بطل عظیم ڈوبے جاتے ہیں!

بطل عظیم ڈوبے جاتے ہیں!
بطل عظیم ڈوبے جاتے ہیں!

  

اک اور مسافر اپنی منزل کو پہنچا۔ اک انسان، جس کو خدمت خلق کا روگ لگ چکا تھا سوئے یار روانہ ہوا۔ کتنا سہل ہوتا ھے، بعض صاحبان کے لیے اپنی منزل پہ پہنچنا! اس نافرجام دور میں زقند بھر کے باغ بہشت کا مکیں ہو جانا کتنا آسان ہوتا ھے چند لوگوں کے لیے۔ دوسروں کے لیے جینے والے آج کے خونیں اور قہرمان وقت میں، چراغ لے کے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ دوسروں کے لیے سانس لینے والے جواہر ریزے اب مائیں کم ہی جنتی ہیں۔ ایسے پارس پتھر، یاد گار زمانہ اور نادرہ روزگار لوگ اب تحلیل ہوتے جا رھے ہیں، ڈوبتے جا رھے ہیں، مگر جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا! صنوبری قامت، کتابی و باریش چہرہ، تیز گندمی رنگ، چوڑی پیشانی،  مخروطی انگشتیں، شگفتہ و مخملی و ململی آواز، براق دماغ، سنجیدگی میں تر چہرہ، بدھئی مسکراہت، مدلل و تہور آمیز لب و لہجہ، حد درجہ متین اور شائستہ انداز تکلم، مشفقانہ و شفیقانہ نظریں، ابھرے ہوئے عارض، مہین لب، ترکی ٹوپی پہنے ہوئے، انتہائی پر وقار چال ڈھال، ٹپ ٹپ رستا شکوہ، ملکوتی صفات کا مرقع، عود و مجمر کی طرح سلگتے ہوئے، خوشبوئیں بکھیرتے ہوئے، سراج علم، صاحب دل، مدحت و ستائش سے میلوں پرے، اردو ڈائجسٹ اور کاروان علم فاونڈیشن کے بانی و سرخیل زمین اوڑھ کر سو گئے،آہ!۔۔۔۔۔۔ آپ وہ عبقری شخصیت تھے جنہوں نے خود دیے کی طرح جل کر، تپ کر، سوزاں ہو کر اک عہد کو روشن کیا، علم کے جویاؤں کے لیے، ریگزاروں میں، دشت و صحراؤں میں قندیلیں روشن کیں، کاروان سرائے بنائے۔ علم و حلم کے بادل برسائے۔ اک عہد کو یتیم کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب، رزق خاک ہوئے۔

بے آسراؤں، یتامی اور بیواوں کا ملجا، پیوند خاک ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کا خمیر محنت کی مٹی اور خدمت کے آب زلال سے گندھا ہوا تھا۔ آزادی سے پہلے جس دور میں آپ نے آنکھ کھولی، اس کی تہہ میں بے چینی اور اضطراب تھا۔ افراتفری کے اس عہد میں انتہائی غریب گھرانے میں اک لڑکے نے آنکھ کھولی، جو آنے والے زمانے میں بطل عظیم بن کے طلوع ہوا۔ حصول علم کا آپ کو ایسا روگ لگا کہ آپ مدرس ابجد خوانی سے علی گڑھ کالج پہنچے، وہاں کے علمی و کیف آور اور علم سے لذت کشید کرنے والے مرزبوم سے جامعہ پنجاب پہنچے اور پھر یہیں کہ ہو کر رہ گئے بعد کو شعبہ تاریخ سے اک پروفیسر کی حثیت سے سبکدوش ہوئے۔ علی گڑھ کالج کی روایات، تہذیب اور تمدن اب تک آپ کے لہو میں پلٹے کھاتا تھا،طرارے بھرتا تھا۔ زندگی نے کئی اسباق آپ کو از بر کرائے، تلخ ایام دکھائے، کڑوے، کسیلے گھونٹ پلائے مگر آپ کے پائے استقلال میں خفیف سی جنبش بھی نہ آئی، رتی برابر بھی نہ لڑکھڑائے۔ شاید یہ سرسید احمد خان کی ہی کی تعلیمات کا اثر تھا کہ آپ نے اپنی تعلیمات کیحصول کے لیے جو کٹھنائیاں اور پر اسرار راہیں طے کیں اں کو آنے والے نسل کے لیے کم کرنے اور آسانیاں پہنچانے کے لیے لیے کاروان علم فاونڈیشن ایسے ادارے کی بنیاد دالی جو کہ زندہ رود کی طرح اب تک مکمل شادابی و تازگی کے ساتھ چل رہا ھے۔

جب تک کاروان علم فاونڈیشن کا نام زندہ رھے گا، یہ ادارہ قائم رھے گا، تب تک ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب زندہ رہیں گے، ادراے اور اس سے وابستہ حضرات کے دل میں خوشبو کی طرح مہکتے رہیں گے۔ آج صحافت کے پر شکوہ افق پہ جو جلیل القدر شخصیات انتہائی تمکن سے براجمان ہیں، اک الگ اسلوب اور طرز نگارش کے ابتکار کنندہ ہیں، ان سب کی اور اردو ڈائجسٹ ایسے رسالے کی آبیاری کرنے والے مرد حر بھی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب تھے۔ آئین شجاعت و آئین بسالت کا اک بہترین نمونہ۔ آپ پیرانہ سالی کے باوجود، اپنے وقت پہ دفتر آتے اور سب کام آج کے نوجوان سے زیادہ خوش اسلوبی اور پھرتی سے سرانجام دیتے۔ آپ کے اندر خون نہیں، بجلیاں ڈوڑتی تھیں جس نے آپ کو بوڑھا نہ ہونے دیا تاوقتیکہ آپ موت کی آغوش میں نہ چلے گئے۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی مقصود تھا! ابھی کل ہی کی تو بات تھی جب انہیں مولانا مودودی کی تصنیف، ترجمتہ القرآن میں ڈوبے ہوئے دیکھا تھا. دم واپسیں تک، ہمدم دیرینہ کے مرادف، نہ آپ نے کتاب کو، اور نہ ہی کتاب نے آپ کو چھوڑا۔ آہ! دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی لطیف روح قفس عنصری سے پرواز بھر گئی۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جب بھی نشست ہوتی، آپ ماضی کے واقعات کو کریدتے رہتے، ماضی کی حکایات سناتے رہتے، طلبا کو علمی کتب کے  مطالعہ کے لیے ابھارتے رہتے۔

غالب نے اسی لیے کہا تھا:

یاد ماضی عذاب ھے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا 

ملازمین سے آپ کا رویہ نہایت مشفقانہ تھا، آپ کے قریب سب سے قیمتی متاع انسانیت کی عزت و خدمت تھی۔ ملازمین کی اغلاط پر انہیں ہمیشہ شفیق باپ کی طرح سمجھاتے، انتہائی گھلاوٹ سے ڈانٹ پلاتے، زندگی کی پر اسرار،  پر خطر اور خطر اندیش راہوں سے آگاہ کرتے۔ سب سے خوبصورت عمل جو ہمیشہ سب کا دامن دل کھینچتا تھا وہ یہ کہ،آپ دفتری کارروائیاں ہمیشہ اردو میں کرتے، خوش خط طلبا اور ملازمین کو بے حد سراہتے، بد خط طلباء  اور ملازمین کو خوش خطی کے لیے اکساتے رہتے۔ آپ کو یادداشت کے پنوں سے نہ تو فراموش کیا جا سکتا ھے اور نہ ہی مٹایا جا سکتا ھے۔ ڈاکٹر صاحب کی وفات کے حادثہء فاجعہ کے بعد بے شمار طلباء پھر سے یتیم ہوئے ہیں۔ اب آپ نہیں، صرف آپ کی یاد آئے گی، آپ کا شربت دیدار اب روز آخرت ہی کو دست یاب ہو گا۔ اب، آپ باغ بہشت میں رحمت خداوندی کے سائے میں ہیں۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

مزید :

رائے -کالم -