بیٹی سے زیادتی کے جرم میں والد بری

بیٹی سے زیادتی کے جرم میں والد بری
بیٹی سے زیادتی کے جرم میں والد بری

  



کراچی(ویب ڈیسک) عدالت نے ڈی این اے رپورٹ میں بیٹی سے زیادتی کا جرم ثابت نہ ہونے پر والد کو بری کردیا۔سندھ ہائیکورٹ میں بیٹی سے زیادتی کے جرم میں گرفتار والد کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔

ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم محمد سلیم کو باعزت بری کرنے اور جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ملزم کے خلاف 24 نومبر 2017 کو تھانہ سائٹ سپر ہائی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم محمد سلیم پر اپنی بیٹی سے زیادتی کا الزام تھا اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر نے ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

اس سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔بیٹی سحر فاطمہ نے الزام عائد کیا تھا کہ باپ 4 سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا جس کی وجہ سے دو بار حاملہ ہوئی۔الزام کی حقیقت جاننے کے لیے لڑکی اور اس کے باپ کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا جو منفی آیا اور لڑکی نے ابارشن رپورٹ بھی کیس کے ساتھ منسلک نہیں کی جس سے باپ کی بے گناہی ثابت ہوئی۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی