گلگت۔ بلتستان کا مشروط صوبائی سٹیٹس

گلگت۔ بلتستان کا مشروط صوبائی سٹیٹس
گلگت۔ بلتستان کا مشروط صوبائی سٹیٹس

  

گلگت۔ بلتستان میں الیکشن تو 15نومبر کو ہوں گے لیکن بلاول صاحب ایک ماہ پہلے ہی وہاں جا کر بیٹھ گئے۔ باوجود اس کے کہ پی پی پی پی ڈی ایم میں دوسری بڑی سیاسی پارٹی ہے، انہوں نے بلوچستان جانے کی بجائے جی بی کا رخ کیا اور وہیں سے وڈیولنک کے ذریعے کوئٹہ کے جلسے سے خطاب کیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ جی بی کی محبت میں اتنے اسیر کیوں ہیں اور ان کی پارٹی کے مفادات ان علاقوں سے کیا ہیں؟ کیا وہ پہلے بھی گاہے بگاہے جی بی کے دورے کرتے رہے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ آج ان علاقوں میں کیوں مارے مارے پھر رہے ہیں؟

انہوں نے گھانچے میں جلسہ کرکے اپنے دوروں کا آغاز کیا اور پھر شگر، سکردو، گلگت، غذر اور یاسین وغیرہ میں جلسیوں سے خطاب کرتے رہے۔ ان چھوٹے چھوٹے جلسوں کی کوریج اگر آپ نے ٹی وی چینلوں پر دیکھی ہو گی تو آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کتنے لوگ ان جلسیوں میں شریک ہوتے رہے۔ مٹھی بھر لوگ تھے جو ان جلسیوں میں شریک ہوتے رہے اور بلاول کی تقریروں کا ایجنڈا اگر کوئی تھا تو یہی تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ یہ مہربانیاں کیں اور وہ عنایات کی بارشیں کیں!

بلاول صاحب کو شاید معلوم نہیں کہ جی بی کے عوام کی اکثریت کے لئے لفظ ’شہید‘ کیا معنی رکھتا ہے۔ ان کا شہید تو لالک جان (نشانِ حیدر) ہے۔ ان کو شہید بھٹو اور شہید محترمہ سے کیا لینا دینا؟…… بلاول صاحب نے اگر ان علاقوں کی تاریخ پڑھی ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ گلگتیوں اور بلتستانیوں کے ہاں شہید کا مفہوم کیا ہے۔ پاکستان تو 14اگست 1947ء کو وجود میں آیا لیکن  یہ علاقے 14اگست 1947ء سے لے کر 31 اکتوبر 1947ء تک (اڑھائی ماہ) پاکستان نہیں، مقبوضہ کشمیر کے مہاراجہ کی عملداری شمار ہوتے رہے۔ بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ، مہاراجہ کا گورنر تھا جو ان علاقوں کا سکھ حکمران تھا۔ یہاں گلگت میں صرف ایک ہی فوجی یونٹ تھی جس کا نام گلگت سکاؤٹس تھا (آج بھی اس کا یہی نام ہے)۔ اس یونٹ کے سارے سپاہی مسلمان تھے اور مقامی تھے اور ان کے JCOs یہاں کے امراء کے رشتہ دار تھے۔ کوئی میرہنزہ ونگر کا چچا تھا تو کوئی گلگت کے حکمران کا بھائی، کوئی غذر کے حاکم کا تایازاد تو کوئی سکردو کی رعایا کا حکمران…… گلگت سکاؤٹس کا کمانڈنگ آفیسر ایک برطانوی میجر تھا جس کا نام میجر براؤن تھا اور اس کے ساتھ ایک انگریز اور بھی تھا جو اس کا 2IC تھا۔ یہ یونٹ گورنر گھنسارا سنگھ کے انڈر کمانڈ تھی لیکن جب پاکستان وجود میں آیا تو یونٹ کے مسلمانوں نے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ اور مہاراجہ کشمیر کے خلاف بغاوت کر دی۔ 31اکتوبر 1947ء کو اس یونٹ کے صوبیدار میجر بابر خان نے گلگت میں علمِ بغاوت بلند کیا اور بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا۔(گھنسارا سنگھ کو بعد میں پاکستان نے انڈیا کو واپس کیا)۔ یکم نومبر 1947ء کا سورج نکلا تو یہ علاقے آزاد ہو چکے تھے اور ان کے حکمرانوں نے باقاعدہ تحریری طور پر حضرت قائداعظم اور قائد ملت کے نام خطوط لکھ کر پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔

یکم نومبر 1947ء کو جب گلگت پر گلگت سکاؤٹس کے مسلمان ٹروپس کا قبضہ ہو گیا اور شہر بھر کے لوگوں نے مہاراجہ کی حکمرانی کا جواء کاندھوں سے اتار پھینکا تو اس علاقے کے مسلمانوں کے لئے ایک اور بڑا چیلنج سامنے آیا اور وہ یہ تھا کہ گلگت سے مشرق کی طرف چند سو میلوں کی دوری پر ایک قصبہ واقع تھا جس کا نام بونجی (Bunji) تھا۔ وہاں مہاراجہ کے دربار کی ایک اور یونٹ6کشمیرانفنٹری مقیم تھی۔ مہاراجہ کشمیر نے اسے حکم دیا کہ بونجی سے کوچ کرے اور فوراً گلگت پہنچے اور وہاں گلگت سکاؤٹس کے ’باغیوں‘ کو تہہ تیغ کرکے ان علاقوں پر مہاراجہ کی رٹ بحال کرے۔ اس یونٹ کی چار کمپنیوں میں دو ہندو / سکھ کمپنیاں تھیں اور دو مسلمان تھیں۔ کیپٹن حسن خان ایک سینئر کمپنی کمانڈر تھے۔ یہ یونٹ بونجی سے گلگت روانہ ہوئی اور راستے میں بھوپ سنگھ کی پڑی پر اس کا مقابلہ گلگت سکاؤٹس سے ہوا۔ گلگت سکاؤٹس نے صوبیدار میجر بابر خان کی قیادت میں اس سکھ یونٹ کو شکست فاش دی۔ کیپٹن حسن خان نے بھی بغاوت کر دی اور اس طرح یہ علاقے سکھ حکمران کے تسلط سے آزاد ہوئے۔

گلگت سکاؤٹس نے اس کے بعد اپنا ایڈوانس جاری رکھا اور گلگت سے سکردو، بونجی، کارگل اور لیہ تک جا پہنچی۔ اب 1948ء کا آغاز ہو چکا تھا اور کشمیر کی انڈوپاک جنگ عروج پر تھی۔ یہ جنگ 31دسمبر 1948ء کو ختم ہوئی۔ جنگ بندی کا معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں جنگ بندی لائن قائم ہوئی (لائن آف کنٹرول کی پیش رو) اور اس کے بعد کی تاریخ قارئین کو اچھی طرح معلوم ہے…… ہاں اگر معلوم نہیں تو ان علاقوں کی تاریخ اور ان میں لڑی جانی والی لڑائیوں کی تفصیل معلوم نہیں۔ جب راقم السطور کو ناردرن لائٹ انفنٹری کی تاریخ لکھنے کا پراجیکٹ سونپا گیا تو میں نے کافی تحقیق و جستجو اور اس جنگ کی ہیروز کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد 500سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب لکھی۔ ”این ایل آئی…… تاریخ کے آئینے میں“ ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹل سنٹر بونجی سے طلب کی جا سکتی ہے۔یہ باتصویر تصنیف ہے۔ کیپٹن بابر خان (جسے پاکستان آرمی نے کمیشن دے کر باقاعدہ پاک آرمی میں شامل کیا) تو وفات پا چکے تھے میں نے ان کے رشتہ داروں سے انٹرویو کیا، اسی طرح کرنل حسن خان کے صاحبزادوں سے بھی ملاقات ہوئی، گروپ کیپٹن شاہ خاں، ڈاکٹر عبدالحمید خان اور اس طرح اور کئی ایسے کرادر بھی تھے جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لیا اور یکم نومبر 1947ء کو ان علاقوں کو جو آزادی ملی، اس میں لازوال کردار ادا کیا…… اس کی باتصویر کہانی اس تصنیف میں موجود ہے۔

یکم نومبر 2020ء کو وزیراعظم عمران خان نے گلگت جا کر اس خطے کے لوگوں کو جی بی کے ایک الگ صوبہ ہونے کی جو مشروط خوش خبری سنائی، وہ ایک سنگ میل اعلان تھا۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس اعلان کے بعد بلاول صاحب وہاں بیٹھ کر کیا تیر ماریں گے۔

یہاں کے باشندوں کو خوب معلوم ہے کہ اصل ’شہید‘ کون ہوتا ہے اور ’سیاسی شہید‘ کی گردان کے پیچھے کیا سیاسی مفادات کارفرما ہوتے ہیں!…… دورانِ سروس اور اس کے بعد بھی میں جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو کئی بار ہنزہ، نگر، غذر، یاسین، چترال، گلگت، بونجی، سکردو، چلاس وغیرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ بونجی سنٹر میں تو کئی راتیں گزاریں۔یہ قصبہ عین دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ یہاں دریا کا شور اس قدر ہے کہ نووارد کو رات بھر نیند نہیں آتی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ گلگت کے بازاروں میں زیرہ سیاہ اور سلاجیت کی بہت مانگ ہے۔ یہاں کی میونسپل لائبریری دیکھنے کے قابل ہے۔ شیر محمد برچہ اس کے انچارج تھے، اور ان سے خط کتابت بھی رہی۔ گلگت کی مارکیٹ چینی سامان سے لبالب رہتی ہے۔ میری کور کے ایک آفیسر کرنل نور محمد خان خالد وٹو کی شادی کاشغر کے ایک مسلمان چینی گھرانے میں ہوئی۔ وٹو صاحب کے کزن گلگت میں پارچہ فروشی کے بڑے تاجر ہیں۔ چونکہ یہ علاقہ CPEC کا گیٹ وے ہے اس لئے یہاں کے باسیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ووٹ کس پارٹی کو دینا ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہ علاقے پاکستان کے دوسرے علاقوں کی نسبت پس ماندہ ہیں۔ قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے پہلے تو گویا یہ خطہ باقی پاکستان سے کٹا ہوا تھا۔ اب تو بائی روڈ سفر کی سہولیات عام ہیں۔ لیکن اب بھی بائی ائر سفر کی مشکلات وہی ہیں۔ یعنی مسافر زیادہ اور پروازیں کم…… مجھے بھی کئی بار دو دو تین تین روز تک راولپنڈی / گلگت میں رک کر جہاز کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب تو کئی برسوں سے وہاں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔

جو علاقہ تعلیمی لحاظ سے پس ماندہ ہو، وہ ’عقلی‘ لحاظ سے مقابلتاً آگے ہوتا ہے۔ تعلیم کا تعلق عقل سے نہیں کہ عقل ایک خداداد وصف ہے۔ تعلیم اس زیور کو صیقل ضرور کرتی ہے لیکن زرِ خالص کو چمکانے کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ جی بی (GB) کے باشندوں کو معلوم ہے کہ ووٹ کس پارٹی کو دینا ہے۔یہاں کے بظاہر اَن پڑھ عوام، لکھے پڑھے لوگوں سے زیادہ بالغ نظر ہیں۔ اپنی جنگِ آزادی (نومبر 1947ء) سے لے کر کارگل کی جنگ (مئی،جون1999ء) تک جی بی کے سینکڑوں ہزاروں نوجوانوں نے پاکستان کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ ناردرن لائٹ انفنٹری کے جوان اور آفیسرز لائقِ صد ستائش ہیں اور اب تو کئی برسوں سے اس رجمنٹ کی یونٹیں سارے پاکستان کے علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور پاکستان آرمی کے انفنٹری گروپ کا ایک مایہ ء ناز حصہ ہیں …… ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ لالک جان شہید (نشانِ حیدر) اور شہید بھٹو میں کیا فرق ہے!

جب سے وزیراعظم عمران خان نے گلگت جا کر اس علاقے کو صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے، انڈیا کو مرچیں لگی ہوئی ہیں۔ اس کا میڈیا چیخ چیخ کر واویلا مچا رہا ہے کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے…… ہم پاکستانی بھی تو 72سال تک یہی کہتے رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقے ہیں لیکن مودی نے 5اگست 2019ء کو اس کا خصوصی سٹیٹس ختم کرکے پاکستان کو کیا پیغام دیا؟…… ہم نے بھی تو مشروط (Provisional) طور پر اسے ایک صوبہ بنایا ہے…… کیا مودی نے بھی لفظ ”مشروط“ لگا کر 5اگست کا اعلان کیا تھا؟……

مزید :

رائے -کالم -