نواز شریف کو سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے باوجود شریف میڈیکل سٹی منتقل نہ کیا جاسکا

نواز شریف کو سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے باوجود شریف میڈیکل سٹی منتقل نہ ...
نواز شریف کو سروسز اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے باوجود شریف میڈیکل سٹی منتقل نہ کیا جاسکا

  



لاہور(ڈیلی پاکستان  آن لائن)سروسز سپتال میں 15 روز سے زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف کو منگل کے روز ڈسچارج کردیا گیا تاہم انہیں شریف میڈیکل سٹی ہسپتال منتقل نہ کیا جاسکا،مریم نواز کی روبکار جاری نہ ہونے پر نواز شریف نے ہسپتال میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا،کل(بدھ کے روز)سابق وزیر اعظم نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کے مطابق نواز شریف گزشتہ 15 روز سے سروسز ہسپتال میں زیرعلاج تھے جہاں ان کے پلیٹیلیٹس میں اتار چڑھاؤکا سلسلہ جاری تھا تاہم اب طبیعت ناساز ہونے کے باوجود انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے،سابق وزیراعظم کو ان کی مرضی سے شریف میڈیکل سٹی ہسپتال منتقل کیا جانا تھا اور انہیں لینے کیلئے شریف سٹی ہسپتال کا عملہ اور ایمبولینس بھی سروسز ہسپتال پہنچ چکی تھی،مسلم لیگ(ن) کے صدر  شہباز شریف اور مریم نواز بھی ہسپتال میں موجود تھیں اور نواز شریف کی منتقلی کیلئے مریم نواز کی روبکار کا انتظار کیا جارہا تھا۔لاہور کی احتساب عدالت کی جانب سے مریم نواز کی روبکار جاری نہ ہونے کے باعث نواز شریف منگل کو سروسز ہسپتال میں ہی رہیں گے جس کے بعد شہباز شریف سروسز ہسپتال سے واپس روانہ ہوگئے ہیں۔شریف میڈیکل سٹی ہسپتال کی ایمبولینس بھی سروسز ہسپتال سے واپس چلی گئی ہے۔ بدھ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو شریف میڈیکل سٹی ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ ذرائع  شریف فیملی کے مطابق  نواز شریف کو کل( بدھ کو) 12 بجے دن  سروسز ہسپتال سے شفٹ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے 2 کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے اور 7 کروڑ روپے نقد عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد  منگل کوپاسپورٹ، مچلکے اور نقد رقم جمع کرادی گئی ہے۔قبل ازیں سابق وزیراعظم کے علاج کیلئے قائم میڈیکل بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمود ایاز کے مطابق نواز شریف کے پلیٹیلیٹس کانٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے پلیٹیلیٹس میں کمی ہوئی ہے جس کے بعد پلیٹیلیٹس کی تعداد 45 سے 42 ہزار تک پہنچی جب کہ آج  یہ تعداد مزید کم ہوکر 30 ہزار ہوگئی ہے۔ڈاکٹر محمود ایاز نے بتایا کہ سٹیرائیڈز کی وجہ سے نواز شریف کی شوگر میں اتار چڑھاؤہے اور فی الحال ان کو شوگر کی زیادتی کا سامنا ہے جب کہ انہیں دل اور گردوں سمیت کئی امراض بھی ہیں۔

میڈیکل بورڈ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے خون کے نمونے لینے سے بلیڈنگ بہت مشکل سے رکتی ہے، ان کے بازو پر نیل کے نشان پڑ رہے ہیں جب کہ ان کی شوگر بھی کنٹرول میں نہیں ہے لہذا نوازشریف کو ان کی طبیعت سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ پلیٹیلیٹس کے اتارچڑھاؤ کی تشخیص کیلئے نوازشریف کے ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ان کے خون کا نمونے لے کر بیرون ملک بھجوائے جائیں گے، ٹیسٹ کی وجہ سے نوازشریف کے پلیٹ لیٹس گرنے کی وجہ پتا چلے گی۔دوسری جانب سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کی نازک صحت بھرپور علاج کے انتظامات کی متقاضی ہے، ان کے پلیٹلیٹس ایک مرتبہ پھر کم ہورہے ہیں اور ان کے کم ہونیکی وجوہات اور تشخیص اب تک نہیں ہوسکی۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور