نئے ضم شدہ اضلاع میں انفرا سٹرکچر کے ترقیاتی منصوبوں کا رواں ماہ افتتاح کا امکان

نئے ضم شدہ اضلاع میں انفرا سٹرکچر کے ترقیاتی منصوبوں کا رواں ماہ افتتاح کا ...

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بجلی کے نظام کیلئے انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں پر کام کا رواں ماہ باضابطہ افتتاح کئے جانے کا امکان ہے ، جن کی تکمیل سے قبائلی اضلاع میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے سمیت صنعتوں کو درکار بجلی کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ یہ منصوبے ضم شدہ اضلاع کیلئے دس سالہ ترقیاتی حکمت عملی اور سالانہ ترقیاتی پلان کے تحت شروع کئے جارہے ہیں۔ منصوبے کے تحت تمام قبائلی اضلاع اور ایف آرز میں 11 کلووولٹ کے نئے 76  فیڈرزکی تعمیر اور11 کلووولٹ کے 59 فیڈرز کی بحالی سمیت دیہات کو بجلی کی فراہمی کیلئے نئی سکیمیں شروع کی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت بجلی کے منصوبوں کیلئے لاگت کا تخمینہ 2039 ملین روپے ہے جن میں سے 1431 ملین روپے ضلع باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، اورکزئی، کرم، ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنوں، ایف آر لکی، ایف آر ڈی آئی خان اور ایف آر ٹانک میں ترقیاتی کاموں کیلئے جاری کردیئے گئے ہیں۔ اسی طرح سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت دیہات کو بجلی کی فراہمی کی نئی سکیموں کیلئے 419 ملین روپے جاری کئے گئے ہیں جس کا مقصد تمام قبائلی اضلاع اور ایف آرز میں 440 دیہات کو بجلی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں ٹیسکو کے منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر ترقیاتی کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ گرڈ سٹیشنز، ٹرانسمیشن لائنز اور11کے وی فیڈرز کی اپ گریڈیشن کیلئے بھی ٹیسکو کو وسائل پہلے سے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ نئے اضلاع میں مقامی آبادی کو فوری ریلیف دینے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ترقیاتی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں، جن میں ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقوں مکین اور تیرازہ میں بجلی کے نظام کی بحالی، ضلع باجوڑ میں 11 کے وی فیڈرز کی دو فیڈرز میں تقسیم اور 11 کے وی کے آٹھ فیڈرز کو 132 کے وی گرڈ سٹیشن کھر کے ساتھ منسلک کرنے جیسے کام شامل ہیں۔ اسی طرح 66 کلو وولٹ کھر باجوڑ گرڈ سٹیشن  اور66 کلووولٹ کے جندولہ گرڈ سٹیشن کو 132 کلووولٹ تک اپ گریڈ کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ 10 سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 3092.54 ملین روپے کی مجموعی لاگت میں سے 2164.78 ملین روپے جاری کر دیئے گئے ہیں جو ضلع اورکزئی اور ضلع کرم میں صدہ، علی زئی، کلایہ اور غلجوکے علاقوں میں 66 کلووولٹ کے گرڈ سٹیشنز کو 132 کلووولٹ تک اپ گریڈ کرنے کیلئے استعمال کئے جائیں گے، ہر گرڈ سٹیشن 52 میگاوولٹ ایمپیئر بجلی ترسیل کرنے کی استعداد کا حامل ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 845 ملین روپے کے تخمینہ لاگت سے شمالی مہمند میں 132 کلو وولٹ گرڈ سٹیشن بمعہ 132کے وی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر، میران شاہ گرڈ سٹیشن میں 10/13 میگاووولٹ ایمپیئر کے  خراب ٹرانسفارمرز کی40 میگا وولٹ ایمپیئر ٹرانسفارمرز سے  تبدیلی، 132 کے وی سٹیشن رزمک میں 10/13 میگاوولٹ ایمپیئرکے ٹرانسفارمرز کی 40 میگاوولٹ ایمپیئر ٹرانسفارمرز سے تبدیلی، 132 کے وی باڑہ گرڈسٹیشن میں 40 میگاوولٹ ایمپیئر کے ایک اضافی ٹرانسفارمر بشمول ٹرانسفارمرBay کی فراہمی کے منصوبے بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں۔محمود خان نے کہاکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو بنیادی خدمات اور فوری ریلیف کی فراہمی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل یقینی بنانے کیلئے بجلی کے نظام کی ترقی اور استعداد میں اضافہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اُنہوں نے بجلی کے شعبے میں جاری ترقیاتی سکیموں کی معیاری اور بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا تاکہ قبائلی عوام کو جتنا جلدی ممکن ہو سکے ریلیف دیا جائے۔ 

مزید : صفحہ اول