امریکہ،بھارت بڑھتا ہوا عسکری تعاون (1)

امریکہ،بھارت بڑھتا ہوا عسکری تعاون (1)
امریکہ،بھارت بڑھتا ہوا عسکری تعاون (1)

  

گزشتہ دنوں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے نئی دہلی کا سفر کیا اور بھارتی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک انتہائی اہم اور حساس دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ سٹریٹیجک نوعیت کا ہے جو بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور عسکری تعلقات کا غماز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے دفاع اور خارجہ امورکے وزراء یہاں آئے اور معاہدے پر دستخط کئے، اسے ”تبادلے اور تعاون کا بنیادی معاہدہ“……BASIC EXCHANGE AND COOPERATION AGREEMENT …… یعنی BECA قرار دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امر یکہ،ہندوستان کو ایسی خفیہ زمینی و فضائی معلومات اور مواد فراہم کرے گا، جن کا تعلق عسکری اور دفاعی شعبے سے ہو گا۔ اس طرح ہندوستان کی عسکری قوت کو موثر اور نا قابل تسخیر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دو اہم امریکی وزراء خطے کے دورے پر آئے،انہوں نے سری لنکا اور مالدیپ کا بھی دورہ کیا، تاکہ انہیں بھی اپنے دائرہ اثر میں لے سکیں، لیکن یہ سب کچھ بقول امریکہ،خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی و تجارتی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے،لیکن یہ ادھورا سچ ہے۔ نشانہ صرف چین نہیں ہے……نئی دہلی میں امریکی وزیر خارجہ نے لداخ میں ہند،چینی سرحدی تناؤ کے بارے میں کھل کر بات کی اور چین کو ”حملہ آور“ قرار دے کر بھارتی موقف کو درست قرار دیا،جبکہ سری لنکا کے دورے میں چین کو کھل کھلا کر   ”گھس بیٹھیا“ یعنی ”جارح“ کا لقب دیا۔ چین نے امریکی وزیر خارجہ کے ایسے بیانات کو ”سرد جنگ کے دور کی ذہنیت“ قرار دیتے ہوئے خبر دار کیا اور کہا کہ وہ چین اور علاقائی ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے اختلافات کے بیج نہ بوئے اور علاقائی امن اور ترقی کے امکانات کی نفی کرنے کی کاوشیں ترک کر دے“۔

9/11کے بعد عالمی سطح پر معاشی و سفارتی میدان میں ہی نہیں، بلکہ عالمی سٹریٹیجک محاذ پر بھی تبدیلیاں رونماہو رہی ہیں جنگ عظیم اول نے استعماری طاقتوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا جبکہ دوسری جنگ عظیم نے امریکہ کو عالمی طاقت کے منصب پر سرفراز کیا اور برطانیہ عالمی طاقت کے منصب جلیلہ سے فارغ ہو گیا۔اسی دوران اشتراکی روس ایک متبادل عالمی طاقت کے طور پر اُبھرا۔ فکر ی،سفارتی و عسکری محاذ پر امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے مقابلے میں اشتراکی روس خم ٹھونک کر سامنے آیا۔امریکہ اور روس نے سفارتی و عسکری اتحاد قائم کر کے اپنے اپنے حامی وحواری ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا، نصف صدی تک یہ محاز آرائی جاری رہی، ناٹو اور وار سا پیکٹ اسی دور کی متحارب پالیسیوں کی عملی تعبیرتھے۔ طرفین نے اربوں نہیں، کھربوں ڈالر کے وسائل اس سرد جنگ کی نذر کئے۔ انسانوں کی تعمیر و ترقی کی بجائے انسانوں کی تخریب و تباہی کے سامان پیدا کئے جا تے رہے،حتیٰ کہ 90کی دہائی میں افغانستان میں عسکری شکست کے بعد عظیم اشتراکی ریاست کا شیرازہ بکھر گیا۔ امریکہ نے واحد سپر طاقت کے طور پر من مانیاں کرنا شروع کر دیں، مشرق وسطیٰ کی نئی جغرافیائی تقسیم کی باتیں ہونے لگیں، سفید انسان کی عالمی حاکمیت کاچر چا ہونے لگا، مغربی تہذیب کی برتری کا پروپیگنڈہ کیا جانے لگا۔

9/11کے بعد امریکی عظمت کا جھنڈ ا لرزنے لگا، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کر کے امریکہ نے افغانستان پر آتش و آہن کی بارش شروع کر دی، 19سال تک امریکہ نہ صرف افغانستان، بلکہ عراق اور مشرق وسطیٰ میں برسر جنگ رہا، لیکن اسے کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی، عراق میں صدام حسین کی مستحکم حکومت کے خاتمے کے بعد یہاں امریکی اثرات تو نہ بڑھ سکے، لیکن شیعہ ایران کے اثر و نفوذ میں اضافہ ہو گیا افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں پٹ جانے کے بعد امریکہ یہاں سے نکل رہا ہے، ایسے ہی جیسے سوویت یونین نکلا تھا۔ امریکی ہیبت اور عظمت کا بت پاش پاش ہو چکا ہے۔ چین ایسے ہی عالمی طاقت کے منصب جلیلہ کی طرف بڑھ رہا ہے، جیسے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ عالمی طاقت بننے جا رہا تھا اور برطانوی عظمت کا سورج غروب ہو رہا تھا۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے چین ”بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے“کے ذریعے دنیا کے تین براعظموں میں پنجے گاڑھ رہا ہے، چین،پاکستان اکنامک کاریڈور اسی عالمی، بلکہ بین البراعظمی منصوبے کی کلید ہے۔ امریکہ عالمی طاقت کے منصب جلیلہ کی طرف برھتے ہوئے چین کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر رہا ہے۔ اس کی راہ کھو ٹی کرنے کے لئے سر بکف ہو چکا ہے۔ اس طرح ایک نئی جنگ کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔

بحر ہند میں چین کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ چین نے بڑی سوچ بچار کے ساتھ ایشیا،یورپ اور افر یقہ کے ساحلوں اور سٹرکوں پر اپنی موجودگی  یقینی بنانے کا بندو بست کر لیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اسی سوچ بچار کا نتیجہ ہے۔ سی پیک اس عظیم الشان منصو بے کی کلید ہی نہیں، بلکہ شہ کلید ہے۔ امریکہ بھی بڑی ذہانت و عیاری کے ساتھ ان اہداف پر حملہ آور ہو رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے، پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن واربھی پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کر کے سی پیک سے دستبردار کرنے کی ایک کڑی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان کی مذہبی،تنگ نظر اور متعصب حکومت کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، تاکہ اسے پاکستان اور چین کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -