چراغ تلے اندھیرا

چراغ تلے اندھیرا
چراغ تلے اندھیرا

  

پاکستان انفارمیشن کمیشن نے نیب کے چیئرمین اور افسران کے اثاثوں کی تفصیلات عام کرنے کی درخواست کو رد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ان افسران کے اثاثے ظاہر کرنے سے ان کی پرائیویسی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور اثاثوں کی نجی معلومات کو ظاہر کرنا مفادِ عامہ میں نہیں،مجھے ذاتی طور پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اس فیصلے سے ذہنی کوفت ہوئی ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ نیب کے افسران کے اثاثے اور اہل خانہ کی جائیدادیں سب سے پہلے ظاہر ہونی چاہئیں۔ شفاف احتساب کا تقاضا تو یہی ہے کہ اس کا آغاز گھر سے کیا جائے۔ کمیشن کے فیصلے میں یہ عجیب منطق بیان کی گئی ہے کہ اگر نجی اثاثے ظاہر کئے گئے تو ان افسران کی آزادی متاثر ہو گی جو مفادِ عامہ کے خلاف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے کو اگر اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جاتا ہے تو کیا فیصلہ آتا ہے؟ کیونکہ یہ بات آئین کی روح کے خلاف ہے کہ ملک میں امتیازی قانون رائج کیا جائے، باقی تمام سرکاری ملازمین، سیاستدانوں، ججوں اور دیگر افراد کے لئے تو اثاثے ظاہر کرنا لازمی اور ان تک رسائی بھی ہر شخص کے لئے ممکن ہو، لیکن نیب والوں کو مقدس گائے قرار دے کر اس قانون سے باہر کر دیا جائے۔

یہ فیصلہ اس حوالے سے بھی متنازعہ قرار پائے گا کہ خود نیب تو ہر شخص کے نجی اثاثے کھنگالتا ہے، ڈھونڈتا ہے، تلاش کر کے کیس بناتا ہے، بال کی کھال اتارتا ہے، مگر خود اس سے ماورأ قرار پاتا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس کے حوالے سے یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ ان کے اثاثے تلاش کرنے کے لئے تمام ریاستی ادارے استعمال کئے گئے، حتیٰ کہ جاسوسی بھی کی جاتی رہی۔ انہی معلومات کی بنا پر ایک ریفرنس بنا کر سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا جس کے خلاف قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور سپریم کورٹ نے یہ ریفرنس غیر قانونی قرار دے کر خارج کر دیا، گویا ایک جج کو بھی نجی اثاثوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا،مگر اس پر کوئی احتجاج نہیں ہوا، اب اسی ملک میں اگر احتساب کرنے والے سب سے بڑے ادارے کے افسران کو یہ تحفظ دے دیا جاتا ہے کہ وہ جو مرضی کریں، ان کے بارے میں نہ تو معلومات سامنے آئیں گی اور نہ نجی اثاثوں کی بنیاد پر کوئی کارروائی ہو گی تو اسے کیا کہا جائے گا؟ چاہئے تو یہ تھا کہ چیئرمین نیب خود آگے بڑھ کر یہ پیشکش کرتے کہ نیب افسران اور خود ان کے اثاثوں کی معلومات نیب کی ویب سائٹ پر موجود ہیں، کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے، مگر ایسا کرنے کی بجائے اُلٹا انہوں نے انفارمیشن کمیشن میں کیس لڑا اور نیب افسران کے حق میں فیصلہ حاصل کر لیا۔

ہر ادارے کا قانون کے علاوہ ایک اخلاقی معیار بھی ہوتا ہے۔ ہم باتیں ریاست مدینہ کی کرتے ہیں اور کام کوفے والوں جیسے ہوتے ہیں۔ کیا حضرت عمرؓ نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لئے پیش نہیں کیا تھا اور کیا ہر شخص کو یہ اختیار نہیں دیا تھا کہ وہ ان سے حساب مانگ سکتا ہے، حتیٰ کہ ان کپڑوں کا بھی جو انہوں نے پہن رکھے ہوں ایسے میں کسی ایسے ادارے کے افسران کو قانون سے ماورأ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو ریاستی طاقت استعمال کرتا ہو اور جس کا کام یہ کھوج لگانا ہو کہ کس نے سرکاری اختیار کے ناجائز استعمال سے غیر قانونی اثاثے بنائے؟ نیب کے بارے میں پہلے ہی بیسیوں کہانیاں گردش کر رہی ہیں پلی بارگین کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے حصہ تو الگ وصول کیا جاتا ہے، پلی بارگین طے کرتے ہوئے کیا دال دلیہ ہوتا ہے اس بارے میں بھی ہزار داستانیں موجود ہیں جہاں بے محابہ اختیارات ہوں وہاں لا محالہ کرپشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ممکن ہے نیب کا اندرونی احتسابی نظام خاصا مؤثر ہو۔ لیکن ہم نے تو آج تک نہیں سنا کہ کسی نیب افسر پر بھی کرپشن کے الزم میں کوئی ریفرنس دائر کیا گیا ہو، کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہو؟ انفارمیشن کمیشن کی یہ منطق نہایت بھونڈی ہے کہ اثاثوں کی نجی معلومات کے افشاء سے نیب افسران کی پرائیویسی متاثر ہو گی۔ اگر اثاثے آمدنی کے مطابق اور ڈیکلیئرشدہ ہیں تو ان کے ظاہر ہونے سے کیا دباؤ پڑ سکتا ہے، متاثر تو وہ شخص ہوتا ہے جس نے ناجائز اثاثے بنا کر چھپا رکھے ہوں اور اسے نیب کے چھاپے کا ڈر ہو۔

نیب پہلے ہی احتساب کے حوالے سے اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور اس الزام کی زد میں ہے کہ اسے سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ آئے دن چیئرمین نیب اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ ”نیب فیس نہیں کیس دیکھتا ہے“ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ نیب کی ہر دور میں توجہ اپوزیشن کی طرف مبذول رہی ہے اور عہد موجود میں بھی ایسا ہی ہے۔ اس تناظر میں جب چیئرمین نیب اور نیب افسران کو اثاثے خفیہ رکھنے کی سہولت دینے کا فیصلہ سامنے آتا ہے تو یہ تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ نیب ایک ماورائے آئین ایک سپر ادارہ ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ بھی اپنے کئی فیصلوں میں نیب کے اسی کردار پر تنقید کر چکی ہے۔ یہ بات احتساب کے کسی معیار سے لگا نہیں کھاتی کہ احتساب بیورو کے افسران کو ماورائے احتساب قرار دے دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -