ٹرمپ بھی پاکستانی سیاست سے متاثر، چودھری برادران سر گرم عمل؟

ٹرمپ بھی پاکستانی سیاست سے متاثر، چودھری برادران سر گرم عمل؟
ٹرمپ بھی پاکستانی سیاست سے متاثر، چودھری برادران سر گرم عمل؟

  

”ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں“ اس کی صحیح تشریح پاکستان اور پاکستانی ہیں کہ یہاں جو سلسلہ شروع ہے وہ رکنے کا نام نہیں لیتا کہنے والے لاکھ کہیں کہ مغربی سرحدوں اور مشرقی سرحد سے خطرات و خدشات موجود ہیں اور عالمی سیاست و سازش کا بھی ہم ہی شکار ہوتے ہیں لیکن اب تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم تو ہیں سو ہیں۔ ہمارے اثرات ہزاروں میل دور تک پہنچ گئے امریکہ کے انتخابی نتائج کا اعلان چل رہا ہے۔ تادم تحریر جو بائیڈن آگے اور ٹرمپ پیچھے ہے۔ جوبائیڈن نے مختصر خطاب میں کہا ہم جیت رہے ہیں یہ اس وقت کا بیان ہے جب ٹی وی پر نتائج کے مطابق جوبائیڈن 237 کے ساتھ سبقت لئے ہوئے ہیں اور ٹرمپ صاحب 210 کے ساتھ پیچھے ہیں، مزید کہا جا رہا ے کہ اب جن ریاستوں سے نتائج آنا ہیں، ان میں ڈیمو کریٹس کی اکثریت ہے۔ جیت کے لئے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہے اور اس وقت تک جوبائیڈن قریب ہیں۔ تاہم ٹرمپ بہادر نے ٹویٹ ہی کا سہارا لیا اور کہہ دیا بلکہ الزام لگایا کہ الیکشن چرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، رات کو بڑی خبر دوں گا تو قارئین! دیکھ لیں آخر کار وہاں بھی ہمارا رنگ پہنچ ہی گیا کہ ٹرمپ ممکنہ شکست کے خطرے سے دھاندلی کا الزام لگا رہے ہیں اور وہ بھی پاکستانی سٹائل میں کہ الیکشن چوری کیا جا رہا ہے، یہ نہیں ہونے دیں گے۔

یہ تو واحد سپر پاور (نعوذ باللہ) کی بات ہے، ان سطور کی اشاعت تک جو ہونا ہے ہو کر رہے گا۔ انتخابی نتائج سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہو گی کہ امریکی پالیسی ساز ادارے اور تھنک ٹینک اپنے اپنے طور پر تجاویز دیتے اور سفارشات پیش کرتے ہیں چنانچہ خارجہ امور میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوتی۔ البتہ ٹرمپ کو شکست ہو گی تو نسل پرستی کو زبردست جھٹکا لگے گا اور جوبائیڈن کے بقول امریکہ میں رنگ دار نسل والوں اور مسلمانوں کو کچھ ریلیف مل جائے گی اور برصغیر یا جنوبی ایشیا کے حوالے سے بھارت کی طرف جو جھکاؤ ہے اس میں قدرے اعتدال کا امکان ہے۔ تاہم ٹرمپ کے ٹوئیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آسانی سے نتائج تسلیم نہیں کریں گے جو امریکی روایت ہے۔

اس پر بعد میں بھی بات ہو سکتی ہے آج تو ہم نے ایک اور اہم مسئلہ پر بات کرنے کا موڈ بنایا ہوا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں گو سیاست گری خوار ہے لیکن یہاں ایسے سیاستدان بھی موجود ہیں جو موقع سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں گزشتہ دنوں کہا تو یہ جا رہا تھا کہ شریف برادران میں اختلاف اور احترام ساتھ ساتھ چل رہے ہیں کہ چھوٹے بھائی کی پالیسی ذرا مختلف ہے لیکن احترام کا یہ عالم ہے کہ چھوٹا بڑے کے خلاف نہ جا سکتا اور نہ ہی بول سکتا ہے، ایسی ہی کچھ کیفیت ان کے پرانے ساتھیوں، دوستوں کی بھی ہے لیکن وہاں لحاظ ہی لحاظ ہے اور اختلاف کوئی نہیں۔ لیکن حکمت عملی یہ ہے کہ ایک بھائی بزرگی کے حوالے سے بات کرتے اور دوسرے جوڑ توڑ کرتے رہتے ہیں اور جب کہیں کسی سمجھوتے کا وقت آتا ہے تو پھر کہا جاتا ہے ”میں تے میرا بھرا“ یہ بھائی تو ہیں لیکن چچیرے یعنی کزن ہیں سابق وزیر اعظم  چودھری شجاعت حسین بڑے اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی چھوٹے ہیں، بڑے بھائی نصیحت کرتے اور چھوٹے بھائی جوڑ توڑ میں لگے ہوئے ہیں، ہم نے ماضی کی حکومتوں میں بہت سے سپیکر بھگتائے خود چودھری پرویز الٰہی بھی تھے جو اب بھی ہیں۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ پہلے وہ ”نیویں نیویں“ رہتے، لیکن اب ذرا سرگرم دکھائی دے رہے ہیں اور بعض حضرات کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا متوازی دربار چل رہا ہے، ان دنوں  ان کے پاس پرانے لوگ آتے اور مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔

چودھری شجاعت حسین کو تو یہ شکوہ ہے کہ وہ تو تجویز اور مشورہ دیتے ہیں بھائی لوگ اسے مخالفت سمجھ بیٹھتے ہیں ادھر چودھری پرویز الٰہی کے رویے اور مزاج میں تبدیلی آئی ہے اور وہ جو بات کہتے ہیں اس پر کھڑے بھی ہوتے ہیں، اب انہوں نے گندم کی امدادی قیمت پر موقف اپنایا اور اس پر کھڑے ہیں وہ کہتے ہیں کہ 16 سو روپے گندم کی امدادی قیمت مذاق اور کسانوں پر طنز ہے۔ یہ لالی پاپ جیب میں رکھیں۔یہ تو 2000 روپے ہونا چاہئے اور کسانوں کے لئے لڑنا پڑا تو لڑوں گا، یوں انہوں نے برملا اپنی رائے کا اظہار کیا اور زمینداری کرنے والوں کی حمایت بھی حاصل کرلی مسلم لیگ (ق) یہاں برسر اقتدار رہی اور مسلم لیگ (ن) ہی سے اختلاف کیا بعد میں جب جنرل مشرف کی وردی اتری اور صدارت گئی تو بھی یہ حلیف جماعت تھی اور چودھری پرویز الٰہی نائب وزیر اعظم تھے (اگرچہ آئین میں ایسا کوئی عہدہ نہیں) مسلم لیگ (ن) کے دور میں وہ اقتدار میں نہیں تھے لیکن تحریک انصاف کے حلیف ہیں۔

ابتدا میں کوشش کی گئی کہ چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ ہوں کہ ان کو تجربہ ہے تاہم عمران خان نے اپنا ہاتھ سردار عثمان بزدار پر رکھا اور وہ چلے آ رہے ہیں، بلکہ چودھری برادران تو ان سے تعاون کا اعلان کرتے رہتے ہیں تاہم چودھری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی کی دلچسپیاں مختلف ہیں اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ وہ اپنی جماعت کی گنجائش بنا رہے ہیں اور جس طرح لوگ ان کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انتخابی تیاری میں بھی ہیں کہ 2018ء میں ان کو کم نشستیں ملی تھیں بلکہ گجرات میں تو تحریک انصاف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کرنا پڑی تھی تجزیہ نگار متفق ہیں کہ یہ برادران کافی سمجھ دار اور زمانے کی ہوا کا رخ بھی دیکھ لیتے ہیں اس لئے ان کی تیاریوں سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ عام انتخابات وقت سے پہلے ہو سکتے ہیں بہر حال تغیر ہی تغیر ہے ثبات نہیں ایسی سرگرمیاں حالات کے بہتر ہونے میں معاون نہیں ہو سکتیں۔

مزید :

رائے -کالم -