حکومت کیخلاف احتجاج میں مذہب کارڈ کے سوا تمام حربے استعمال کرینگے:بلاول بھٹو

حکومت کیخلاف احتجاج میں مذہب کارڈ کے سوا تمام حربے استعمال کرینگے:بلاول بھٹو

  



بہاول پور(این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ احتجاج کیلئے ہم تمام آپشنز استعمال کریں گے مگر مذہب کارڈ کا استعمال کسی صورت نہیں ہونے دیں گے،ہم مولانا فضل الرحمان کے تمام مطالبات سے اتفاق کرتے ہیں، مولانا سے پلان بی اور سی پر بات ہوئی ہے۔ایک انٹرویومیں بلاول بھٹو نے کہا کہ مولانا اگرملک کو بند کرنا چاہتے ہیں تو یہ پیپلز پارٹی کا فیصلہ نہیں،دھرنا ایک سخت مگر جمہوری آپشن ہے جس سے متعلق فیصلہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ نی چاہیے، وزیراعظم یو ٹرن لے کر استعفیٰ دیں گے،وزیراعظم جلد جانے والے ہیں، ان کے ساتھ صرف کچھ لوگ بچ جائیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وارننگ دے رہا ہوں سسٹم کو خطرہ وزیراعظم عمران خان کی وجہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جلدی اکٹھے ہونے کی وجہ وزیراعظم ہے جو ان کیلئے فائدہ مند نہیں ہے، کوئی ہمیں مت بتائے کہ سیاسی فیصلے کیسے کرنے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ کرتار پور راہدرای کا افتتاح مذہبی نہیں سیاسی مسئلہ ہے۔ ایک طرف کشمیر کھلی جیل ہے دوسری طرف کرتارپور راہداری کھول رہے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔علاوہ ازیں بہاولپور کے علاقہ اوچ شریف میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئیبلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہر میدان میں کٹھ پتلی وزیراعظم کا مقابلہ کرتی رہے گی،کاروباری طبقے کے پیچھے نیب کو لگادیاگیاہے، کسانوں اور مزدوروں کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں، اساتذہ اور ڈاکٹرز سڑکوں پر ہیں، عوام کے معاشی،سیاسی اور ثقافتی حقوق بحال کرا کر دم لیں گے۔بلاول بھٹو نے کہاہے کہ موجودہ حکومت میڈیا کی آواز دباکر سلیکٹڈ میڈیا بنانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ عوام کے حقیقی مسائل پر بات نہ ہو،،یہ کس قسم کا آزاد میڈیا ہے جس میں بھارتی پائیلٹ اور دہشتگردوں کا انٹرویو تو چل سکتاہے مگر سابق صدر آصف زرداری، مولانافضل الرحمن اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی گفتگو نہیں چل سکتی۔بلاول بھٹو  نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر سیاسی مخالف کو گرفتار کیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سٹاک ایکسچینج، شوگر ملزمافیا کیلئے اربوں روپے کے پیکیج کا اعلان کیا۔ مزدوروں، کسانوں اور ورکنگ کلاس کیلئے کون سا پیکیج متعارف کرایا گیاہے؟۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور ووٹ پر ڈاکہ مارا گیا، رات کے اندھیرے میں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا، دھاندلی زدہ حکومت عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، عوام کے مسائل سامنے نہیں آئیں گے تو حل کیسے نکالیں گے۔

بلاول بھٹوزرداری

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی رونا ابو کا روتے ہیں اور لاتیں کہیں اور چلاتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس دے دو ابو لے لو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے جلسے کے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔مراد سعید نے کہا کہ پرچی والے حادثاتی چیئرمین کو یہ بات سمجھنی پڑے گی کہ جب عوام  ووٹ دیتے ہیں تو سیٹیں ملتی ہیں اور جب زیادہ عوام زیادہ حلقوں میں ووٹ دے تو زیادہ سیٹیں ملتی ہیں،جب عوام میں شعور آتا ہے تو لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کی سیاست کا خاتمہ ہوتا ہے اور جب زیادہ شعور آتا ہے تو سندھ کی سیاست بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔مراد سعید نے کہا کہ پرچی لہرا کے سیاست میں آنے والے کو عوام اور انکے مسائل کا کیا علم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا جواب بھی دو کہ سب سے زیادہ غربت سندھ میں کیوں ہے، تین دہائیوں سے حکومت کرنے کے باوجود تھر میں کیوں ہر سال بھوک اور پیاس سے سینکڑوں بچے فوت ہوتے ہیں،سب سے زیادہ بچے سندھ میں کیوں تعلیم سے محروم؟ سندھ کی ترقی کا پیسہ آپ کے ابو نے جعلی اکاؤنٹ میں ڈالا، صحیح احتساب ہو تو آکسفورڈ کی فیس بھی واپس کرنا پڑے گی۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آصف زرداری امریکہ سے این آر او مانگنے جاتے اور جواب میں ڈو مور کا مطالبہ لے آتے جبکہ عمران خان نے پاکستان کا مقدمہ امریکہ کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑا۔

مراد سعید

مزید : صفحہ اول