چلغوزے کا کاروبار متاثر ہونے سے پاکستان کو سالانہ 55 ارب کا نقصان

چلغوزے کا کاروبار متاثر ہونے سے پاکستان کو سالانہ 55 ارب کا نقصان

  



ڈومیل (تحصیل رپورٹر) چلغوزے کا کاروبار متاثر ہونے سے پاکستان کو سالانہ پچپن ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے غلام خان بارڈر پر کسٹم عملہ کی تعیناتی اور بارڈر بند ہونے کی وجہ سے افغانستان سے انے والے چلغوزے واپس کابل چلے جاتے ہیں پاکستان سے ایکسپورٹ ہونے والا چلغوزہ اب افغانستان سے ہی چائینہ ایکسپورٹ کیا جارہا ہیں،جسکی وجہ سے پاکستان کوسالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہیں یاد رہے کہ غلام خان بارڈر کے بندش سے پہلے افغانستان سے اربوں روپے کے چلغوزے پاکستان درآمد کیے جاتے تھے جوپاکستان سے چائینہ سمیت عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا تھا۔جس سے پاکستان کو سالانہ پچپن ارب کازرمبادلہ ملتا تھا، تاہم رواں سال حکومت کی طرف سے غلام خان بارڈر بندش کی وجہ سے چلغوزے کا کاروبار سمیت وزیرستان کا مجموعی کاروبار بھی بہت زیادہ متاثر ہوا ہیں۔رواں سال باڈربندش سے چلغوزے کاکاروبار ناہونے کیوجہ سے درجنوں کاروباریوں نے یہاں سے کاروبار افغانستان منتقل کردیا جسکی وجہ سے تقریبا دو لاکھ افراد بے روزگار ہوئے،اور پاکستان میں بیروزگاری کی شرح میں نا صرف اضافہ ہوا بلکہ پاکستان کو سالانہ 55 ارب روپے ایکسپورٹ کی مدمیں نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا رہا ہیں،چلغوزے کے کاروبار سے وابسطہ تاجر حاجی لائر خان،قسمت خان،سدا وزیر،کا کہنا تھاکہ اب بھی موقع ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے کسٹم چیک پوسٹ کو آزاد منڈی یا سیدگئی چیک پوسٹ واپس منتقل کرکے غلام خان بارڈر کھل دیا جاتا ہے،توکاروبار دوبار اپنی جگہ پرآسکتا ہے،اور بے روزگار گھرانوں کو دوبارہ روزگار مل سکتا ہیں۔ایک طرف حکومت کارباریوں کو سہولیات دینے کی بات کررہے تو دوسری طرف روز نئے ٹیکسوں نے کاربار کو مشکل بنادیا۔حکومت پالیسیوں پر نظرثانی کرکے عوام کو ریلیف دے تاکہ عوام کاروبار کی طرف آئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر