”پہلے مرحلے میں سندھ اور پنجاب کی سرحد کو مولانا کے قافلے کو روکنے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن جب ۔۔“سہیل وڑائچ نے حیران کن انکشاف کر دیا

”پہلے مرحلے میں سندھ اور پنجاب کی سرحد کو مولانا کے قافلے کو روکنے کی منصوبہ ...
”پہلے مرحلے میں سندھ اور پنجاب کی سرحد کو مولانا کے قافلے کو روکنے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن جب ۔۔“سہیل وڑائچ نے حیران کن انکشاف کر دیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ان کی جانب سے اپنے مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھ دیئے گئے ہیں تاہم سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے آزادی مارچ کو ابتداءمیں روکنے کی حکومتی منصوبہ بندی سے متعلق بڑا انکشاف کیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کالم جنگ نیوز میں شائع ہواہے جس میں ان کاکہناتھا کہ پہلے مرحلے میں سندھ اور پنجاب کی سرحد پر مولانا کے قافلے کو روکنے کی منصوبہ بندی کی گئی مگر جب تعداد 30ہزار تک پہنچ گئی تو یہ طے ہو گیا کہ انہیں روکنا خطرناک ہو گا اور حالات کی جو خرابی چند دن بعد ہوسکتی ہے وہ اسی دن سے شروع ہوسکتی تھی۔

سینئر صحافی کے مطابق اب بھی صورتحال یہ ہے کہ پنجاب پولیس یا اسلام آباد پولیس کو اگر اس مجمع سے محاذ آرائی کی مجبوری پڑی گئی تو پولیس اسے ہینڈل نہیں کر سکے گی اور اگر رینجرز یا ریگولر دستوں کے ساتھ ہجوم کا آمنا سامنا ہوا تو خون خرابہ ہوگا جس کے انتقامی اثرات خوف ناک ہوں گے۔ لال مسجد میں اسی طرح کا آیشن ہوا تو خود کش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو تھمنے میں نہیں آتا تھا۔ سیاسی طور پر آزادی مارچ کے ذریعے عمران خان کا جانا عمران خان کے لئے فائدہ مند اور اپوزیشن کے لئے نقصان دہ ہوگا۔

مولانا اور اپوزیشن کو اپنی شرائط میں جمہوری آزادیوں، الیکشن میں غیرجانبداری، احتساب میں زیادتیوں اور اسمبلیوں کی بہتر کارکردگی کو شامل کرنا چاہئے، ان مطالبات یا شرائط پر اتفاق رائے ہوا تو یہ عمران خان کی شکست اور اپوزیشن کی فتح ہوگی۔

مزید : قومی