کتاب سے رشتے کی آخری صدی تو نہیں 

کتاب سے رشتے کی آخری صدی تو نہیں 
کتاب سے رشتے کی آخری صدی تو نہیں 

  

حسیب سے میری ملاقات ایک بک اسٹال پر ہوئی۔ ایک کتاب کی تلاش میں ہم دونوں میں سلام دُعا ہوئی تو بات تعارف تک جا پہنچی۔ وہ ایک بہت ہی اچھی کمپنی میں ملازم تھا اورکتابیں پڑھنا اس کا شوق تھا۔مَیں نے اس سے اِس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا اس کی وجہ ”سفری کتب خانہ“ ہے۔ مَیں نے بڑی حیرت سے پوچھا یہ کیا ہے؟ کہنے لگا کہ کوئی پندرہ سال پہلے دو بسیں گوجرانوالہ اور بہاولپور میں چلتی تھیں، جن کو ہم ”سفری کتب خانہ“ کہتے تھے۔ ان بسوں کے اندر پوری لائبریری تھی جو کہ تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار تک کتابوں پرمشتمل تھی۔مَیں گورنمنٹ سکول سے پڑھا ہوں تو یہ بس ہر پندرہ دن کے بعد میرے  سکول کاVisitکرتی اور پندرہ دن کے لئے ہمیں اپنی پسند کی کتابیں پڑھنے کومل جاتیں۔مَیں اور میرے اکثر کلاس فیلو زبڑے ہی شوق اور دلجمعی کے ساتھ اس بس کا انتظار کیا کرتے تھے کہ کب یہ آئے اور ہم نئی کتابیں یہاں سے Issueکروا سکیں۔ اس بس کے اندر اے۔سی کی سہولت میسر تھی اور اس کے ساتھ ساتھ ہر وقت VCRبھی چلتا تھا، جس میں معلوماتی وڈیو زدکھائی جاتیں۔ مجھے بتا رہا تھا کہ کتاب سے شوق و محبت مجھے اُس وقت سے ہے،ہر مہینے جب تک کوئی ایک کتا ب نہ پڑھ لو ں تو مجھے سکو ن نہیں ملتا اور یہ سلسلہ تقریباً پانچ سال تک چلتا رہا۔

کچھ سال پہلے دُنیا میں تحقیق ہوئی تو یہ دیکھا گیا کہ کامیاب اقوام کے لوگوں میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ کتابوں سے محبت کرتے ہیں، اُن کو روز مرہ کے معاملات میں سے 5 منٹ بھی فارغ مل جائے تو وہ جیب یا اپنے بیگ سے کتاب نکال کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یورپ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ جو کتاب پڑھ لیتے ہیں وہ اپنے گھر کے باہر کوئی چھوٹا سا Rack  بنوا کر اُس کے اندر وہ کتابیں رکھ دیتے ہیں تاکہ باقی لوگ بھی اُن کتابوں سے مستفید ہو سکیں۔ دنیا کی سب سے بڑی لائبریری Library of Congress جو کہ 1800ء میں قائم ہوئی اور اُس وقت اُس میں صرف 964 کتب تھیں اور 9 نقشہ جات تھے۔ لائبریری میں کتابوں کی درجہ بندی، یعنی Schemeکا آغاز بھی ”ایک خاص انداز سے کتابوں کو  ترتیب دینا“ بھی اسی لائبریری  سے ہوا۔ اب اس لائبریری میں تقریباً130ملین، یعنی13کروڑ کے قریب ذخیرہ مواد جن میں کتابیں، جنرل، اخبارات، میگزین، ریسرچ پیپر وغیرہ موجود ہیں اور ہر سال اس لائبریری میں 5لاکھ کُتب کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس لائبریری کا عملہ تقریباً 5ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس کا لائبریرین، جس وقت چاہے جب چاہے امریکہ کے صدر سے مل سکتا ہے۔

اب ہم آتے ہیں اپنے پاکستان کی طرف جہاں پر دو ادارے ایسے ہیں،جو کہ لائبریریوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اُن کو چلا رہے ہیں، جن میں ایک پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن اور دوسرا میونسپل کارپوریشن ہے۔ اگر آپ پنجاب میں لائبریریوں کی بات کریں تو Public لائبریری تقریباً 200کے قریب ہوں گی اور آپ ان کا بغور مشاہدہ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ 90فیصد سے زیادہ عملہ Non Professional اور hnical  Non Tecہے، جن کو لائبریریوں کے بارے میں الف بے بھی معلوم نہیں۔ان لائبریریوں میں آپ کو کوئی Disciplineنظر نہیں آئے گا اور نہ ہی ان کا بجٹ ٹھیک طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر2019ء ”لاہور قائداعظم لائبریری“ میں 3ڈائریکٹر جنرل تبدیل کئے گئے اور نہ کتابوں کی خریداری کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی۔کتابوں کی خریداری کا بجٹ بھی Cameras اور مختلف عام استعمال کی چیزوں پر صرف کر دیاگیا۔ آپ گوجرانوالہ کی Children Libraryاور جناح لائبریری ہی دیکھ لیں، آپ کو پتہ چلے گا کہ جوان کے انچارج اور Headہیں وہ  Non Professional ہیں یا کسی اور Departmentسے Transfer ہوکر یہاں اعلیٰ عہدے اور اعلیٰ تنخواہ کا مزالے رہے ہیں۔

اسی طرح  E-Library کے نام سے منسوب ہونے والی لائبریریوں کے ساتھ بھی ویسا ہی ناروا اوربُرا سلوک کیا جا رہا ہے۔ایسی بے شمار مثالیں آپ کو عام نظر آئیں گی ان سب حالات کو دیکھ کر دِل خون کے آنسو روتا ہے کہ  ان سب سہولتوں اور ورثوں کو یہ لوگ کس طرح بے دردی سے پامال کر رہے اورCorruptionکی نذر کر رہے ہیں،مگر کوئی بھی ان کا  چیک اور توازن Check and Balanceاور جوابدہی Accountability کرنے والا موجود نہیں۔ مجھے ابھی تک حسیب کی آنکھوں کی وہ چمک نہیں بھولتی جب وہ ”سفری کتب خانہ“ کے بارے میں مجھے بتا رہا تھا کہ کتاب کے ساتھ میری دوستی اُ سی دور کی ہے، جب ان بسوں کا روٹ لاہور اور ملتا ن کی بجائے ایک گورنمنٹ سکول سے دوسرے گورنمنٹ سکول تک کا تھا۔ کتاب سے بڑھ کر انسان کی تنہائی کا کوئی ساتھی نہیں،کتاب انسان کو امن، محبت، چاشنی اور ماں کی ممتا کا احساس دلاتی ہے۔اسSocial Media کے دور میں ہم پہلے ہی کتابوں سے بہت پیچھے ہوتے جا رہے ہیں اور کچھ ان لائبریریوں کے مسائل نے کر دیا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کہیں یہ ”کتاب سے رشتے کی آخری صدی تو نہیں“۔

مزید :

رائے -کالم -