دوسری سہ روزہ قومی جرمیات کانفرنس شروع ہوگئی

دوسری سہ روزہ قومی جرمیات کانفرنس شروع ہوگئی

  



پشاور(سٹی رپورٹر)جامعہ پشاور میں دوسری تین روزہ قومی جرمیات کانفرنس پیر سے کانوکیشن ہال کے قریب سر صاحبزادہ کانفرنس ہال میں شروع ہو گئی ہے کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے مندوبین نے پیر کے دن سولہ مقالے پیش کئے کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے مہمان خاص اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر قبلہ ایاز تھے جنھوں نے جرائم کی روک تھام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور درسگاہوں کے درمیان موثر رابطوں اور بروقت تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ تحقیق کو معاشرے کی پنپنے والی سماجی برائیوں کو پہلے ہی سے تجزیہ کر کے اداروں کو بروقت اور پیش بندی کیلئے مستعد کاری فراہم کرے انھوں نے اس موقع پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے زینب کیس میں بروقت تفتیش میں معاونت کاری اور اداروں میں رابطوں کی موثریت کو ایک کیس سٹڈی سے تعبیر کیا اپنے کلیدی خطاب میں جامعہ پشاور کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر جوہر علی نے میں کہا کہ ان کو آج بڑی خوشی ہے کہ جامعہ پشاور اور ملک کے پہلے مجوزہ انسٹیوٹ آف کریمنالوجی کے بانی خیال کنندہ پروفیسر قبلہ ایاز اور ڈین پروفیسر سارہ صفدر کانفرنس میں موجود ہیں جن کے وژن کی بدولت آج ہم اس کانفرنس اور بامقصد مشن پر گامزن ہیں انھوں نے اس موقع پر جرائم کے حوالے سے انفرادی اور سماجی غیر نارمل عوامل کو سمجھنے اور پرکھنے پر زور دیا اور کہا کہ قوانین سمجھنے سے زیادہ ہمیں جرائم کی بیخ کنی اور تدارک پر کام کرنا ہوگا۔اس موقع پر کانفرنس کے چیف آرگنائزر پروفیسر بشارت حسین نے کہا کہ ان کا انسٹیوٹ 2020 کے آخر تک نئی مجوزہ عمارت کے تعمیر کے بعد قانون نافز کرنے والے اداروں کے لئے سرٹیفیکٹ اور ڈپلومہ کورسز کا اجراء کر کے اپنا تعاون جاری رکھیں گے اس موقع پر پروفیسر سارہ صفدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کریمنالوجی کے شعبے سے انھیں یہ امید واثق ہے کہ وہ نالج اور پریکٹس کے فرق کو ختم کرنے میں اپنے مثبت کردار کو آگے بڑھائے گی جس سے معاشرے میں نئے رجحانات پروان چڑھ سکیں گے اس موقع پر ڈائریکٹر انوزٹیگیشن نیب نوید حیدر زاہد نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے اور106ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ اور 12.5شرح مہنگائی نے ملک کے حالات دگردوں کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کرپشن کے ناسور سے حتمی لڑائی لڑنی ہے اس موقع پر انھوں نے کانفرنس مندوبین پر زور دیا کہ وہ وائٹ کالر کرائم اور کرپشن پر بھی اہنے پیپرز پیش کریں جو موجودہ کانفرنس میں نہیں ہیں اس موقع پر اینٹی نارکوٹکس فورس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر برائے ڈرگ کنٹرول احمد طارق نے کہا کہا کہ ان کا ادارہ ستر لاکھ ڈرگ کا شکار افراد کیلئے مربوط پالیسی پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ری ہیبلیٹیشن سنٹر ملک کے کونے کونے میں بنائے جارہے ہیں تاکہ اس کا سدباب ہوسکے شعبہ جرمیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر بشارت حسین کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے جو انسٹیوٹ آف کریمنالوجی و فرانزک سٹیڈیز کے مجوزہ نصابی اور تعمیراتی منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں نصابی مرحلے کی تکمیل کے بعد مجوزہ تعمیراتی منصوبے دو سال کے اندر مکمل ہوجائے گا جو اپنے طرز کا ملک بھر میں منفرد تعلیمی ادارہ ہوگا کانفرنس میں سندھ پنجاب وفاق اور صوبے بھر سے مندوبین ایف آئی اے، نیب، سائنر کرائم فرانزک انسانی سمگلنگ پولیسنگ دہشت گردی انتہاپسندی فوجداری جرائم پروبیشن اور پے رول جیسے موضوعات پر کل بھی اپنے مقالے پیش کریں گیجبکہ اختتامی سیشن بدھ کو ہوگا

مزید : پشاورصفحہ آخر