ملک کی خراب معیشت اور حکومت کی کارکردگی

ملک کی خراب معیشت اور حکومت کی کارکردگی

  

وزیر اعظم عمران خان گزشتہ 2 سال اور 3 ماہ سے اس منصب پر فائز ہیں، ان کے ساتھ50سے زائد وزراء، مشیران اور معاونین بھی متعین ہیں، لیکن عوام کے مسائل اور مشکلات کے حل کے بارے میں ان کی کارکردگی ناکام چلی آ رہی ہے، حالانکہ وہ اسی سرزمین کے باشندے ہیں۔ انہوں نے اپنی سات دہائیوں پر محیط زندگی زیادہ تر یہیں گزاری ہے اگرچہ وہ کرکٹ کے بین الاقوامی کھلاڑی کی حیثیت سے کئی بار دیگر ممالک میں بھی رہے، لیکن ان کی زیادہ دلچسپی اسی کھیل میں بہتر کارکردگی دکھانے پر ہی مرکوز رہی، جس میں پاکستان کی قومی ٹیم  1992ء میں آسٹریلیا میں ورلڈ کپ کا اعزاز جیتنے میں کامیاب رہی، جس پر انہیں آج تک خراج تحسین پیش کیا جاتا  ہے۔ ان حقائق کو ان کے مداح بلکہ عام لوگ اور حریف بھی، بلا کسی عذر و اعتراض تسلیم کرتے ہیں۔

ملک کی خراب معیشت کو درست کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے کئی بار گریز کا اعلان کرنے کے باوجود عمران خان نے اس ادارے سے رجوع کرنے پر ہی توجہ دی۔ اپنا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم برائے حصول قرضہ یا امداد سعودی عرب چین اور متحدہ عرب امارات گئے۔ وہاں سے اربوں ڈالر کے قرضے لینے پر انہیں کچھ خوشی اور اطمینان محسوس ہوا۔ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے پر قرضہ دینے والے ممالک نے ان کی واپسی کی مدت میں کچھ توسیع کر کے غریب ممالک کی مالی مشکلات میں قدرے سہولت فراہم کر دی ہے۔ اس طرح امید تھی کہ وہ ملک کو درپیش، معاشی مسائل سے نبرد آزما ہو کر ان کی بہتری کے اقدامات بروئے کار لانے میں کامیاب ہو کر قوم کو مثبت نتائج فراہم کر سکیں گے، لیکن ان کی حکومت کو بھاری رقوم پر مبنی مزید قرضے لینا پڑ گئے۔ یوں ملکی معاشی حالات کو درست کرنے کے ان کے ارادے اور خواب پورے ہونے کی بجائے ہوا ہو گئے جس سے ان کی حکومت کو بہت مایوسی اور پریشانی کے حالات سے دو چار ہونا پڑا۔

عمران خان ہمیشہ سابقہ حکومتوں کی ٹیکس کم جمع کرنے کی کارکردگی پر بھی بہت  اعتراض کیا کرتے تھے کہ وہ ٹیکس کی بڑی رقوم اکٹھی کرنے میں کوتاہی اور لاپروائی کا مظاہرہ کر کے اپنی ذمہ داریوں کی صحیح ادائیگی میں ناکام رہے ہیں، جبکہ عمران خاں اپنی شب و روز کی محنت کے باوجود سابق وزیر اعظم نوازشریف کے دور حکومت کی رقم کے برابر بھی ٹیکس وصول نہ کر سکے، حالانکہ وہ آئے روز ایف بی آر کے افسروں کو اس بارے میں بڑی باقاعدگی سے احکامات اور ہدایات دیتے رہے۔ ستم یہ ہے کہ وزیر اعظم کے گزشتہ 2 سال اور 3 ماہ کے دورِ اقتدار میں عام لوگوں کے استعمال کی اشیائے خورد و نوش اور دیگر ضروریات اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ ملک بھر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں لوگ ان کو خریدنے کی سکت سے محروم ہو گئے ہیں۔ جبکہ نوازشریف کے دورِ اقتدار میں ان کی قیمتیں نسبتاً کافی کم اور لوگوں کی قوتِ خرید میں ہونے کی وجہ سے بآسانی ہر جگہ دستیاب تھیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ آٹا، چینی، چاول، سبزیاں، پھل انڈے، گوشت، دودھ، دہی اور ڈبل روٹی وغیرہ گزشتہ  2 سال سے بہت گراں نرخوں پر دستیاب  ہیں۔ اس کے باوجود عمران خاں تا حال اپوزیشن کے راہنماؤں کو چور، ڈاکو اور لٹیرے کہہ کر اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں، حالانکہ معاشی بدحالی درست کرنا اور ضروری اشیاء کی ارزاں قیمتوں پر فراہمی ان کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -