صنعتوں کے لئے سستی بجلی

صنعتوں کے لئے سستی بجلی

  

وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر 2020ء سے  30جون 2021ء تک چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو گزشتہ سال کے ان مہینوں کے بلوں سے زائد استعمال کی جانے والی بجلی پر 50فیصد رعایت دی جائے گی جبکہ چھوٹی بڑی تمام صنعتوں کو اگلے تین سال کے لئے گزشتہ تین سال کے بجلی بلوں سے زیادہ استعمال ہونے والی بجلی پر 25فیصد رعایت ملے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سمال اور میڈیم انڈسٹری کو آدھی قیمت پر بجلی دینے سے ملک میں صنعتوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت ترقی کرے گی۔پاکستان میں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں 25فیصد مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کے باعث ہم برآمدات کے شعبے میں ہمسایہ ملکوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے ہماری صنعتوں کو مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے، یکم نومبر سے صنعتی شعبے کے لئے بجلی کا کوئی ”پیک آور“ نہیں ہو گا اب تمام صنعتیں 24گھنٹے چلائی جا سکیں گی توقع ہے کہ اس پیکیج سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

صنعتوں کے لئے جس سستی بجلی کا اعلان کیا گیا ہے وہ صرف اضافی استعمال کے ساتھ مشروط ہے جو صنعتیں بجلی کا استعمال نہیں بڑھائیں گی اور اتنی ہی بجلی خرچ کریں گی جتنی انہوں نے گزشتہ برس نومبر میں خرچ کی انہیں پرانے نرخوں ہی پر  بجلی ملے گی اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے بالواسطہ طور پر صنعت کاروں کو یہ ترغیب دی ہے کہ اگر وہ بجلی کے استعمال میں اضافہ کریں تو جو اضافہ ہوگا اس کی قیمت 50فیصد کم وصول کی جائے گی، باالفاظ دیگر اضافہ نہیں تو بجلی بھی سستی نہیں۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ اگر حکومت نے بجلی سستی کرنی تھی تو سیدھے سبھاؤ سستی کرتی تاکہ کم یا زیادہ بجلی استعمال کرنے والے اس سہولت سے یکساں طور پر مستفید ہوتے۔ اب سستی بجلی کا جو فارمولا نافذ کیا گیا ہے اس میں کم بجلی استعمال کرنے والوں اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کے درمیان ایک گونہ امتیاز موجود ہے، اس بات سے قطع نظر کہ اس امتیازی سلوک کا جواز کیا ہے یہ بات سوچنے والی ہے کہ کیا اس فارمولے سے مطلوبہ مقاصد (یعنی زیادہ پیداوار) حاصل ہوں گے۔

صنعت کاروں کو بظاہر یہ ترغیب اسی لئے دی گئی ہے کہ وہ زیادہ وقت کے لئے اپنی صنعتیں چلائیں اور  اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر کھلے دل سے زیادہ بجلی استعمال کریں اور مقابلتاً آدھی قیمت ادا کریں یا حسبِ سابق ہی بجلی استعمال کرتے رہیں اور پرانے نرخ پر ہی ادائیگی کریں، لگتا ہے کہ یہ فارمولا کسی بہت ہی بڑے ٹیکنوکریٹ نے ترتیب دیا ہے تاکہ سستی بجلی کا تاثر بھی دیا جا سکے اور اگر صنعت کار اس سہولت سے فائدہ نہ اٹھائیں تو پھر ان کی مرضی۔ بادی النظر میں یہ فارمولا ایسا ہے جو تاجر حضرات اپنی دکانوں پر اشیاء کی کلیرنس سیل لگاتے ہوئے استعمال کرتے ہیں یعنی ”بائی ٹو، گیٹ ون فری“ وغیرہ اس فارمولے کے تحت دراصل گاہک کو ترغیب یہ دی جا رہی ہوتی ہے کہ اگر اسے ایک چیز کی ضرورت ہے تو پھر بھی وہ دو خریدلے تاکہ اسے تیسری مفت مل سکے، تاجرانہ ذہنیت بروئے کار لائی جائے تو یہ فارمولا بڑا پُرکشش نظر آتا ہے لیکن حکومتوں اور تاجروں کی سوچ کے درمیان کچھ تو فرق ہونا چاہیے، حکومت کے اس فیصلے کا مقصودِ اصلی اگر پیداوار بڑھانا، برآمدات بڑھانا یا صنعتوں کو چلا کر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے تو بجلی ہر ایک کے لئے سستی کرنی چاہیے تھی کوئی کارخانہ زیادہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو زیادہ کرلے اور کوئی فیکٹری  پہلے ہی ”فل کیپسٹی“ کے مطابق کام کر رہی ہے تو اس کے مالکان نئی پیش کش سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے کارخانے کو توسیع دیں تاکہ زیادہ بجلی استعمال ہو اور حکومت نے جو سہولت دی ہے اس سے فائدے کی سبیل نکلے۔

پاکستان کی برآمدات اگر کم ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے یہ رجحان ہے تو اس کی ایک وجہ تو بلاشبہ مہنگی انرجی ہے جس میں بجلی کے علاوہ گیس بھی شامل ہے اس لئے اگر برآمدی اشیاء کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں قابلِ ترجیح بنانا ہے تو سستی بجلی کا بہتر فارمولا لانا ہوگا اور انرجی کے دوسرے ذرائع بھی سستے کرنا ہوں گے۔پاکستان کی آدھی سے زیادہ برآمدات ٹیکسٹائل کی مصنوعات پر مشتمل ہوتی ہیں اگر اس سیکٹر کو توسیع دینی ہے تو ضروری ہے کہ جدید مشینری کی درآمد کے لئے بھی حکومت سہولتیں دے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے یہ مشینری پہلے ہی بہت مہنگی دستیاب ہوتی ہے پھر اس پر ٹیکسوں وغیرہ کا مزید بوجھ بھی لاد دیا جاتا ہے ایسے میں صنعت کار جدید مشینری درآمد کرنے کی جانب راغب نہیں ہوتے یا پھر اپنے یونٹ بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں لگا لیتے ہیں جہاں سستی بجلی کے ساتھ ساتھ دوسری ترغیبات بھی  حاصل ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی پاکستان سے تقریباً دوگنا ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہی نہیں ہے کہ برآمدی مارکیٹ میں ہماری اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے لائقِ التفات نہیں رہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اندرونِ ملک بھی اشیاء اسی لئے مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہیں کہ ان کی تیاری میں مہنگی بجلی اور مہنگی گیس استعمال ہوتی ہے، بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں تک بے روزگاری کا تعلق ہے وہ تو اسی صورت میں کم ہو سکے گی جب جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ ہو، جہاں یہ شرح منفی میں چلی جائے وہاں بیروزگاری کم نہیں ہوتی بڑھتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -