حکومت،پی ڈی ایم اور لاہور 

حکومت،پی ڈی ایم اور لاہور 
حکومت،پی ڈی ایم اور لاہور 

  

 ملک کا موسم اور سیاسی درجہ حرارت دونوں کم ہونے کا نام نہیں لے رہے، حکومت اور اپوزیشن  ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع  ہاتھ سے نہیں جانے دے رہیں،اگر یہ لڑائی اسی طرح چلتی رہی تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا، اس سے پہلے کہ ”ایک کی چونچ اور ایک کی دم  ہوجائے گم“،سب کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔اپوزیشن اکثر ایسے حالات میں فائدے میں رہتی ہے، اس لئے حکمرانوں کو اپنی حکومت کا عرصہ پورا کرنے کے لئے اپوزیشن کو بند گلی میں دھکیلنے کی بجائے راستے کھولنے چاہئیں۔ نواز شریف اور مریم نواز کا بیانیہ یکسانیت رکھتا ہے،ان کے اسی رویے کی بناء  پر پارٹی میں ہلچل ہے……، کسی زمانے میں ایک مولوی  ہلچل ہوا کرتے تھے  وہ میاں صاحب  کے جلسوں میں ”میاں نے مچا دی ہلچل ہلچل“ کے نعرے لگوایا کرتے تھے،اب میاں  نواز شریف  واقعی ہلچل مچانے کے موڈ میں ہیں، 13دسمبر کو لاہور میں ہونے والا جلسہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔

پیپلز پارٹی میں اختلافات نمایاں ہیں،چودھری اعتزاز احسن جیسے سنجیدہ لوگ پی ڈی ایم کی تحریک سے مکمل طور پر الگ ہیں اور کسی بھی جلسے میں سٹیج پر دکھائی نہیں دیئے۔اس حوالے سے وہ اکیلے نہیں بہت سے دیگر رہنماء بھی ان کے ہمنوا ہیں،ان لوگوں کا گمان ہے کہ موقع ملتے ہی نواز شریف،اپنا کام نکال کرپھر سے پیپلز پارٹی کے مقابل ہوں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)  کے بیانیہ میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے واضح فرق ہے،بلاول بھٹو کا پی ڈی ایم کی تحریک سے عملی طور پر الگ ہو کر گلگت بلتستان میں ڈیرے ڈالنا  ہے۔بلاول اس لڑائی کے انجام کے منتظر اور اس میں سے درمیانی راہ نکال کرخود کو اقتدار میں لانے کے لئے  قابل قبول بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  13دسمبر کو پی ڈی ایم لاہور کے جلسہ کی تیاری کر رہا ہے، اس جلسہ کو لیگی رہنماء فیصلہ کن اور حکومت کے خلاف ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں۔دیکھیں اس جلسے سے مسلم لیگ (ن) کیا فائدہ اٹھاتی ہے اور پیپلز پارٹی کو کیا حاصل ہوتا ہے؟…… کچھ لوگوں کا خیال ہے نواز شریف اور مریم نواز اس جلسے میں کوئی بہت اہم اعلان کرنے والے ہیں، مریم نواز کی ”شیر جوان تحریک“ کے جوانوں کو اس جلسے میں اہم ٹاسک دئیے جانے کا بھی امکان ہے۔ دوسری طرف  جلسے کے روز کچھ لیگی ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کی طرف سے پارٹی سے لا تعلقی کا اعلان کرانے کے لئے بھی بعض طاقتیں متحرک ہیں ۔

سیاسی تحریکوں اور جلسوں کے حوالے سے لاہور کی ایک تاریخی وسیاسی اہمیت ہے۔ ماضی میں یہاں  ہونے والے دو جلسے انتہائی کامیاب اور تاریخی حیثیت کے حامل ہیں،ایک جلسے سے بینظیر بھٹو اور دوسرے سے عمران خان نے خطاب کیا تھا، جبکہ دونوں اپوزیشن میں تھے،اور دونوں کے ون پارٹی شو تھے جبکہ ْپی ڈی ایم کا جلسہ گیارہ جماعتوں کا مشترکہ شو ہے، دیکھیں اپوزیشن کی توقعات پوری ہوتی ہیں یا نہیں؟تاہم یہ جلسہ پنجاب حکومت کا بھی امتحان ہے۔کوئٹہ اور پشاور میں تخریب کار اپنی مذموم کارروائی میں کامیاب ہو گئے،اسی کی روشنی میں پنجاب حکومت سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سخت اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کو کسی سانحہ  سے بچنے کے لئے سر جوڑنا اور مذکرات کی میز پر آنا ہو گا،اس کے لئے ضروری ہے کہ الزامات کی گرد اڑانا اور تنقید کے نشتر برسانا چھوڑ کر ہر کوئی خود احتسابی کرے اور اپنی اپنی غلطیوں و کوتاہیوں کا جائزہ لے کر مفاہمت کی راہ نکالے۔

اس موقع پر اگر مفاہمانہ رویے سے گریز کیا گیا تو افراتفری پھیلانے کا پلان کامیاب ہو جائے گا اور جیسے ماضی میں جمہوری لوگوں کی غلطیوں سے غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع ملا، ایسا ہی کوئی اقدام نا ممکنات میں سے نہیں،اگر چہ اس کی توقع نہیں ہے۔یہ وقت ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے امن پسند رہنماء  دیگر محب وطن اور مفاہمت پسند جماعتیں مل کر ایسی منصوبہ بندی کریں جس سے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے ورنہ کھیل بگڑ سکتا اور پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور سب پکڑ میں بھی آئیں گے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کردار اس حوالے سے اہم ہے کہ جلسے کو فیصلہ کن بنانے والوں کے جواب میں وہ کیا فیصلے کرتے ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت جلسے کے لئے فری ہینڈ دے، تاہم جہاں قانون شکنی ہو وہاں قانون کو حرکت میں لایا جائے،عثمان بزدار اگر چہ ماضی میں اپوزیشن کے حوالے سے وضعداری اور فراخدلی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اب بھی ان سے اسی کی توقع ہے،اس کے ساتھ حکومت کو اتحادی جماعتوں اور معتدل مزاج سیاسی جماعتوں سے روابط بھی بڑھانے ہوں گے تاکہ ملکی سیاست میں بہتری آ سکے۔

مزید :

رائے -کالم -