے حکمت عملی بنائیں، جے یو آئی ف آپ کا ہر اول دستہ ہوگی، خواہش ہے کہ تمام جمہوری قوتیں مل کر کردار ادا کریں۔ذرائع کے مطابق اے پی سی میںڈی چوک پر اتفاق نہیں ہو سکا،مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی اپنے موقف پر قائم رہیں اور ڈی چوک میں دھرنے کی مخالفت اور اجتماعی استعفوں کی تجویز رد کر دی۔اپوزیشن جماعتوں نے مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔اے پی سی میں اتفاق کیا گیا ہے کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مل کر کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اے پی سی میںدھرنا جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اے پی سی کے اختتام پر ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئےجے یو آئی(ف) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ احتجاج جاری ہے اور جاری رہے گا، آل پارٹیز کانفرنس میں تمام جماعتیں یک زبان تھیں، تمام جماعتوں کا کردار مثبت تھا، کوشش کی جارہی ہے کہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کرلیے جائیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے 15 اراکین قومی اسمبلی سے استعفے طلب کرلیے جو لے کر رکھ لیے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کا استعمال کیا جائےگا۔اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اہم مشاورتی اجلاس 'ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کی سیاسی حمایت جاری رکھیں گے، تاہم کسی بھی ماورائے آئین، پر تشدد احتجاج اور غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ اجلاس میں شہبا زشر یف کیساتھ ساتھ پرویزرشید، خرم دستگیر، مریم اورنگزیب، امیر مقام، عطااللہ تارڑ، ملک پرویز، اویس لغاری، جاوید عباسی، برجس طاہر، محمد زبیر اور خواجہ آصف سمیت دیگر شریک ہوئے۔مسلم لیگ(ن) کے اجلاس کے بعد احسن اقبال نے کہا کہ پارٹی کے مشاورتی اجلاس میں سیاسی صورتحال اور مارچ سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ میں بھرپورشرکت کی، نوازشریف کے اصولوں کی روشنی میں (ن) لیگ عمران خان سے استعفی لینے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔احسن اقبال نے کہا کہ آج وفاق اور معیشت دباو جبکہ سفارت کاری تنہائی کا شکار ہے، اناڑی حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ، اقتصادی اور معاشی بحران قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے، ملک میں چوردروازوں سے قانون سازی کی جارہی ہے، ایوان صدر آرڈیننس فیکٹری بن چکا ہے۔سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان ہاﺅس تبدیلی اور مڈٹرم الیکشن پر زور دے گی اور دھرنا کی بجائے اس تحریک کو ملک گیر بنانے پر سیاست کرے گی ن لیگ کے اجلاس کی اندرونی کہانی بھیسامنے آ گئی ۔ دوران اجلاس(ن) لیگ کے مشاورتی اجلاس میں مڈ ٹرم الیکشن، ان ہاو¿س تبدیلی، وزیر اعظم کے استعفے سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ اجلاس میں راہنماﺅں نے قرار دیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی ہدایات اور تجاویز کو بھی نظر انداز کیا۔ میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ تحریک کی صورت میں چلانے اور حکومت مخالف تحریک طویل عرصے تک چلانے کی ہدایات کی تھی۔ 

مارچ /مذٓکرات

مزید : صفحہ اول